حکومتِ پاکستان کا گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس دو گنا بڑھانے پر غور

Vehicle-Tax

پاکستان کی وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو ڈیوٹی کو بڑھانے پر غور شروع کردیا ہے۔ انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت درآمد شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مقامی تیار شدہ گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی مد میں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ فی الوقت ایس آر او 557 (الف) / 2005 کی رو سے درآمد شدہ گاڑیوں پر امریکی ڈالر میں فکسڈ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ گاڑیوں پر دی گئی مراعات کے باعث مقامی کار ساز اداروں کو ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ موجودہ قوانین کی رو سے استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد ٹیکس کی تفصیلات یہ ہیں:

اس قانون میں آخری بار 30 نومبر 2015 کو چند ترامیم کی گئی تھیں تاہم اس سے صرف 1000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں کے زمرے پر ہی فرق پڑا تھا۔ چھوٹے انجن (800 اور 1000 سی سی) والی گاڑیاں کو علیحدہ کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں سے بہت کم ٹیکس وصول ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: ٹیکس میں اضافے کی سفارش؛ محصولات میں 3 ارب روپے کا اضافہ متوقع

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی چھوٹی گاڑیوں میں سب سے زیادہ 78 فیصد تعداد سوزوکی مہران کی ہے جبکہ باقی ماندہ 22 فیصد حصے میں مختلف درآمد شدہ گاڑیاں شامل ہیں۔ اگر تعداد کے اعتبار سے موازنہ کیا جائے تو یہ 35260 مہران کے مقابلے میں 9860 غیر ملکی گاڑیاں بنتی ہیں۔ ملک میں تیار کردہ پرزوں کے استعمال کے حوالے سے دیکھا جائے تو 800 سی سی سوزوکی مہران میں 3 لاکھ 10 ہزار مالیت جبکہ 801 تا 1000 سی سی انجن کی حامل گاڑی (مثلاً سوزوکی کلٹس اور ویگن آر) میں 3 لاکھ 75 ہزار روپے کے پرزے لگائے جاتے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے مطابق اسے 800 سی سی گاڑیوں کی تیاری میں کمی کے باعث پرزوں کی فروخت میں سالانہ 3 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ اسی طرح 801 تا 1000 سی سی گاڑیوں کی تیاری میں کمی کے باعث 4 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان دونوں ہی باتوں سے حکومت سخت ناخوش ہے اور فی الفور یہ نقصان کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میرا، آلٹو، موو اور ویگن آر ماڈلز پر عائد اوسط ڈیوٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایشیائی ممالک سے 800 سی سی گاڑیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو 7443 امریکی ڈالر تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جو فی الوقت 3575 امریکی ڈالر ہے۔ اسی اعتبار سے ٹویوٹا وِٹز (Toyota Vitz) اور ٹویوٹا پاسو (Toyota Passo) جیسی گاڑیوں پر لاگو اوسط ڈیوٹی کے مطابق 801 تا 1000 سی سی انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی 5000 ڈالر سے بڑھا کر 9308 ڈالر کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

دوسری طرف آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی حد عمر 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین حاجی محمد شہزاد نے کہا کہ گاڑیوں کے شعبے میں چند اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے حکومت کو اس مشورے پر ضروری غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پاکستانی صارفین کو مزید گاڑیوں کے ماڈلز دستیاب ہوسکیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ حکومت اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے صرف ہماری ایسوسی ایشن کے مجاز ڈیلرز ہی کو گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے پر بھی غور کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں مہران کی جگہ نئی آلٹو متعارف کروائی جارہی ہے؟

اس وقت 801 تا 1000 سی سی گاڑیوں کے زمرے میں غیر ملکی گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کے مقابلے میں درآمد شدہ گاڑیوں کی کم قیمت اور بہتر معیار ہے۔ اب حکومت اس مد میں ٹیکس سے دُگنا فائدہ حاصل کرنے پر نظر رکھے ہوئے اور اگر حکومت ان تجاویز کو قبول کرتی ہے تو اس کا براہ راست بوجھ گاڑیاں درآمد کرنے والے افراد پر آن پڑے گا۔

اگر آپ بھی کسی درآمد شدہ گاڑی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آج ہی پاک ویلز کے ذریعے اپنی پسندیدہ گاڑی منگوائیں قبل از حکومت گاڑیوں کی درآمدات پر ٹیکس دُگنا کردے اور آپ کو من پسند گاڑی منگوانے پر اضافی قیمت ادا کرنی پڑے۔

  • afzal

    why pakistani nation is paying highly imposed tax while local / imported vehicles ,
    what in return ordinary man getting by giving his money to govt ???

    isn’t it a economic terrorism ?? should’nt it be counter strike ?????

Top