ہارلے ڈیوِڈسن V روڈ کسٹم – ایک مالک کی نظر میں


PakWheels.com اپنے قارئین کے لیے گاڑیوں کے تفصیلی جائزے پیش کرتا رہتا ہے اور اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار ہارلے ڈیوِڈسن V روڈ کسٹم کا تجزیہ پیش کر رہا ہے، وہ بھی اس کے ایک مالک کی نظر سے۔ 

ہارلے ڈیوڈسن V روڈ 2001ء میں متعارف کروائی گئی تھی۔ V روڈ کی پہلی جنریشن 2001ء سے 2007ء تک چلی۔ 2008ء سے 2017ء تک سیکنڈ جنریشن آئی جس کے بعد اس شاندار موٹر سائیکل کی پروڈکشن ختم کردی گئی۔ 

یہ لیکوئیڈ کولنگ اور DOHC ٹیکنالوجی کے ساتھ جدید انجن رکھنے والی ہارلے کی پہلی اسٹریٹ بائیک تھی۔ ہارلے نے اس کا انجن پورشَ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔ 

جناب سنی چوہدری پاکستان میں پہلی کسٹمائزڈ ہارلے ڈیوڈسن V روڈ کے مالک ہیں۔ وہ کراچی اور لاہور میں ٹارک موٹر اسپورٹس شورومز کے مالک ہیں۔ انہوں نے یہ کسٹم بائیک 54 لاکھ میں امریکا سے درآمد کی تھی۔ ہارلے V روڈ کی اسٹاک قیمت 27 سے 30 لاکھ ہے۔ 

جناب سنی کے مطابق انہوں نے امریکا کی بُل ڈاگ کمپنی کی کسٹمائز کی گئی یہ موٹر سائیکل خریدی ہے، جو ہارلے کے لیے اسپیشل کٹس بناتا ہے۔ موٹر سائیکل میں لامحدود ٹربو ہے اور اس وقت یہ 20PSI پر بنائی گئی ہے لیکن 30PSI تک جا سکتی ہے۔ اس کی اونچائی کو اپنی مرضی کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے اور یہ ایئر رائیڈ سسپنشن سے لیس ہے۔ 

موٹر سائیکل میں ٹائی ٹینک رِمز ہیں۔ ہینڈل بار اسٹریٹ اٹیچڈ ہے۔ انجن اور فریم کے علاوہ ہر چیز کسٹمائزڈ ہے۔ سنی صاحب کی موٹر سائیکل کا ٹینک اور میٹر بھی کسٹمائزڈہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کسٹمائزڈ موٹر سائیکل میں کوئی فیچر کم نہیں ہے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل کو “رف اینڈ ٹف” کہتے ہیں۔ بائیک ٹربو ہے اور رفتار عام سے کہیں زیادہ ہے۔ 

لاگت کو دیکھیں تو سنی صاحب بتاتے ہیں کہ 50 ہزار ڈالرز موڈیفائنگ کے، 4000 رمِز کے لیے، 12000 ٹربو، 85000 ڈالرز باڈی کٹ اور 9000 ڈالرز سسپنشن کے۔ 

موٹر سائیکل ماہر کی حیثیت سے ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں دستیاب تمام اقسام کی موٹر سائیکل چلا چکے ہیں۔ وہ پاکستان میں ایسی نئی کسٹمائزڈ ہارلے موٹر سائیکل متعارف کروانے پر بہت خوش تھے۔ اب تک یہ موٹر سائیکل شہر کے اندر 100 کلومیٹر چل چکی ہے اور 4 کلومیٹر فی لیٹر کا ایوریج رکھتی ہے۔ مینٹی نینس کے معاملے میں یہ موٹر سائیکل 5.5 لیٹر اسکریمنگ ایگل آئل استعمال کرتی ہے جو ہارلے موٹر سائیکلوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔ 

موٹر سائیکل ایئر فلٹر ٹربو مع اِن ٹیک رکھتی ہے کیونکہ ٹربو بغیر کسی کیسنگ کے ہے۔ اسے دھویا جا سکتا ہے اور اس پر 25,000 سے 30,000 روپے لگتے ہیں۔ یہ ایک مرتبہ آئل ڈالے جانے کے بعد 3,000 سے 4,000 کلومیٹرز چل سکتی ہے۔ گرد و غبار کے اثرات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ایئر فلٹر میں گرد ضرور آتی ہے لیکن کوئی مسئلہ نہیں، اسے دھویا جا سکتا ہے۔ آئل فلٹر پر 2,500 روپے لگتے ہیں۔ 

ٹربو کی مرمت کے لیے بُل ڈاگ ہر چیز بہت پیشہ ورانہ اور مناسب انداز میں تیار کرتا ہے۔ کوئی اضافی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں۔ مزید ٹیوننگ کے لیے عام مکینک کی تجویز نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں ٹربو گاڑیاں کافی استعمال ہو رہی ہیں اور سنی صاحب کی تجویز ہے کہ ایسے مکینک کے پاس جائیں جو ٹربوز کو دیکھتا ہو۔ 

جناب سنی کے مطابق اسٹاک بائیک کی بیٹھنے کی پوزیشن سخت ہے، لیکن ان کی کسٹمائزڈ موٹر سائیکل تو اور زیادہ سخت ہے۔ بیٹھنے کی یہ پوزیشن جان بوجھ کر اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ چلانے والا زیادہ ہوشیار رہے۔ کسٹمائزڈ موٹر سائیکل کی رفتار اور طاقت اسٹاک موٹر سائیکل سے زیادہ ہے۔ اس لیے یہ بات اہم ہے کہ چلانے والا مکمل طور پر چوکس اور ہوشیار رہے۔ 

وڈیو نیچے دیکھیں:


Google App Store App Store

My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top