پیٹرول میں میگانیز کی ملاوٹ؛ ہونڈا ایٹلس کی آئل کمپنیوں کے خلاف شکایت!


شاہد خاقان عباسی نے پچھلے سال وزیر پیٹرولیم کی حیثیت میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں “او ایم سی” اور ریفائنریریز کو بتایا تھا کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران پاکستان 87 رون ایندھن استعمال کر رہا ہے جبکہ دنیا بہتر رون پیٹرول کی طرف جا چکی ہے لہٰذا اب جبکہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ چکی ہے اس لیے یہی بہترین وقت ہے کہ ہم فوراً 92 رون پریمیئر موٹر گیسولین (پی ایم جی) کی جانب منتقل ہو جائیں۔
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں پیٹرول کی قیمتوں اور معیار کا معاملہ زبان زد عام ہے اور صارفین کی جانب سے غیر معیاری پیٹرول کے ساتھ پمپ مالکان کی دھوکہ دہی پر بھی خوب تنقید کی جاتی ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان سے شکایت یہ ہے کہ اسٹوریجز میں محفوظ پیٹرول کی مقدار بڑھانے کے لیے وہ پیٹرول میں مٹی کا تیل شامل کرتے ہیں اور پیٹرولیم ٹرانسپورٹر کے متعلق شکایات ہیں کہ وہ پہلے گیس ٹرانسپورٹ ٹریلر کے ذیعے پیٹرول چوری کرتے ہیں اور پھر کمی کو پورا کرنے کے لیے مٹی کا تیل شامل کر دیتے ہیں اور یہ سب ریفائینریز سے پمپ اسٹیشن کے دوران ہوتا ہے۔ یوں ایندھن جب تک صارفین کے پاس پہنچتا ہے تو مہنگے داموں خریدنے کے ساتھ معیار بھی ناقص اور مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے۔
پچھلے سال حکومت پاکستان نے ہائی اوکٹین (HOBC) کی قیمتوں کی نگرانی ختم کرتے ہوئے ریفائیرنیز کو اپنی قیمتوں پر معیاری ایندھن بیچنے کا اختیار سونپ دیا تھا۔ البتہ ان کے لیے یہ بھی لازم ہو گا کہ اوکٹین کے معیار کو بڑھا کر 87 رون سے 92 رون کیا جائے تاہم قیمت وہی 87 والی ہی برقرار رکھی جائے گی۔ اور اگر معیار کو 95 رون تک لے جایا جائے تو قیمتوں کا تعین ریفائیرنیز خود کر سکتی ہیں۔ یہ تبدیلی یکم نومبر 2016ء کو نافذ ہوئی جس کے بعد صارفین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ دیر آید درست آید کے مصداق طویل عرصے بعد ہی سہی انہیں اب بہتر معیار کی پیٹرولیم مصنوعات دستیاب ہوا کریں گی۔


جب ہونڈا سِوک کی دسویں جنریشن کو متعارف کروایا گیا تو اس کے ایندھن کے معیار کے حوالے سے کئی سوال موجود تھے۔ خاص کر سوک 1.5 ٹربو چارجڈ کے لیے لوگ کئی طرح کے شکوک و شبہات کا شکار تھے کیوں کہ جب ہونڈا نے اسے پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو اس وقت ذرائع ابلاگ کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ گاڑی عام پیٹرول پر چل سکتی ہے۔ صارفین کو بتایا جاتا تھا کہ اسے 87 رون یا اس سے زائد پیٹرول کی ضرورت ہے جس پر عام لوگ یہ سوچنے لگے کہ پاکستان میں بھی ایندھن کی اتنی ہی مقدار ملتی ہو گی لیکن بدقسمےی سے یہ سچ نہ تھا. امریکہ میں ایندھن کا معیار جانچنے کا طریقہ یورپ سمیت دیگر ممالک سے مختلف ہے۔ وہاں اگر آپ کو 87 رون پیٹرول کی ضرورت ہے تو دوسری جگہوں پر 92 رون کی ضرورت ہو گی۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ پاکستان میں جو ایندھن 87 رون بتا کر فروخت کیا جاتا ہے وہ امریکہ میں 83 رون کے برابر ہے۔ اگر آپ کی گاڑی میں کم معیار کا اوکٹین ہے تو اس کی ڈرائیونگ معیار بھی کم ہو گا اور جب گاڑی ڈیزائن کے مطابق کارکردگی پیش نہ کر سکے گی تو اس کا نتیجہ انجن کے نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔ میں نے اس حوالے سے ایک مضمون 2016ء میں پاکستان میں سوک کی رونمائی کے وقت تحریر کیا تھا جسے آپ ذیل میں موجود ربط کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں۔
اس وقت خریدار مطلوبہ ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے شک و شبہ میں تھے۔ اس لیے بہت سے صارفین نے قبل از خریداری 1.5 ٹربو سوک کے بجائے 1.8 کو ترجیح دینا شروع کر دی اور یہ بھی ایندھن کی عدم دستیابی ہی کی وجہ سے ہوا۔ جب آہستہ ہونڈا ایٹلس سے مالکان کو ترسیل شروع کر دی تو اس وقت اکثر پیٹرول پمپس نے حکومتی پالیسی کے مطابق اوکٹین کے معیار کو 91/92 رون میں تبدیل کر چکے تھے۔ یہ بات نئی 1.5 ٹربو سوک گاڑیوں کے مالکان کے لیے کافی تسلی بخش تھی۔

