حکومت نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے سے ایک مرتبہ پھر روک سکتی ہے


وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ حکومت نان-فائلرز پر ایک مرتبہ پھر پابندی لگا کر انہیں گاڑیاں اور جائیداد خریدنے  سے روک سکتی ہے۔

18 ستمبر کو وزیر خزانہ اسد عمر نے 2018-19ء کے بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر عائد پابندی ہٹا دی تھی اور اس کے بعد سے معیشت پر اس کے مثبت و منفی اثرات پر بحث جاری ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پابندی کا خاتمہ ملک کی معیشت میں مثبت تبدیلی لائے گا کیونکہ حکومت زیادہ ریونیو حاصل کرے گی، جبکہ چند صنعتی ماہرین نے اس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ فائلرز کے ساتھ ناانصافی ہے اور اشارہ دیا کہ یہ قدم حکومت کی جانب سے لوگوں کو فائلر بنانے کے اقدامات کی بھی حوصلہ شکنی کرے گا۔

وزیر خزانہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نان-فائلر معاملے پر اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے لیے یہ انا کا مسئلہ نہیں ہے، درست توجہ پر ردعمل دکھایا جائے گا۔

معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے چند نئے اداروں نے کہا کہ نان-فائلرز پر پابندی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں البتہ دوسری جانب چند کا کہنا تھا کہ نان-فائلرز پر پابندی طویل میعاد میں آٹو انڈسٹری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

گزشتہ حکومت کی جانب سے نان-فائلرز پر پابندی فائلر بننے پر عوام کی حوصلہ افزائی  کے لیے لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کے بعد سوائے ٹویوٹا IMC کے گاڑیاں بنانے والے دیگر مقامی اداروں کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی۔ اور اب جبکہ پابندی اٹھا دی گئی ہے تو صنعتی ماہرین کو امید ہے کہ مقامی ادارے ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا منافع حاصل کر لیں گے۔

دیکھتے ہیں نان-فائلر معاملے پر حکومت کا اگلا قدم کیا ہوگا، تب تک کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top