سی این جی کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار اسٹیشن مالکان کو حاصل


حکومت نے سی این جی گیس کی قیمتیں متعین کرنے کا اختیار اسٹیشن مالکان کو دینے کا اعلان کردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 25 لاکھ سے زائد گاڑیاں سی این جی گیس استعمال کر رہی ہیں اور اب سے یہ سی این جی پمپ مالکان کے رحم و کرم پر ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق 20 دسمبر 2016 سے سی این جی مالکان کو نئی قیمتیں مقرر کرنے کا مجاز قرار دے دیا گیا ہے۔

اب سے تقریباً تین سال پہلے تک سی این جی گیس استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد 35 لاکھ کے لگ بھگ تھی تاہم سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گیس کا بحران پیدا ہوجانے کے بعد باعث تقریباً 19 لاکھ گاڑیوں کے مالکان نے متبادل ایندھن استعمال کرنا شروع کردیا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے سی این جی اسٹیشن کو گیس کی فراہمی دوبارہ شروع کیے جانے سے 6 لاکھ گاڑیاں سی این جی پر منتقل ہوئیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں سی این گیس کا سب سے زیادہ، لگ بھگ 70 فیصد، استعمال عوامی ٹرانسپورٹ (بس، رکشہ، ٹیکسی وغیرہ) میں کیا جارہا ہے۔

وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سی این جی شعبے کو اوگرا آرڈیننس 2009 میں ترمیم کے تحت ڈی-ریگولیٹ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ اس اعلامیے کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 13 دسمبر 2016 کو منظور کیا تھا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے سی این جی کی قیمت پر جنرل سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کا بھی کہا گیا ہے۔ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن (APCNGA) نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سی این جی شعبے کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔


Top