تاہم بعد چند ماہ بعد ہی 1.5 ہونڈا سوک کے مالکان اس وقت مشکل سے دوچار ہو گئے کہ جب انہیں انجن کے متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پاک ویلز فورمز اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گرما گرم بحثوں کا آغاز ہو گیا اور ٹربو چارجڈ سوک کے مالکان نے شکایتوں کے انبار لگا دیا۔ کچھ مالکان تو اس مسئلہ پر اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ انہوں نے متعلقہ ڈیلروں سے رابطے کرنے کے بجائے مارکیٹ ہی میں حل تلاش کنا شروع کردیا جنہوں نے مہنگی قیمت پر انجن ماڈیول میں ایک سافٹ ویئر کی تنصیب کا مشورہ دیا۔ لیکن یہاں نیا مسئلہ یہ تھا کہ وارنٹی کے خوف کے باعث متعدد لوگ ECU کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے گریزاں تھے۔
یہ مسئلہ اتنا سنجیدہ ہو گیا کہ ہونڈا ایٹلس پاکستان لمیٹڈ نے 1.5 ٹربو کی بکنگ فوری طور پر بند کردی۔ ملک بھر کے ہونڈا ڈیلرز بھی خریداروں کو 1.8 سوک کی بکنگ کا مشورہ دینے لگے۔ اگرچہ اس معاملے پر ہونڈا نے اب تک باضابطہ طور پر اپنا موقف پیش نہیں کیا۔

turbocharged_engine_3b711f5f17691407c15dd70089a415cab568b3c7

اس کے بعد ہمیں اطلاعات ملیں کہ اس خرابی سے چھٹکارا پانے کے لیے ہونڈا تھائی لینڈ اور ہونڈا جاپان کے ماہرین نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ہمیں نہیں پتا کہ اس داخلی تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا مگر اس حوالے سے بین الااقوامی میڈیا میں بازگشت سنائی دینے لگی جس کے بعد ہماری اطلاع کے مطابق ہونڈا پاکستان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی “اوگرا” کو آفیشلی شکایت رجسٹر کروائی کہ اوکٹین کے معیار کو بڑھانے کے لیے جو اضافی مواد ایندھن میں ملایا جارہا ہے ، وہ انجن کے لیے نقصان دہ ہے۔ عام طور پر مینگانیز بیس وہ مواد ہے جسے ایندھن کے رون میں اضافے کے لیے پیٹرول میں شامل کیا جاتا ہے۔

ہونڈا پاکستان کے مطابق انہوں نے ایک خصوصی جانچ کا اہتمام کیا ہے جس سے پتا چلا کہ مینگانیز کی مقدار 53 ملی گرام فی کلو گرام زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ 24 ملی گرام فی کلوگرام سے زائد ملاوت نہ صرف انجن بلکہ ماحول اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ ہونڈا نے اپنی شکایت میں شیل، ٹوٹل حتی کہ پاکستان سٹیٹ آئل (PSO) کا نام بھی لکھا ہے۔

ٹویوٹا انڈس کے ایک نمائندے نے کہا کہ وہ بھی پیٹرول میں مینگانیز کی ملاوٹ پر تحفظات رکھتے ہیں لیکن انہیں اب تک صارفین کی جانب سے ایسی کوئی شکایت نہیں موصول ہوئی جس کا نتیجہ ایندھن کے انجن پر منفی اثرات کی صورت میں نکالا جائے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ٹویوٹا کی گاڑیوں میں سے کوئی بھی ٹرببوچارڈ نہیں ہے۔ البتہ ٹویوٹا اور دیگر کار مالکان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ catalytic کنورٹر اخراج کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے جس کے پلگ کو جلد تبدیل کروانا پڑتا ہے اور اس سے گاڑی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے اس حوالے سے کہا؛

