ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ؛ حکومت کو ٹیکس آمدن میں 4.7 ارب روپے کمی

2015-honda-fit-hybrid

حکومتِ پاکستان کی جانب سے استعمال شدہ ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت کے باعث رواں مالی سال کے دوران اب تک ٹیکس آمدن میں 4.7 روپے کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مالی سال 2015-16 کے دس ماہ پر مشتمل اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 6400 ہائبرڈ گاڑیاں درآمد کی جاچکی ہیں۔ ان میں 4500 ہائبرڈ گاڑیاں 1300 سے 1500 سی سی زمرے میں آتی ہیں جبکہ باقی گاڑیاں 1500 سے زائد انجن کی حامل ہیں۔

گزشتہ مالی سال 2014-15 میں درآمد کی جانے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی تعداد موجودہ سال کے مقابلے میں نصف رہی تھی۔ رواں مالی سال ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ سال کے اختتام تک مجموعی تعداد 9500 سے تجاوز کرجائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو حکومت کو ٹیکس آمدن میں مزید 2 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی درآمدات میں اضافے سے حکومت کو 12 ارب روپے کا خسارہ

حکومت کی جانب سے ہائبرڈ گاڑیوں پر دی جانے والی رعایت کا مقصد ملک میں ایندھن کے استعمال میں کمی لانا تھا۔ اس سے حکومت کو دیگر ممالک سے تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم یہ ان دنوں کی بات ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہوچکی تھی۔ حکومت نے گاڑیوں کے خریداروں کو ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی حامل جدید گاڑیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے SRO-499(I)/2013 قانون کے تحت خصوصی مراعات فراہم کیں جس کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

اس وقت حکومت کی جانب سے 1800 سے زائد انجن والی ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد جبکہ چھوٹے انجن والی گاڑیوں پر 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی وصول کی جارہی ہے۔

گو کہ عالمی دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کافی سستی ہوچکی ہیں تاہم ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کی شہرت میں اضافہ بھی جاری ہے۔ البتہ نئی ہونڈا سِوک (Honda Civic 2016) کی آمد سے قبل مشہور ترین ہائبرڈ گاڑیوں میں سے ایک ہونڈا وزل کی فروخت میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہونڈا کے مداح 30 لاکھ کے بجٹ میں کسی بھی دوسری گاڑی پر ہونڈا سِوک کو ترجیح دینے لگے ہیں حالانکہ پاکستان میں اسے خریدنے کے لیے چند ماہ مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

Top