نئی ہونڈا سِوک کی قیمت میں دستیاب استعمال شدہ جاپانی گاڑیاں

2016 Honda Civic

ہونڈا ایٹلس پاکستان کو چند روز قبل پیش کی جانے والی نئی ہونڈا سِوک (Honda Civic) سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ گو کہ پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں مجموعی اضافے سے ہونڈا پاکستان کو بھی فائدہ پہنچا تاہم دیگر مقامی کار ساز اداروں کے برعکس ہونڈا کی پیش رفت بہت سست روی کا شکار نظر آتی ہے۔ گاڑیوں کی فروخت میں قابل ذکر اضافے کے لیے ہی ہونڈا نے رواں سال کے آغاز میں ہونڈا HR-V متعارف کروائی تاہم یہ گاڑی بھی زیادہ خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ممکن ہے ہونڈا ایٹلس نے یہ سوچ رکھا ہو کہ پاکستان میں جاپانی ہونڈا وِزل کی طرح HR-V کو بھی جلد ہی مقبولیت حاصل ہوجائے گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوسکا۔ یوں ہونڈا پاکستان کی ایک اور کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔

اسی اثنا میں نئی سِوک کی ممکنہ آمد کا چرچہ جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر بھی گاڑیوں کے شوقین افراد میں نئی سِوک سے متعلق گفتگو کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری رہا۔ لیکن اب جبکہ ہونڈا ایٹلس نے پاکستان میں تیار شدہ سِوک 2016 کی باقاعدہ رونمائی کردی ہے تو لوگوں کا تمام جوش جھاگ کی طرح بیٹھتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ 30 لاکھ روپے میں فروخت کی جانے والی گاڑی کی تیاری میں نظر آنے والی بے شمار خامیاں ہیں جن میں غیر معیاری پلاسٹک کا استعمال اور پرزوں کے نامناسب جوڑ سب سے زیادہ واضح ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں تیار شدہ ہونڈا سِوک 2016 کے معیار پر سوالیہ نشان!

اب سے ایک دو ماہ پہلے نئی سِوک کی آمد سے وابستہ لوگوں کا جوش و خروش ختم ہوتا ہوا دیکھ کر بہت افسوس ہورہا ہے۔ پاکستان میں نئی گاڑیوں کی آمد شاذ و نادر ہی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گاڑیوں کے شوقین پاکستانی ہمیشہ اس موقع کے شدت سے منتظر رہتے ہیں کہ کب کوئی نئی گاڑی پاکستان میں پیش کی جائے اور وہ اپنے شوق کی تکمیل کرسکیں۔ اور پھر سِوک کا جوش اس لیے بھی زیادہ رہا کیوں کہ اس نے عالمی سطح پر متعدد اعزازات اپنے نام کیے جن میں وارڈز آٹو ایوارڈ بھی شامل ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وارڈز کے نمائندے اگر پاکستانی سِوک 2016 کا معیار دیکھ لیں تو ضرور اپنی فہرست میں سے ہوندا کا نام نکالنے پر ضرور غور کریں گے۔ بہرحال، ایسا ہونے نہیں جارہا۔ یہ تو محض میرا غصہ ہی ہے اور شاید سِوک سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنے والے ہر شخص کے خیالات کچھ ایسے ہی ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک 2016 کی تیاری میں مزید خامیاں سامنے آنے لگیں

تقریباً دو ماہ قبل سِوک کی پیشگی بُکنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگوں نے بڑی تعداد میں سِوک 1.8 اوریئل اور سِوک 1.5 ٹربو بُک کروادی ہیں۔ اور بھی بہت سے لوگ ہیں کہ جو جلد یا بدیر اس گاڑی کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کو میری باتوں سے شاید اتفاق نہ ہو لیکن نئی سِوک سے مایوس ہونے والی افراد بالخصوص اس کی انتہائی زیادہ قیمت پر حیران و پریشان ہونے والے لوگوں کے لیے دیگر بہت سی گاڑیاں موجود ہیں ۔ ان گاڑیوں میں جاپان سے درآمد شدہ بہتر اور معیاری گاڑیاں بھی شامل ہیں کہ جنہیں 30 لاکھ روپے میں باآسانی خریدا جاسکتا ہے۔ تو آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہونڈا وِزل (Honda Vezel)

