نئے کار ساز اداروں کو راغب کرنے کے لیے مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت

Auto-industry-of-Pakistan-640x360

نئی آٹو پالیسی کی منظوری کے بعد اس بات میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں کہ حکومت پاکستان نئے کار ساز اداروں کو یہاں کام کرنے کے بھرپور مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ پنج سالہ آٹو پالیسی کو تیار کرتے ہوئے اس بات کا بخوبی خیال رکھا گیا ہے کہ گاڑیوں کے شعبے میں شامل ہونے والے نئے اداروں کو آسانی میسر آسکے۔ گو کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی بہتر ہورہی ہے تاہم حکومت چاہتی ہے کہ گاڑیوں کے شعبے سے بھی بھرپور فوائد سمیٹے جائیں۔

اب سے چند روز قبل گندھارا نسان نے بھی سال 2017 میں ڈاٹسن کی نئی گاڑیاں متعارف کروانے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس ضمن میں پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ مفتا اسماعیل نے چند دیگر اداروں بشمول نسان، رینالٹ (رینو) اور فیات کے نمائندگان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ اس سے قبل جرمن کار ساز ادارے ووکس ویگن سے بھی بات چیت کی جاچکی ہے۔ مفتا اسماعیل نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئے سرمایہ کار بہت جلد پاکستان میں قدم رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نسان کی ممکنہ آمد: ڈاٹسن GO اور GO+ پیش کی جاسکتی ہیں

گو کہ فرانسیسی کار ساز ادارے رینالٹ نے تصدیق کردی ہے کہ وہ پاکستان میں گاڑیاں متعارف کروانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عملی طور پر رینالٹ کب متحرک ہوگا۔ نسان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ وہ اظہار دلچسپی کرنے کے باوجود عملی پیش رفت نہیں کر رہے۔ البتہ جرمن ادارہ آوڈی (Audi) سرگرم عمل نظر آتا ہے۔ حامل ہی میں انہوں نے آوڈی گاڑیوں کی اقساط پر فراہمی کے لیے بینک اسلامی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس سے قبل آوڈی اور سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے درمیان پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کے امکانات پر غور کے لیے ایک یاد داشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

نئی آٹو پالیسی اور اس میں نئے اداروں کے لیے شامل کی جانے والی مراعات کو دیکھتے ہوئے توقع کی جارہی تھی کہ اب کار ساز ادارے موقع کا بھرپور فائدے سمیٹنے کے لیے جلد ہی پاکستان کا رخ کریں گے تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سالانہ فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد بھی متاثر کن نہیں۔ گزشہ مالی سال کے دوران پاکستان میں صرف 1 لاکھ 80 ہزار گاڑیاں فروخت ہوئیں جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں یہ تعداد 20 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی۔

پاک ویلز کے ذریعے اپنی پسندیدہ گاڑی پاکستان منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں

علاوہ ازیں متعلقہ شعبے کے ماہرین نئی آٹو پالیسی کی افادیت پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے کار ساز اداروں کی آمد کے لیے مناسب فیصلے کیے ہیں تاہم عام صارف کے لیے ٹیکس میں رعایت نہیں دی جس کی وجہ سے گاڑیوں کی اضافی قیمتوں کی شرح برقرار رہے گی۔ اگر حکومت گاڑیوں کے شعبے پر عائد بھاری ٹیکس پر نظر ثانی کرے تو کم قیمت گاڑیاں مارکیٹ میں پیش کی جاسکتی ہیں جس سے مارکیٹ کو مزید وسعت حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ دیگر پڑوسی ممالک کے برعکس پاکستان میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ گوکہ جاپان سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں نے مارکیٹ کی صورتحال پر پردہ ڈال دیا ہے تاہم یہ پائیدار حل نہیں۔ لہٰذا حکومت اگر واقعی سنجیدگی سے پاکستان میں نئے کارساز اداروں کے ذریعے معاشی صورتحال میں بہتری کی خواہاں ہے تو اسے مزید موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top