جانئیے کہ کس طرح”سوزوکی سیاز“ پاکستان میں ”ہنڈاسٹی“ کے اجراء میں سبقت لے سکتی ہے؟

ciaz

یہ بات تو بالکل واضع ہے کہ پاکستان آٹوموبائل انڈسٹری آٹوپالیسی2016-2021 کے اطلاق کے بعد خاصی حرکت میں آگئی ہے۔

آئی۔ایم۔سی“  اورپاکستان ”سوزوکی“ کے حالیہ لائحہ عمل کا جائزہ لیں،  توپاکستان کی تیسری بڑی مینوفیکچررکمپنی کی جانب سے کئے گئے اقدام پر سوال اٹھنا ایک قدرتی عمل ہے۔

جیسا کہ”اٹلس ہنڈا“گزشتہ برس ”سٹی ایکس“ متعارف کروا چکی ہے۔ مگراب مقبول زمانہ ”ہنڈاسٹی“جیسے ہی آتی ہے اس کا کیا بنے گا؟   میں اسی حوالے سے سوچ میں مبتلا ہوں اور اس ماحول کے متعلق قیاص آرائی کررہا ہوں جو کہ ”سوزوکی سیاز“متعارف ہونے کے بعد پیدا ہو سکتا ہے۔

  ضروری بات پہلے۔۔۔لوگ ”ہنڈاسٹی“ کے بجائے ”سوزوکی سیاز“ کیوں خریدیں گے؟

اسکا جواب سوال ہی میں کہیں پوشیدہ ہے۔ اگر مقامی اعتبار سے غورکیا جائے تو ”ہنڈاسٹی“کا شمار ایسی گاڑیوں میں ہوتا ہے جودرحقیقت سال بھر اپنی قیمت بنائے رکھتی ہیں مگر اس کے بعدان کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی واقع ہوجاتی ہے۔کفائیت کی بات کی جائے، اگر آپ استعمال شدہ”ہنڈاسٹی“کی خریداری کا ارادہ کرتے ہیں تو، 2009ماڈل گاڑی کی قیمت تقریباً گیارہ لاکھ سے شروع ہوتی ہے جو کہ کافی زیادہ ہے۔یہاں آپ کو حیرت کا سامنہ ہو گا کہ میں کس طرح ”ہنڈاسٹی“ اور ”سوزوکی سیاز“کا موازنہ کررہا ہوں؟مانتا ہوں کہ ابھی یہ صرف ایک مفروضہ ہے، لیکن”پی۔ڈبلیو“ کے ذرائع اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ”سیاز“کی قیمت ”ہنڈاسٹی 1.3اور1.5“ کے مدمقابل ہو گی۔اس انتخاب سے بات پیسوں کی اہمیت اور میعار پر آجاتی ہے۔تو یہ مت بھولیں 2009 سے تاحال”اٹلس ہونڈا“ نے”سٹی“ میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی۔اوردوسری جانب”سیاز“ سوزوکی کے نئے پلیٹ فارم سے درآمد ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ”سیاز“ یورپیئن معیارکے  تمام تر تحفظات اورسہولیات ساتھ لئے ہو گی۔ یوں پاکستان سوزوکی منافع بخش چیزمناسب قیمت میں مہیا کر کے مارکیٹ اپنے نام کرنے میں مصروف عمل ہے۔

   درست۔۔۔ مگر بعد از فروخت سروسز کا کیا؟؟

درست بات کی جائے تویہ ایک ایسا امر ہے جس میں ”سی۔یو۔بی“ والے مارکھاتے ہیں۔ مقامی گاڑیاں جیسا کہ”ہنڈاسٹی“ والے”سی۔یو۔بی“ کے مقابلے گاڑی کی دیکھ بھال اور پارٹس کی فراہمی کونہائیت آسان بناتے ہیں۔  اس صورتحال کا”جے۔ڈی۔ایم“گاڑیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ جن کے بعدازفروخت میں نقصان کی وجہ سے صارفین کوبہت سی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس بیان کو لے کر پاکستان بھر میں سوزوکی ”تھری ایس“ ڈیلرشپ کی موجودگی کی دلیل دی جا سکتی ہے۔ تاہم، قیمت کے تعین کے بعد پہلی متاثر کن چیزگاڑی کی دیکھ بھال اور پارٹس کی با آسان فراہمی کی شکل میں ہی سامنے آتی ہے۔

  قصہ مختصر۔۔۔کس طرح”سوزوکی سیاز“پاکستان بھرمیں ”ہنڈاسٹی“ کے اجراء میں بازی لینے جا رہی ہے؟

پاکستان میں آغاز کے بعد سے، ”ہنڈاسٹی 1300سی سی“گاڑیوں میں خاصی اہمیت کی حامِل رہی ہے جس کی وجہ اس کی مقبولیت، کارکردگی، اور قیمت فروخت میں معمولی کمی ہونارہی ہے۔ تو کہاجا سکتا ہے کہ چھوٹی گاڑیاں بنانے والی  پاکستان کی سب سے بڑی مینوفیکچررکمپنی کا یہ نیاآغازکچھ کٹھن ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، پاکستان سوزوکی کی کوششوں اور آپریشنز سے اس بات کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ کمپنی اپنی تشہیری مہم اور میدان میں داخل ہونے کے لئیے جارہانہ حکمت عملی میں جتی ہوئی ہے، جس سے ”1300سی سی“گاڑیوں میں بڑھتا ہوا مقابلہ ظاہر ہے۔یہ عمل اس شعبہ میں ناصرف ”اٹلس ہنڈا“ پر اثر اندازہو گا بلکہ ”انڈس موٹرز“کو بھی شہ دے سکتا ہے کہ وہ بھی ”ٹویوٹاکرولا“کے لائحہ عمل پر نظرثانی کریں۔ آخر میں یہ کہ پاکستان آٹوموبائل انڈسٹری کی بدلتی صورتحال نے جو کہ رواں مالی سال کے آغاز میں ہی شروع ہو گئی تھی اپنے آثار دکھانا شروع کردئیے ہیں۔اگرچہ ان بڑھتے ہوئے محرکات کو”سی پیک“کی ترقی سے بھی منصوب کیا جا سکتا ہے،  بہرحال نتائج مثبت نظرآرہے ہیں جوکہ مقامی صارفین کے لئیے ایک اچھی خبر کی صورت میں جلد سامنے آئیں گے۔

Top