ٹریننگ کے بعد خواتین میں بائیکوں کی تقسیم

honda-cd-70-new-model-2017

مقامی حکومت نے ٹریننگ حاصل کرنے والی خواتین میں بائیکوں کی تقسیم کردی۔

مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، پنجاب حکومت خواتین کے سفر کو خودمختار بنانے اور دوسروں پر انحصار کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں، تقریباً 300 خواتین بائیکرز کو سرگودھا میں ٹریننگ دی گئی اور ان میں سے 100 خواتین نے حکومت کی بائیک سبسڈی اسکیم، ’ویمن آن ویلز پروگرام‘ کے تحت سبسڈائزڈ بائیکوں کے لیے درخواست جمع کروائی۔ مختلف کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے 40 بائیکیں خواتین کو دیدی گئی ہیں۔

اس اقدام کے پہلے مرحلے میں، صرف لاہور، فیصل اباد، ملتان، سرگودھا اور راولپنڈی کی خواتین کو اس اسکیم کے لیے اپلائی کرنے کی اجازت تھی۔ البتہ، حکومت اس پروگرام کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی پھیلانے کا عزم رکھتی ہے۔

ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے، ایک سابق حکومتی اہل کار کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین کے فعال کردار کے بغیر ترقی نہیں کی جاسکتی۔

ویمن آن ویلز پروگرام کا آغاز نومبر 2015ء میں کیا گیا تھا جس کا مقصد خواتین کو بائیک چلانا سیکھنے میں مدد دینا تھا۔

صرف حکومت ہی نہیں، بائیک رائیڈ کی خدمات فراہم کرنے والی مقامی کمپنیاں بھی ملک کی خواتین کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جیساکہ ایک مقامی رائیڈ سروس نے گزشتہ مہینے اپنے دستے میں ایک ہزار خواتین بائیک کپتانوں کو بھرتی کیا ہے۔

ہماری طرف سے فی الحال اتنا ہی، تبصرہ سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے گا۔


Top