یہاں پڑھیں کس طرح مجھے پاکستان میں آخر کار استعمال شدہ گاڑی خریدنا پڑی- ایک خریدار کی داستان

photos_honda_civic_2012_2_1280x960

میں گاڑیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا، اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ میں کتابوں، بندوقوں اور کھانے میں گاڑیوں کی نسبت زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک گاڑی صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا ایک زریعہ ہے۔ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ یہ بہت چمک دمک والی مہنگی گاڑی ہو۔ میرے خیال میں گاڑی اچھی حالت میں ہونی چاہیے اور جب آپ کو اس کی ضرورت ہو تو وہ دستیاب ہو بس یہ بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناطے میں کبھی بالکل نئی ’مارکیٹ کی گاڑی‘ نہیں خرید پایا۔ درحقیقت اگر آپ میرے گزشتہ سالوں میں زیر استعمال گاڑیوں کو دیکھیں تو ان میں شراڈ، سینٹرو، اور لیانا جیسی گاڑیاں شامل ہیں جو کہ اوسط درجے کی ’مارکیٹ کی گاڑی‘ سے بھی بہت دور ہیں۔

تو صرف تین دنوں میں اپنی سب سے آخری گاڑی لیانا بیچنے کے بعد میری کل جمع پونجی تقریباً 2.3 ملین روپے بنی تو میں نئی گاڑی ڈھونڈنے چل نکلا۔ میں اسلام آباد میں ٹویوٹا موٹرز پر گیا مگر وہ پہلے ہی بہت زیادہ بکنگ کر چکے تھے اور اب نئی بکنگ نہیں کر رہے تھے۔ ہونڈا والے بھی ان سے کم ہمدرد نہیں تھے انہوں نے بھی یہی کہا کہ بکنگ کے بعد آپ کے انتظار کا دورانیہ کم از کم 16 ہفتے تک ہو سکتا ہے۔ میری آپشنز کم ہورہی تھیں اور نئی خوبصورت سوزوکی سیاز کی لانچ کی وجہ سے میں پاک سوزوکی پر گیا اور میں اپنے لیے ایک آٹو میٹک سوزوکی سیاز خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا تو میرے ایک دوست نے مجھے زبردستی روک دیا اور سوزوکی سیاز لینے سے منع کر دیا چونکہ یہ ایک نئی لانچ ہونے والی اور ’مارکیٹ کی گاڑی‘ نہیں تھی اور سب سے بڑھ کر کے یہ سوزوکی تھی۔

پیار میں مایوس نوجوان کی طرح کا احساس ہونے پر میں نے اخباروں اور پاک وہیلز پر سٹی اور کرولا کے اشتہار ڈھونڈنا شروع کیے اور ایک نئی گاڑی ملنے کی امید کرنے لگا۔ بے شک بالکل نئی گاڑیاں دستیاب تھیں مگر ایک خاص قیمت ہر جس کی وجہ ان گاڑیوں کا ’آن‘ تھا جسے ’اوون‘ کہا جاتا ہے جس کی نا جانے کیا وجوہات ہیں۔ اور آج تک میں یہ بات نہیں جانتا کہ یہ آن یا اوون کی اصطلاح کس نے اور کیوں ایجاد کی۔ تو مجھے ایک ٹویوٹا کرولا 1.3 جی ایل آئی آٹو ٹرانسمیشن سلور کلر میں 2.1 ملین روپے میں آفر ہوئی جو کہ سٹینڈرڈ قیمت سے تقریباً 170 ہزار روپے زیادہ ہے۔ ایک 1.3 ہونڈا سٹی مجھے 2.1 ملین روپے میں آفر ہوئی جس کی اضافی قیمت 100 ہزار روپے سے کچھ زیادہ ہے۔ نئی گاڑی خریدنا ایک الگ بات ہے مگر دن کی روشنی میں ایک پریمیم والی گاڑی خریدنا سب سے آخری آپشن ہوگی۔ اس بات کی کوئی منطق نہیں بنتی کہ نئی گاڑی خریدنے کے لیے اضافی پیسے دیئے جائیں تو میں نے یہ آئیڈیا بھی مکمل طورپر زہن سے نکال دیا۔

