پیٹرول کی قیمت 62.77 روپے فی لیٹر مقرر؛ پمپ مالکان نے فروخت بند کردی

Petrol Price Slashed

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ 29 فروری کو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 8.48 روپے فی لیٹر کم کیے جانے کے بعد مارچ 2016 میں پیٹرول 62.77 روپے فی لیٹر پر فروخت کیا جائے گا۔ پچھلے چند ماہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی کے بعد حکومت کی جانب سے ہر ماہ مقررہ قیمتوں میں بھی کمی کی جارہی ہے۔

پیٹرول کے علاوہ ہائی-اسپیڈ کی فی لیٹر قیمت میں 4.67 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 1.97 روپے فی لیٹر کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ مزید برآں ہائی –آکٹین کی قیمت میں بھی 2.98 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے گزشتہ ماہ قیمتوں میں 17 فیصد کمی تجویز کی تھی جسے وزیراعظم نے رد کرتے ہوئے صرف 5 روپے فی لیٹر کمی کا فیصلہ کیا تھا۔ اوگرا کی تجویز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ہونے والی ریکارڈ کمی کے بعد سامنے آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس؛ حکومت سے رعایت کی امید فضول ہے!

اس وقت بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ 12 سالوں کی نچلی ترین سطح پر موجود ہے۔ علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کے بعد خام تیل کی قیمت میں مزید کمی آنے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 40 روپے مقرر کرنے کی قرار داد بھی منظور کی جاچکی ہے۔ علاوہ ازیں حزب اختلاف کی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں بھی اسی قسم کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ گزشتہ ماہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ٹیکس کو مختص کردیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس خطے کا واحد ملک ہے جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں عام پاکستانی پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا۔ حکومتی دعوی کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 40 روپے فی لیٹر تک کردی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان پیٹرول پمپ مالکان کا موقف ہے کہ کم قیمت پر تیل کی فروخت سے انہیں بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔ اگر آپ بھی اس وجہ سے کسی پیٹرول پمپ سے پیٹرول یا ڈیزل کے حصول میں ناکام رہے ہیں تو تبصرے میں ضروری بتائیے۔

Top