“ہمیں ہونڈا کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے اور متعلقہ محکمہ اس معاملہ پر غور و خوص کر رہا ہے”
ہونڈا پاکستان نے تحقیقات کے بعد ابتدائی نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی انجن کے مسائل کی واحد وجہ غیر معیاری ایندھن ہے اور اب ہونڈا پاکستان اس معاملے پر قانونی کارروائی کرنے کا بھی اراد رکھتاہے۔

ایم ایم ٹی ایک اضافی مینگانیز ہے جو دنیا بھر کی آئل ریفائیرنیز میں اوکٹین کے معیار کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر صحت اور ماحول پر منفی اثرات کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ یہ اتنا تیز ہے کہ ایم ایم ٹی کا ایک قطرہ ایک لیٹر ایندھن میں ڈالیں تو اوکٹین لیول دو گنا بڑھ جاتا ہے۔ لیکن کچھ محدود قواعد کے ساتھ اسے استعمال کرنے کی اجازت ہے،
جب ایندھن انجن میں جلتا ہے اور گیسز پائپ سے باہر نکلتی ہے تو اضافی مینگانیز ذرات فضا میں بکھر جاتے ہیں اور سانس کی بیماریوں کے علاوہ خون میں جذب ہونے کی وجہ سے دماغ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

انسان کے لیے خطرے کے علاوہ مینگانیز کے ذرات انجن میں بھی جمع ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انجن کے سلنڈرز اور ہیڈز، گاڑیوں کے اخراج کے نظام کے ساتھ پلگ اور فیول انجیکٹر کو نقصان پہنچ سکتا ہے. کار ساز اداروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اعلی ایم ایم ٹی کے زیادہ مقدار کے نتیجے میں گاڑی کے اخراج سسٹم کے معیار کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔فورڈ سمیت دیگر کار کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والے تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ایندھن میں ایم ایم ٹی کی معمولی سی مقدار کا استعمال آلودگی میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور انجن کو متاثر کرنے کی وجہ سے گاڑی کی عمر بھی کم کر دیتا ہے۔
بیرون ملک کی کار کمپنیوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ریفائنریریز کو مکمل طور پر ایم ایم ٹی کے استعمال سے روکنے کے لیے مجبور کریں۔ دیگر ایسے بہت سے مواد موجود ہیں جنہیں ایندھن میں شامل کیا جاسکتا ہے اور وہ محفوظ بھی ہیں۔ لیکن چونکہ ایم ایم ٹی سستی ہے اور نیا مواد شامل کرنے کے لیے آئل ریفائنریز کو وسیع پیمانے پر پیداوار کی سہولیات کی اپ گریڈیشن کی ضرورت پڑے گی، اس لیے وہ مینگانیز ہی کے استعمال پر زور دیتی ہیں۔

2

پاکستان میں تو ماحولیاتی اور انسانی صحت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے اس لیے یہ حقیقت ہے کہ صنعتوں کے خطرناک مواد سے زمینوں کو بھر رہی ہیں اور زہریلا مواد سے لبریز پانی عوام تک پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح یہ آئل ریفائنریز بھی ہمارے سسٹم کا حصہ ہیں اور ہونڈا کے موقف کے مطابق لازمی طور پر حکومت اپنے ایندھن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایم ٹی ٹی میں اضافہ کر رہی ہیں کیونکہ یہ آکٹین کی درجہ بندی بڑھانے کے لیے سب سے سستا طریقہ ہے۔

1

امید ہے کہ اوگرا ہونڈا اٹلس پاکستان کی طرف سے دائر کردہ شکایت پر ردعمل کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک ماہر پینل تشکیل دے گی اور نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ کیونکہ ایم ایم ٹی کے زیادہ استعمال سے صحت کے ساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مجھے اس بات کی بھی امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا اور انجن کے مسائل کا سامنا کرنے والے ٹربو چارجڈ سوک کے مالکان کی شکایات کا بھی جلد ازالہ کیا جائے گا۔


Fazal Wahab

I am Civil Engineer by Profession and have love for High Rise Towers, Underground construction and Carbon Fiber Composites, automobiles is my first love. Its my passion to know and share about anything new in automobile industry.

Comments are not currently available for this post.

Top