ہونڈا سِوک 2016 سے قبل نئی ہونڈا سِٹی کی پیشکش زیادہ سودمند رہتی!

honda-city-sixth-gen-3

پاکستان میں ہونڈا سِٹی کی پانچویں جنریشن جنوری 2009 میں متعارف کروائی گئی تھی۔ درمیانے سائز کی یہ سیڈان ساڑھے سات سال گزرنے کے باوجود جوں کی توں تیار کر کے فروخت کی جارہی ہے۔ یوں اسے ہونڈا ایٹلس کے زیر سایہ طویل ترین عرصے تک تیار کی جانے والی گاڑی کا اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔ اس سے قبل ہونڈا کے مداح اس بات پر بہت فخر کیا کرتے تھے یہ عالمی سطح پر نئی گاڑی کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں بھی ہونڈا ایٹلس نئی گاڑی متعارف کروادیتے ہے۔ تاہم سِٹی (Honda City) کے معاملے میں ہونڈا نے اپنے ہی مداحوں کا سارا فخر خاک میں ملا دیا۔

دنیا بھرمیں ہونڈا سِٹی کی چھٹی جنریشن سال 2013 میں پیش کی جاچکی ہے تاہم ہونڈا ایٹلس چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے پاکستان میں اس کی پیشکش ملتوی کرتا آرہا ہے۔ رواں سال ہونڈا پاکستان نے اپنی تمام تر توانائیاں (جان بوجھ کر) ایک ایسی گاڑی کو متعارف کروانے پر خرچ کیں کہ جس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ یہ ہونڈا HR-V تھی جسے بڑی دھوم دھام سے پیش کیا گیا باوجودیکہ جاپانی ہونڈا وِزل (Vezel) پہلے ہی پاکستان میں کافی مقبول ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہونڈا کی اس حکمت عملی کے پیچھے کونسے دماغ کام کر رہے ہیں اور انہیں مارکیٹ سمجھنے میں مسلسل ناکامی کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے قبل ٹویوٹا انڈس موٹرز نے بھی ایک بظاہر بہترین فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں ٹویوٹا پرایوس (Prius) متعارف کروائی لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ اگر ہونڈا ایٹلس اسے ہی مثال بناتے ہوئے کوئی ایسی گاڑی متعارف کرواسکتا تھا کہ جو پہلے ہی یہاں مشہور ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا HR-V یا ہونڈا BR-V: پاکستان کے لیے کونسی گاڑی زیادہ موزوں ہے؟

Honda-HR-V-vs-Honda-Vezel-Hybrid-side-front

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہونڈا سِٹی کی پانچویں اور چھٹی جنریشن میں صرف ظاہری انداز ہی نہیں بلکہ بہت سے بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو ہونڈا نے سِٹی کی چھٹی جنریشن کو نئے سرے سے تیار کیا ہے۔ اسے ہونڈا جیز / فِٹ جیسی گاڑیوں کے پلیٹ فارم پر بنانے کا مقصد جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ ہونڈا نے چھٹی جنریشن سِوک کے ساتھ کئی ایک نئے انجن بھی متعارف کروائے ہیں۔ بھارت میں ہونڈا سِٹی 1500cc ارتھ ڈریمز ٹربوچارجڈ ڈیزل انجن کے علاوہ پانچویں جنریشن میں شامل 1500cc انجن ہی کے بہتر ماڈل کے ساتھ بھی پیش کی جارہی ہے۔ ہونڈا کا دعوی ہے کہ نئے انجن کی شمولیت سے سِٹی کی مسافت (مائلیج) میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے اور اب نئی سِٹی ایک لیٹر میں 26 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔

honda-city-sixth-gen-2 honda-city-sixth-gen-1 New-2014-Honda-City-dashboard

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نئی سِوک کی عالمی منظرنامہ پر رونمائی سے قبل ہونڈا سِٹی ہی وہ گاڑی تھی کہ جس کا پاکستان میں بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا۔ اور اگر اسے پہلے پیش کردیا جاتا تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس سے ہونڈا ایٹلس کو HR-V کی بے سود پیشکش سے کہیں زیادہ فائدہ پہنچتا۔ اور اب جبکہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سِوک پیش کی جاچکی ہے تو اس میں نظر آنے والی بے شمار خامیاں لوگوں کو ہونڈا ایٹلس سے مزید بدظن کر رہی ہیں۔ اگر HR-V کو یہاں پیش کیا جانا زیادہ اہم تھا تو اس کے بعد بھی نئی سٹی متعارف کروائی جاسکتی تھی۔ یوں ہونڈا پاکستان کو سِوک 2016 کی باضابطہ رونمائی کے لیے مزید وقت مل جاتا اور ہمیں وہ معیار نہیں دیکھنا پڑتا کہ جس پر آج میں اور آپ افسوس کر رہے ہیں۔

ہونڈا سِٹی کو مکمل نظر انداز کیے جانے کے باعث گاڑیوں کی درآمد سے وابستہ کاروباری اداروں نے نئی سِٹی کا ہائبرڈ ماڈل،جسے ہونڈا گریس (Honda Grace) کہا جاتا ہے، کو پاکستان منگوانا شروع کردیا ہے۔ تاہم یہ گاڑیاں مہنگی ہونے کے باعث ہونڈا سِٹی کے ممکنہ خریداروں کے بجٹ سے باہر ہیں۔ حال ہی میں مجھے پاک ویلز پر دستیاب استعمال شدہ گاڑیوں کے صفحات پر درآمد شدہ سِٹی برائے فروخت نظر آئی جس کی قیمت 25 سے 30 لاکھ روپے کے درمیان تھی۔ گو کہ یہ ہائبرڈ گاڑیاں ہیں تاہم اوسط-سائز کی سیڈان کو دیکھتے ہوئے یہ قیمت بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا بریو: پاکستان میں سوزوکی مہران کا عہد تمام کرسکتی ہے!

بہرحال، اب جو ہوچکا سو ہوچکا۔ جو گاڑیاں پیش کی جانی تھیں، پیش کی جاچکی ہیں۔ لیکن اب بھی وقت ہے ہونڈا پاکستان اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے نئی سِٹی کی پیشکش پر جلد از جلد غور کرے۔ پاکستان میں سِٹی کے مداحوں کی تعداد کسی طور کم نہیں کہی جاسکتی لہٰذا ہونڈا کو اس کی تیاری اور رونمائی کے لیے بہترین وقت اور طریقہ کار کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یوں وہ ہونڈا سِوک پر انگلیاں اٹھانے والوں کو معیاری سِٹی پیش کر کے خاموش کرواسکتے ہیں۔

  • Syed iqbal ahmed

    Auto mobile M/F companies need a Introduce cheeps cars in Pakistan.25 / 30 lakh is to much prize.
    That prize is to hay for middle class buyers…..

Top