میرے پاس اگلی آپشن استعمال شدہ جاپانی گاڑی تھی جنہیں جے ڈی ایم گاڑیاں کہا جاتا ہے۔ پاک وہیلز پر مزید ڈھونڈنے، کار ڈیلرز کے پاس جانے، مزید بحث کرنے سے میری بے کاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ایک بہت کم استعمال شدہ ٹویوٹا ایکوا ہائبرڈ مجھے ملی مگر یہ اس گاڑی کو مکمل تباہ کر دینے والی بات ہے کیونکہ میرے خیال میں پاکستانی مارکیٹ ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے موزوں نہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اگر مجھے اس گاڑی کی مرمت کروانی پڑ جائے تو کیا یہاں کہیں ان گاڑیوں کا کوئی قابل مکینک مل سکتا ہے؟ میرا خیال ہے نہیں۔

تو میرے پاس کیا آپشن بچتے ہیں؟ سیاز خریدوں- بالکل بھی نہیں اور اسی وجہ سے میں نے اسے اپنی فہرست سے نکال دیا۔ ایک نئی کرولا یا سٹی؟ ابھی دستیاب ہی نہیں اور ان کو خریدنے کے لیے بہت سا اضافی پیسہ چاہیے۔ ایک استعمال شدہ جے ڈی ایم گاڑی خریدوں تو اس گاڑی کی مرمت کون کروائے گا؟ اور میں اس قسم کا انسان نہیں ہوں جو ہر ہفتے گاڑی کے پارٹس کی تلاش میں سلطان کا کھوہ یا بلال گنج گھومتا رہے۔ تب میرے داماد نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھے ایک تھوڑی سی استعمال شدہ ہونڈا سوک خرید لینی چاہیے، چونکہ یہ میرے بجٹ کے مطابق تھی اور اس کی مرمت کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں تھا۔ یہ بہترین طور پر ’مارکیٹ کی گاڑی‘ کی اصطلاح پر پورا اترتی تھی۔ یہ آرام دہ ہے، ایئر بیگز ہیں، سٹیریو، کروز کنٹرول، اور سب سے بڑھ کر سن روف بھی ہے۔ تو میں نے درمیانی عمر کے انسان کے لیے ایک استعمال شدہ ہونڈا سوک ڈھونڈنی شروع کر دی۔ میں خوش قسمت تھا کہ مجھے ایک سلور ہونڈا سوک مل گئی جو کہ بہت کم استعمال شدہ تھی اور مارکیٹ کے لفظ ’جین این‘ کے عین مطابق تھی۔

بے شک گاڑی دیکھ بھال کر خریدنے والی چیز ہے لیکن اس آرٹیکل کا یہ پوائنٹ نہیں تھا۔ پوائنٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس آپشنز نہیں ہیں اور درحقیقت بہت محدود آپشنز ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بہت سے نئے کھلاڑی اس مارکیٹ میں آ رہے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ آئیں بلکہ بہت جلد آئیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ نئی آٹو پالیسی نئے آنے والوں کے لیے بہت اچھی ہے جس سے انہیں مزید تقویت ملتی ہے۔ میں اس دن کا انتظار کررہا ہوں جب صارف کے پاس ہونڈا اور کرولا نیکسز کے علاوہ بھی کچھ خریدنے کی آپشن ہوں، جب صارف بہتر کوالٹی کی گاڑی خرید سکے، جب اسے گاڑی خریدنے پر آن یا اوون جیسے مافیا کے ہاتھوں نہ لٹنا پڑے اور گاڑی بک کروانے پر اس کو حاصل کرنے کا وقت 6 ماہ نہیں رہے گا، تب تک کے لیے میرے جیسے لوگ استعمال شدہ گاڑیوں سے ہی لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔

Nauman Afzal

Nauman Afzal is a telecom engineer by profession, living in Rawalpindi. His interests are reading, writing, playing with guns and trying to loose a few extra pounds, always. Cars don't excite him much. In fact, they are merely a means of transportation for him.

  • Atif Baig

    Thats right, we don’t have much options. New entrants are inevitable in the Pakistani Market, otherwise we will be play pigs in the hands of Big3

Top