ہونڈا ہی کی ایک گاڑی سے شروعات کرتے ہیں جو پہلے ہی ہونڈا HR-V کے مقابلے میں کافی کامیاب سمجھی جاتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ ہونڈا HR-V اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی حامل ہونڈا وِزل کا سرے سے مقابلہ ہی نہیں ہے۔ ہونڈا وِزل کا انتہائی خوبصورت اور دلکش انداز بھی نئی سِوک پسند کرنے والوں کو ضرور بھائے گا۔ پاکستان میں ہونڈا وِزل (used Honda Vezel) باآسانی 30 لاکھ روپے کے لگ بھگ مل جاتی ہے۔ اگر آپ کا بجٹ اجازت دے تو کچھ زائد پیسوں میں ہونڈا وِزل کا نیا 2016 ماڈل بھی خریدا جاسکتا ہے۔ اس میں 1500cc انجن اور برقی موٹر لگائی جاتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہونڈا وِزل گنجائش کے اعتبار سے کہیں زیادہ بڑی ہے بلکہ ہائبرڈ ہونے کی وجہ سے بہت اچھی مائلیج بھی دیتی ہے۔ طویل شاہراہوں پر ہونڈا وِزل ایک لیٹر میں تقریباً17 کلومیٹر جبکہ شہر میں سفر کے دوران ایک لیٹر میں 14 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ یہاں ہونڈا وِزل اور نئی سِوک 1.5 ٹربو کا ایک رشتہ بھی بتاتے چلیں کہ دونوں ہی میں ارتھ ڈریمز انجن شامل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہونڈا نے وِزل کے انجن L15B کو سیڈان میں شامل کرنے سے پہلے اپڈیٹ کر کے L15B7 کا نام دیا ہے۔

Honda-Vezel-Hybrid-RS-1

Honda Vezel Hybrid RS

2016 Honda HR-V

2016 Honda HR-V Pakistan

ٹویوٹا پریمیو (Toyota Premio)

ٹویوٹا جاپان نے سال 2001 میں کرینا اور کورونا گاڑیوں کی تیاری ختم کر کے ٹویوٹا پریمیو پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایک مناسب سائز کی فیملی سیڈان ہے جو 1500cc اور 1800cc انجن کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔ گو کہ ٹویوٹا جاپان نے اسے 2000cc انجن کے ساتھ بھی پیش کیا تاہم پاکستان میں زیادہ قوت والے انجن کی گاڑیاں کم ہی دستیاب ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد بھاری بھرکم حکومتی ٹیکس ہیں۔ بہرحال، پاکستان میں آپ کو سال 2012-13 کی ٹویوٹا پریمیو (used Toyota Premio) کم و بیش 30 لاکھ روپے میں مل جائے گی۔ ٹویوٹا پریمیو کا 1500cc انجن 108 بریک ہارس پاور، 1800cc انجن 130 بریک ہارس پاور جبکہ 200cc انجن 150 بریک ہارس پاور فراہم کرسکتاہے۔ یوں اسے روز مرہ استعمال کی ایک بہترین گاڑی قرار دیا جاسکتا ہے جو کئی اعتبار سے نئی سِوک سے بہتری کہی جاسکتی ہے۔ گزشتہ سال میں نے ٹویوٹا پریمیو 2007 کی تفصیلی جائزہ اپنے قارئین کے لیے پیش کیا تھا جسے آپ ذیل میں موجود لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: استعمال شدہ ٹویوٹا پرییمو 2007ء کا مفصل جائزہ

ٹویوٹا پرایوس (Toyota Prius)

پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ٹویوٹا پرایوس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ دنیا کی مقبول ترین ہائبرڈ ہے جسے پاکستان میں بھی بے پناہ پسند کیا جاتا ہے۔ جاپان سے منگوائی جانے والی استعمال شدہ پرایوس کی مشہوری دیکھتے ہوئے انڈس موٹرز نے یہاں نئی پرایوس متعارف کروائی۔ گو کہ انڈس موٹرز ایک بھی نئی پرایوس یہاں فروخت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا جس کا تمام تر قصور اس کی بہت زیادہ قیمت تھی۔ کاش کہ ہونڈا ایٹلس اسی کو مثال بناتے ہوئے ہونڈا HR-V کی پیشکش اور قیمت کے تعین میں کچھ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے۔ بہرحال، پاکستان میں ٹویوٹا پرایوس (used Toyota Prius) کا 2013 ماڈل تقریباً 29 سے 31 لاکھ روپے میں مل جائے گا۔ موجودہ جنریشن کی پرایوس میں 1800cc انجن کے ساتھ ہائبرڈ سنرجی ڈرائیو سسٹم بھی شامل ہے جس سے یہ گاڑی ایندھن کی اچھی خاصی بچت کرسکتی ہے۔

toyota-prius

Toyota-Prius_Plug-in_Hybrid_2013_1024x768_wallpaper_01

toyota prius wallpaper

یہاں مرسڈیز ، BMW اور ویگو جیسی دیگر بہت سی گاڑیوں کا بھی ذکر کیا جاسکتا ہے تاہم چونکہ ہم سیڈان کے متبادل کی بات کر رہے ہیں اس لیے صرف سیڈان یا پھر چھوٹی SUV ہی کا ذکر مناسب لگتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جاپان سے گاڑیوں کی درآمد میں اضافے کا نئی سِوک کی فروخت پر کیا اثر پڑتا ہے تاہم ایک بات تو ہے کہ نئی سِوک کو کئی گاڑیوں سے سخت مقابلہ کرنا ہے۔

  • Atif

    Seems like due to untiring efforts of Honda Atlas, Civic X is a major failure. That is quite satisfying. These people should open their eyes now, its not 80s or 90s, where people will keep buying crap from these monopolistic monsters. I wish we had more choices available. Same goes for Indus, the materials they have used in GLI / ALtis are an utter crap.

Top