ہونڈا سِوک اوریئل بمقابلہ ٹویوٹا کرولا گرانڈے – ایک بار پھر آمنے سامنے!

clash-of-civic-corolla

پاکستان میں جن دو گاڑیوں کا سب سے زیادہ موازنہ کیا جاتا ہے ان میں ہونڈا سِوک اور ٹویوٹا کرولا سرفہرست ہیں۔ یہ دونوں ہی گاڑیاں پاکستان میں اپنے مداحوں کی بڑی تعداد رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیڈان مارکیٹ میں سِوک اور ٹویوٹا کرولا کی بحث کبھی تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ سال 2006 سے قبل ٹویوٹا کرولا کے تمام ہی ماڈلز سِوک کی ٹکر میں پیش پیش تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ بالخصوص آٹھویں جنریشن سِوک اور پانچویں جنریشن سِٹی کی آمد کے بعد یہ صورتحال بھی تھوڑی بہت تبدیل ہوگئی۔ ہونڈا نے سِوک کو بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ قیمت بھی 20 لاکھ سے زائد کردیں اور اس سے کم لگ بھگ 15 لاکھ روپے بجٹ رکھنے والوں کے لیے ہونڈا سِٹی متعارف کروائی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ہونڈا سِوک کے نئے عہد کی شروعات

side-exterior

قیمت میں رد و بدل کے بعد صورتحال کچھ یوں بنی کہ ایک طرف 15 لاکھ روپے میں دستیاب ہونڈا سِٹی (Honda City) کا مقابلہ کرولا XLi اور GLi سے ہوا تو دوسری جانب سِوک نے اضافی قیمت والے زمرے پر گرفت مضبوط کرنا شروع کی۔ سِوک کی پیش رفت دیکھتے ہوئے ٹویوٹا نے بھی کرولا کے دو نئے اور بہتر ماڈل متعارف کروائے جنہیں آج ہم ٹویوٹا کرولا آلٹِس اور ٹویوٹا کرولا گرانڈے جانتے ہیں۔ اب ہونڈا سِوک کی دسویں جنریشن پیش کر کے ہونڈا نے ایک بار پھر پیش رفت کرتے ہوئے 25 سے 30 لاکھ روپے میں دستیاب گاڑیوں کے زمرے پر اجارہ داری کی کوشش کی ہے۔ جبکہ ٹویوٹا کرولا اب بھی 16 لاکھ سے 24 لاکھ میں ہی محدود ہے۔

مزید پڑھیں: ٹویوٹا کرولا میں امموبلائزر سمیت متعدد خصوصیات شامل

سِوک اوریئل بمقابلہ کرولا آلٹِس گرانڈے کا ہی موازنہ کیوں؟

اس وقت پاکستان میں دستیاب ٹویوٹا کرولا کے بہترین ماڈل کرولا آلٹِس گرانڈے CV-T کی قیمت 23,79,000 روپے ہے جبکہ ہونڈا سِوک کے بہترین ماڈل 1.5 ٹربو کی قیمت 29,99,000 ہے۔ لہٰذا دونوں گاڑیوں کے بہترین ماڈلز کا موازنہ کرنا مناسب نہیں لگتا۔ اسی طرح ہونڈا سِوک کےسستے ترین ماڈل سے بھی گرانڈے کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ دراصل 1.8 اوریئل ہی کا بیسک ماڈل ہے۔ایسے میں یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہونڈا سِوک اوریئل اور ٹویوٹا کرولا آلٹِس گرانڈے ہی کو آمنے سامنے رکھا جائے۔

دونوں گاڑیوں کے انجن کا موازنہ

آلٹِس گرانڈے میں 1800cc انجن شامل ہے جو تقریباً 138 ہارس پاور اور 173 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ جبکہ ہونڈا سِوک 2016 میں وہی 1800cc انجن شامل کیا گیا ہے جو اس کی پرانی جنریشن میں بھی پیش کیا جارہا تھا۔ پرانے انجن کی موجودگی کے باوجود یہ انجن کرولا کے مقابلے میں تین ہارس پاور زیادہ اور چار نیوٹن میٹر ٹارک کم فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ دونوں ہی گاڑیوں میں یکساں گیئر باکس اور کروز کنٹرول شامل ہے البتہ گرانڈے میں پیڈل شفٹرز بھی موجود ہیں جبکہ ہونڈا نے صرف سِوک 1.5 ٹربو ہی میں پیڈل شفٹرز کی سہولت دی ہے۔ سسپنشن کی اگر بات کریں تو سِوک کی برتری نظر آتی ہے کیوں کہ اس میں اگلی جانب میک فرسن اسٹروٹ اور پچھلی جانب ملٹی-لنک سسپنشن استعمال کیے گئے ہیں جبکہ کرولا میں اگلی جانب میک فرسن اسٹروٹ اور پچھلی جانب ٹورژیون بیم ہی استعمال کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کرولا کے ماڈلز میں مماثلت اور تفریق کا عجیب معاملہ

Civic-vs-Corolla1

باہر حصہ (Exterior)

