R18 انجن کے ساتھ ہونڈا سِوک پاکستان میں آسکتی ہے

hond-civic-17-1

بالآخر ہونڈا سوِک 2016ء نے کل لاس اینجلس میں اپنا جلوہ دکھا ہی دیا۔ ہونڈا کو نا پسند کرنے والے بھی اس گاڑی کے بارے میں جاننے کے لیے اتنے ہی بے تاب تھے کہ جتنا ہونڈا کو پسند کرنے والے تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مجموعی طور پر ہونڈا سِوک 2016ء کو ویسی ہی ستائش حاصل ہوئی جس کی وہ حقدار ہے۔ اس بار ہونڈا نے سِوک میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسے ہر طرح سے مثالی گاڑی بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اگر اب بھی کوئی خوش نہ ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں۔

دسویں جنریشن کی ہونڈا سِوک 2016ء دیکھنے اور اس کے بارے میں پڑھنے کے بعد بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ آیا یہ گاڑی پاکستان میں آئے گی بھی یا نہیں؟ اور اگر آئے گی تو پھر اس میں کتنا عرصہ لگے گے؟

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی گاڑیاں ترقی یافتہ ممالک میں پہلے پیش کی جاتی ہیں جہاں زیادہ لوگ اسے خرید سکیں۔ بعد ازاں یہ ترقی پزیر ممالک میں متعارف ہوتی ہے جس میں بدقسمتی سے ہم بھی آتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب مہنگی گاڑیاں دوسرے اور تیسرے درجے کے ممالک میں آتی ہیں تو انہیں مقامی مارکیٹ کے حساب سے تبدیل کردیا جاتا ہے ۔کہیں یہ کام قیمت گرانے کے لیے ہوتا ہے تو کہیں گاڑی بنانے والے اداروں کی تکنیکی مجبوریاں ہوتی ہے۔

یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ نئی سِوک ٹربو ہے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ اگلے سال کے آخر میں پیش کی جانے والی پاکستانی سِوک کے ٹربو ہونے کے کتنے امکانات ہیں؟ میں نے ہونڈا ایٹلس کی ویب سائٹ دیکھی تو پتہ چلا کہ ہونڈا سِٹی یورو 4 ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں دستیاب –ہونڈا سِوک کی آٹھویں اور نویں جنریشن بھی یورو 4 سے مطابقت رکھتی ہے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں یورو 2 معیار کا پیٹرول فراہم کرنے کے لیے اب تک صرف کوششیں ہی کر رہے ہیں۔

وہ لوگ جو آٹھویں اور نویں جنریشن کی سِوک رکھتے ہیں بخوبی جانتے ہوں گے کہ کٹیلک کنورٹر خراب ہوجانے اور EGR سے الجھنے کے بعد بالآخر اپنی سِوک کو ایک بھدی آواز والی گاڑی بنادینا کیسا لگتا ہے۔ ہونڈا کے 1800 سی سی R18 انجن کو یہاں دستیاب پیٹرول سے بھرنے کے بعد آپ گاڑی کی مسافت سے متعلق لوگوں سے رائے پوچھیں تو کسی کی بھی رائے یکساں نہیں ملے گی۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ بہت ہی زیادہ بتائیں اور کچھ اتنا کم کہ آپ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

موجودہ ہونڈا سِوک 1800 سی سی کا انجن R18 ہے جو 141 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق ہونڈا کے 1500 سی سی ٹربو چارجڈ انجن کی رفتار 173 ہارس پاور تک دیکھی گئی ہے۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ اگر یہ انجن پاکستان میں تیار ہونے والی ہونڈا سِوک 2016ء میں لگا دیا جائے تو اعداد و شمار مختلف ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہونڈا کا نیا 2000 سی سی نیچرلی اسپریٹڈ انجن بھی موجود ہے لیکن مجھے پاکستان میں اس کی دستیابی کی امید نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد 2000 ٹربو چارجڈ انجن بنایا گیا جس کا فی الحال ذکر کرنا ہی فضول ہے۔

اب اصل سوال یہ نہیں کہ ہونڈا سِوک 2016ء پاکستان میں آئے گی یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام یا پھر یورو 2 فیول آنے کے بعد ہم سِوک 2016ء کی ان تمام خصوصیات سے لطف اندوز ہوسکیں گے کہ جو ہونڈا نے بیان کی ہیں۔ اگر نہیں، تو کیا ہونڈا پاکستان کو 10ویں جنریشن کی سِوک کو R18 انجن کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ اور یہ مسئلہ صرف فیول کے غیر معیار ہونے کا نہیں بلکہ ٹربو سیٹ اپ کا بھی ہے جنہیں ماضی میں ہمارے مقامی مکینِک “بے کار انجن” کہا کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال Kia Spectra کی پاکستان میں ناکامی سے لی جاسکتی ہے۔ ہونڈا تو شاید ان باتوں کو خاطر میں نہ لائے لیکن اگر آپ کے فٹ پاتھ مکینِک نے گاڑی کو رد کردیا تو پھر بہت سی استعمال شدہ ہونڈا سِوک 2016ء پاک ویلز پر برائے فروخت دستیاب ہوں گی۔

ہونڈا 1800 سی سی NA انجن

Honda Civic - R18 Engine

ہونڈا 1500 سی سی ٹربو انجن

Civic 2016 - 1.5 Liter Turbo Engine

ہونڈا 2000 سی سی ٹربو انجن

Honda 2.0 Liter Turbo Engine

Top