تیل کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کم کرنے کی وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا


حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو مالی سال 2018-19ء کی پہلی ششماہی میں 60 ارب روپے کے نقصان کا سامنا متوقع ہے۔

عوام کو ریلیف فراہم کرنےکے لیے حکومت نے اگست، ستمبر اور اکتوبر میں سیلز ٹیکس کو کم کیا اور بوجھ خود اٹھایا۔ حکومت نے اگست، ستمبر اور اکتوبر 2018ء میں بالترتیب 30، 22 اور 63 فیصد سیلز ٹیکس کم کیا۔ بہت زیادہ متوقع ہے کہ نومبر کے مہینے میں بھی تیل کی آمدنی میں 46 فیصد کی فوری کمی آئے گی۔

موٹر آئل پر سیلز ٹیکس کم کرنے کے علاوہ حکومت نے جولائی، اگست اور ستمبر 2018ء کے لیے ہائی-اسپیڈ ڈیزل پر بالترتیب 9، 0.44 اور 7.5 فیصد کا اضافہ کیا البتہ اکتوبر میں سال بہ سال کی بنیاد پر حکومت نے اسے 15.54 اور نومبر میں 39.56 فیصد تک کم کیا۔

مزید برآں، حال ہی میں حکومت نے یکم نومبر 2018ء کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا، جو عوام اور ٹرانسپورٹرز کو ناگوار گزرا۔ نئی قیمتیں کچھ یوں ہیں:

وزارت خزانہ کی جانب سے بھیجا گیا نوٹس کچھ یوں ہے:

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکسز کم کردیے ہیں، اور اب ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس 12 فیصد اور پیٹرول پر 4.21 فیصد ہے۔

تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے آتے رہیے PakWheels.com پر۔


Top