HIDs کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے ایک اور قیمتی جان لے لی


گزشتہ ماہ نومبر کے اوائل میں ایک بین الاقوامی ادارے کے تین کیمیکل انجینئرز ملتان میں موجود سائٹ پر دورے کے لیے گئے۔ ان کا مختصر دورہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور وہ بخوشی ملتان سے واپس لاہور کی جانب روانہ ہوگئے۔ لیکن افسوس کہ کیمیکل انجینئرز کی گاڑی کو اندوہناک حادثہ پیش آیا جو جانی و مالی نقصان کا باعث بنا۔ پاک ویلز ذرائع کے مطابق اس حادثے کی بنیادی وجوہات میں سامنے سے آنے والی گاڑی میں HIDs کا استعمال اور ڈرائیور کی جانب سے لین تبدیل کرنے کی کوشش اہم رہی۔

ملتان کے نواحی علاقے میں ہونے والے حادثے کی اہم وجہ HID والی گاڑیوں کو آتا ہوا دیکھ کر ڈرائیور کی جانب سے اسے راستہ دینے کی کوشش رہی۔ سڑک پر کسی قسم کے حفاظتی نشان کی عدم موجودگی، رات کی تاریکی اور شاہراہوں پر مناسب روشنیوں کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور مکمل صورتحال کا اندازہ نہیں کرپایا اور HID والی گاڑی سے بچنے کی کوشش میں اپنی ہی گاڑی نزدیکی دیوار جا ٹکرائی۔ گاڑی میں سوار مسافر ابھی اچانک پڑنے والی افتاد سے نکل بھی نہ پائے تھے کہ گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ پچھلی نشست پر سفر کرنے والا مسافر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ اگلے حصے سے جا ٹکرایا اور موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ اگلی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافر شدید زخمی ہوئے۔ سیٹ بیلٹ باندھے رکھنے کی وجہ سے ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں تاہم وہ اب تک حادثے سے پیدا ہونے والے اعصابی دباؤ کا شکار ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کے تصادم کا سب سے بڑا واقعہ

اس ہولناک حادثے سے متعلق بات کرتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ اپنی جانب آنے والی گاڑی میں تیز روشنیوں کے استعمال کی وجہ سے آگے کا منظر دیکھنے میں شدید مشکل پیش آرہی تھی تبھی انہوں نے گاڑی کا ہارن اور ایمرجنسی لائٹس کی مدد سے دوسرے ڈرائیور کو رفتار کم کرنے اور روشنیوں کو مدھم کرنے کا اشارہ دینے کی کوشش کی۔ ڈرائیور نے مزید بتایا کہ وہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہے تھے اور ایسے میں تیز رفتار گاڑی کو راستہ دینے کی کوشش خطرناک ثابت ہوئی۔ ڈرائیور نے کہا کہ کوئی بھی مسافر اس بات کا اندازہ نہ لگا سکا کہ ہمارے سامنے برج کی دیوار آرہی ہے اور جب مجھے دیوار کی موجودگی کا احساس ہوا تب ہمارے درمیان صرف 10 فٹ کا فاصلہ تھا اور اگلے ہی لمحے ہماری گاڑی 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دیوار سے جا ٹکرائی۔

پاکستان میں HIDs کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے رونما ہونے والے ٹریفک حادثات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جو لوگ اپنی گاڑیوں میں HID کٹس لگواتے ہیں انہیں اس بات اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ لائٹ کتنی تیز اور کس زاویے سے لگائی جانی چاہیے اور سامنے سے آنے والے گاڑی کے ڈرائیور کے لیے یہ کب اور کیسے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

اب سے چند روز قبل ہی ہونڈا سوک میں آگ لگ جانے کا واقعہ بھی انہی HIDs کی غیر معیار تنصیب کی وجہ سے پیش آیا تھا اور اب ایک کیمیکل انجینئر کی ہلاکت اور زخمی کردینے والا حادثہ بھی انہیں HIDs کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حادثے کا ملبہ پنجاب کے شہروں میں شاہراہوں کی غیر معیاری تعمیر پر ڈالیں تاہم اس حادثے کی بنیادی وجوہات سامنے آجانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ضرور سوال اٹھتا ہے کہ جو HIDs کے استعمال کو اب تک قانون کے دائرے میں لانے کا عمل مکمل نہیں کرپائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں تیار شدہ ہونڈا سوک 2016 کو آگ لگ گئی


Top