سرکاری حکام نے سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کرنے کے لیے نئے کار سازوں سے میٹنگ کی

car

نئی آٹو پالیسی 2016-21 لاگو ہونے کے بعد بہت سے سرمایہ داروں نے پاکستان کے آٹو مابائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
سرمایہ داروں اور نئے کارسازوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس نئی آٹو پالیسی کے متعلق ان کے شکوک و شبہات پر جوابات دینے کے لیے 12 جولائی بروز منگل صبح 10 بج کر 30 منٹ پر بورڈ آف انوسٹمنٹ اسلام آباد میں منسٹری آف انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کے سیکرٹری اور بورڈ آف انوسٹمنٹ کے سیکرٹری کی مشترکہ سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی۔
درج زیل سرمایہ کاروں نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔
• ایم/ ایس کیولیر آٹو موٹوو کارپوریشن پرائیویٹ لیمیٹیڈ اسلام آباد
• ایم/ ایس فوٹون جے ڈبلیو آٹو پارک پرائیویٹ لیمیٹیڈ لاہور
• ایم/ ایس حبیب رفیق پرائیویٹ لیمیٹیڈ
• ایم/ ایس ہنڈائی نشاط موٹر پرائیویٹ لیمیٹیڈ لاہور
• ایم/ ایس خالد مشتاق موٹرز پرائیویٹ لیمیٹیڈ
• ایم/ ایس کیا لکی موٹرز پاکستان لیمیٹیڈ کراچی
• ایم/ ایس پاک چائنہ موٹرز پرائیویٹ لیمیٹیڈ کراچی
• ایم/ ایس ریگل آٹو موبائل انڈسٹریز لیمیٹیڈ کراچی
• ایم/ ایس یونائیٹیڈ موٹرز پرائیویٹ لیمیٹیڈ لاہور
اس میٹنگ میں سینئر جوائنٹ سیکرٹری ایم او آئی پی، سی ای او انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور منسٹری کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اے کیٹگری کا گرین فیلڈ سٹیٹس چار سرمایہ داروں کو دیا گیا ہے جن میں ہنڈائی نشاط موٹر پرائیویٹ لیمیٹیڈ، کیا لکی موٹرز پاکستان لیمیٹیڈ کراچی، ریگل آٹو موبائل انڈسٹریز لیمیٹیڈ کراچی، اور یونائیٹیڈ موٹرز پرائیویٹ لیمیٹیڈ لاہور شامل ہیں۔
ایک اعلی سرکاری افسر کے مطابق، ایک پلانٹ لگانے کے لیے 500 ملین ڈالر کی رقم درکار ہوگی جس وجہ سے مختلف کمپنیوں کے زریعہ ملک میں 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتہ میں دو مزید کمپنیاں اس میں شامل ہوں گی اور انہیں پاکستان میں اسیمبلی پلانٹ لگانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے کاغزی کاروائی مکمل کرلی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس سے مزید 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔
سیکرٹری ایم اوآئی پی نے واضع کیا کہ جن اداروں کو گرین فیلڈ سٹیٹس دیا گیا ہے وہ نئی آٹو پالیسی کی مکمل پاسداری کریں گے معاہدہ کے مطابق چلیں گے اسی صورت میں وہ اس سٹیٹس کے مکمل فوائد حاصل کر سکیں گے۔
سیکرٹری نے یہ بھی کہا کہ ایک مرتبہ سرمایہ کاروں اور منسٹری کے مابین معاملات طے ہوجائیں تو وہ نئی آٹو پالیسی سے مکمل استفادہ حاصل کرسکیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ 17 جولائی 2017 بروز پیر تک تمام معاہدوں کو دستخط کرنے کے لیے تیار کرلیا جائے گا۔

Top