مضحکہ خیز قیمت میں فروخت ہو رہی ہے۔ CG125 ہنڈا

2017 Honda CG125

پاکستان میں موٹرسائیکلزکی مقبولیت متوسط اور نچلے طبقہ کی بدولت بہت زیادہ بڑھی ہے،جو کہ بہتری لانے کے لئے کئی معنوں میں ایک خوش آئیندامر ہے۔اعدادوشمار کے لحاظ سے، پی۔اے۔ایم۔اے۔کی رپورٹ کے مطاق اٹلس ہنڈا نے گزشتہ مالی سال میں 811034 یونٹس فروخت کئے ہیں اور کمپنی اپنے تمام تر اخراجات کو بروئے کار لا کر اس نمبر کو ایک ملین تک پہنچا رہی ہے جو کہ پاکستا نی آٹو موبائل انڈسٹری کی تاریخ میں پہلی بار ہو گا۔ا گرکمپنی دو مالی سالوں کے ایک ہی مہینے کا موازنہ کرے تو جنوری 2017 کی فروخت میں 14.88%اضافہ دیکھنے ہیں آیا ہے۔جو بھی ہے، پر ایسا معلوم پڑتا ہے کہ اٹلس ہونڈا حیران کن طور پر اپنی پروڈکشن بڑھانے میں مصروفِ عمل ہے۔کیسے؟ہنڈا125کی ڈیمانڈ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں شارٹیج ہو گئی ہے۔اس صورتحال کانتیجہ ایڈوانس بکنگ کی بلند ترین قیمت اور زیادہ بکنگ ٹائم کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

جب ایک شوروم کے مالک سے اس بارے پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا کہ

”اس وقت ہمارے پاس ہنڈا  125 کا کوئی یونٹ موجود نہیں، یہ صرف بکنگ پر دستیاب ہو گی“

ہم میں سے کچھ کے لئے یہ صورتحال عام سی بات ہو گی مگر ذرا رکئیے،  میں اس معاملے کی جانچ کرنے لاہور میکلوڈ روڈ گیا اور جو نتیجہ اخز کیا وہ نیچے درج ہے

٭ کسی بھی جگہ ہنڈا 125کا بکنگ ٹائم پچیس سے لے کر پینتالیس دن ہے۔

٭ آپ کوٹوکن حاصل کرنے کے لئے مکمل رقم موقع پر ہی ادا کرنا ہو گی۔

٭ اگر آپ شوروم میں اپنی موٹرسائیکل کی آمد کے بعد اس کے رنگ میں تبدیلی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لئے آپ کوزیادہ وقت اور رقم دونوں درکار ہوں گے۔سو مشورہ ہے کہ آپ یہ سامنے ہی کنفرم کریں اور بکنگ رسید پر بھی لکھوائیں۔

جی، اوپر درج کی گئی اطلاعات صرف ان شورومز پر لاگو نہیں ہوتیں جن کے پاس پہلے سے ہنڈا  125کا سٹاک موجود ہے۔پھربڑے ریٹیلرز کا کیا؟تو صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو’اون‘ کے طور پرپندرہ سے بیس ہزار روپے پہلے ادا کرنے ہوں گے، جس طرح سے لوکل مارکیٹ میں بہت سی گاڑیاں بھی فروخت ہو رہی ہیں۔

میرا مقصد اب اٹلس ہنڈاکے اس عمل کی صورتحال واضح کرنا ہے، کیونکہ ہنڈا  125جس کی قیمت 105,500 تھی اس وقت کچھ اونرز سے 126,000 (بنا رجسٹریشن کے)میں ہے اور بڑھتا ہوا یہ رواج پریشان کن ہے۔ اگر اس مسئلہ پر شروع میں ہی نظر ثانی نہ کی گئی تو میرا ماننا ہے کہ ’اون‘کا رواج بھی موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں جڑ پکڑ لے گا۔

Top