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ نئی ہونڈا سِوک کا سب سے منفرد پہلو اس کا خوبصورت انداز ہے۔ اسی لیے ظاہری ڈیزائن میں بھی اسے ٹویوٹا کرولا سے سبقت حاصل ہے۔ صرف ڈیزائن ہی نہیں بلکہ سِوک نے اپنے روایتی حریف کو دیگر تمام پہلوؤں میں بھی زبردست مات دی ہے۔ ٹویوٹا کرولا کے مقابلے میں دسویں جنریشن ہونڈا سِوک 10 ملی میٹر لمبی، 20 ملی میٹر چوڑی، 42 ملی میٹر نیچی ہے۔

size-comparisons

ظاہری حصے میں دستیاب سہولیات پر نظر ڈالیں تو سِوک میں ہیلوجن پراجیکٹر لائٹس کے ساتھ دن کی روشنی میں چمکنے والے LED بھی واضح نظر آئیں گی جبکہ ٹویوٹا کرولا میں وہی برسوں پرانی لائٹس شامل ہیں۔ آٹومیٹک سائیڈ مررز، چھت کھڑکی (sunroof) اور دھند میں نظر آنے والی خصوصی لائٹس (fog lights) دونوں ہی گاڑیوں میں شامل ہیں۔ پہیوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو یہاں سِوک الائے رمز اور خوبصورت ڈیزائن کہیں سے بھی کرولا کے دہائیوں پرانے ڈیزائن اور 15 انچ کے رمز سے میل کھاتا نظر نہیں آتا۔

Civic-vs-Corolla2

اندرونی حصہ (Interior)

سِوک اور کرولا کے اندر جھانکیں تو یہاں ملی جلی چیزیں نظر آئیں گی۔ مثلاً ٹویوٹا کرولا آلٹِس گرانڈے میں نیوی گیشن اور چمڑے کی نشستیں موجود ہیں جبکہ ہونڈا سِوک اوریئل میں یہ چیزیں انتخابی ہیں۔ یعنی اگر آپ چاہیں تو اضافی قیمت ادا کرکے ان خصوصیات کو شامل کرواسکتے ہیں۔ اس کے برعکس سِوک میں کئی ایسی خصوصیات شامل ہے جو گرانڈے میں آپ چاہ کر بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ انمیں اسمارٹ اینٹری (ریموٹ کنٹرول)، بٹن سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی سہولت اور اسٹیئرنگ پر کروز کنٹرول کے بٹن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سِوک میں پچھلی نشستوں کے لیے علیحدہ A/C اور برقی پارکنگ بریک بھی شامل ہیں جو 24 لاکھ کی آلٹِس گرانڈے کا حصہ نہیں ہیں۔

Civic-vs-Corolla3

سب سے زیادہ دلچسپ امر یہی ہے کہ سِوک میں ہر وہ چیز شامل کی جاسکتی ہے کہ جو کرولا میں دستیاب ہے تاہم کرولا میں وہ سِوک والی خصوصیات شامل نہیں کروائی جاسکتیں۔ ہوسکتا ہے کہ سِوک میں آپ کو چند سہولیات حاصل کرنے کے لیے اضافی قیمت ادا کرنی پڑے یا پھر مارکیٹ سے جا کر چیزیں لگوانا پڑیں لیکن یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کرولا میں تو اضافی پیسے خرچ کر کے بھی وہ چیزیں حاصل نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک 2016 کے تینوں ماڈلز کا تفصیلی جائزہ

Interior

حفاظتی سہولیات

چونکہ یہاں عام عوام کو حفاظتی سہولیات سے متعلق زیادہ معلومات نہیں اسی لیے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے ان پر باآسانی سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ جہاں ہونڈا ایٹلس کی تیار کردہ سِوک پر کی جانے والی یہ تنقید بالکل درست ہے کہ اس میں بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی سہولیات شامل نہیں وہیں یہ بات بھی غلط نہیں کہ اس نے پاکستان میں تیار کی جانے والی تمام گاڑیوں بشمول کرولا آلٹِس گرانڈے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان سِوک میں اگلی نشستوں کے لیے دو ایئر بیگز کے علاوہ، امموبلائزر، 4 ویل ڈِسک بریک ہولڈ (ABH)، وہیکل اسٹیبلٹی اسِسٹ (VSA)، ہِل اسٹارٹ اسِسٹ (HSA)، ایمرجنسی اسٹاپ سِگنل (ESS) اور رفتار کے مطابق خود کار لاک اور انلاک کرنے جیسی سہولیات شامل ہیں۔ یہ پاکستان میں تیار کی جانے والی کسی بھی گاڑی سے کہیں زیادہ ہیں۔

Civic-vs-Corolla4

مکمل خلاصہ اور قیمتوں کا موازنہ

اگر آپ کے پاس 25 لاکھ روپے کا بجٹ ہو اور آپ بعد از فروخت خدمات، وارنٹی، معیار اور خوبصورت انداز کی حامل گاڑی لینا چاہیں تو میرے خیال سے ہونڈا سِوک 1.8 اوریئل سے بہتر کوئی گاڑی ہو ہی نہیں سکتی۔ یقین جانئیے کہ یہ تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے سستی کرولا کے مقابلے میں بہترین ڈیل رہے گی۔ بہرحال یہ تو میری رائے اور ہر شخص اس بارے میں اپنی رائے دینے کے لیے آزاد ہے۔ تو پھر آپ بھی اپنی رائے دیجیے اور بتائیے کہ آپ نئی سِوک کو ترجیح دیں گے یا پھر ٹویوٹا کرولا ہی خریدنا چاہیے گے؟

Civic-vs-Corolla5

Adan Ali

Adan is a Tribe Leader at Drive Tribe, who writes to share his passion for cars, culture and gadgetry through words. So far his writings and contributions have been able to make their way to media outlets like PakWheels and Dawn. Reach out to him by tweeting @adanali12

  • Dr. Muhammad Aon

    No doubt, that Honda is providing someextra function, than Toyota.But, you have totally ignored some important points i.e. after sale service/maintainance expenditure, which are much much greater in case of Honda Altas, as compared to Toyota Grande. Along with this, for Pakistani rough road structures, Honda Atlas can’t compete with Toyota Grande.

  • naz

    it is fect that honda is a best car but most people of Pakistan want fuel efficient cars and easily repairable and non costable repairing and bad Pakistan roads I think Toyota corolla is the best choice it is a great and friendly car than honda.

Top