پاکستان میں ہونڈا وِزل کی زبردست کامیابی کا راز

Honda-Vezel-Hybrid-RS-1

سال 2013 میں ہونڈا موٹرز جاپان نے وِزل (Vezel) کے نام سے ایک کراس اوور متعارف کروائی۔ گو کہ اپنے آبائی وطن میں اس گاڑی کو خاطرخواہ کامیابی نہ مل سکی تاہم پاکستان میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہونڈا وِزل کا شمار پاکستان میں سب سے زیادہ پسند اور درآمد کی جانے والی گاڑیوں میں کیا جانے لگا ہے۔ یہاں اس کی مقبولیت کے پیچھے جن عوامل نے اہم کردار ادا کیا، آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

ایندھن بچانے کی صلاحیت

گاڑیوں کے خریدار اب ایندھن بچانے کی صلاحیت کو نظر انداز نہیں کرتے کیوں کہ بالآخر اس سے ان کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔ اور وِزل بھی اس خصوصیت کی حامل ہونے کے باعث خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پاکستان میں درآمد کی جانے والی ہونڈا وِزل ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے لیس ہوتی ہیں۔ وِزل چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ باآسانی ایک لیٹر میں 14 سے 18 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ جبکہ اسی زمرے میں دستیاب دیگر گاڑیاں بمشکل ایک لیٹر میں 13 سے 15 کلومیٹر ہی سفر کرپاتی ہیں۔

پرزوں کی عام دستیابی

درآمد شدہ گاڑی رکھنے کا سب سے پریشان کن پہلو اس کے پرزوں کو عدم دستیابی ہوسکتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ہونڈا ایٹلس نے رواں سال ہی ہونڈا HR-V متعارف کروا کر ہونڈا وِزل رکھنے والوں کی یہ پریشانی دور کردی ہے۔ ہونڈا HR-V دراصل وِزل سے بہت زیادہ ملتی جلتی گاڑی ہے اور دونوں میں واحد بڑا فرق ہائبرڈ ٹیکنالوجی کا ہے۔ ہونڈا وِزل ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی حامل ہے جبکہ HR-V میں صرف روایتی انجن ہی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے تمام حصے ایک سے ہیں اور یوں وِزل کے پرزے بھی عام دستیاب ہیں۔

honda-hr-v-vs-honda-vezel-feature

ہونڈا وِزل کا ظاہری انداز

ایک کراس اوور ہونے کے باوجود ہونڈا وِزل کا انداز بہت جذباتی اور دلکش ہے۔ اسے ڈیزائن کرتے ہوئے ان مسائل کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ جو گاڑی چلانے والوں کو ایک پیش آتے ہیں۔ اس گاڑی کی لمبائی ٹویوٹا کرولا سے چھوٹی ہے تاہم اس میں گنجائش پھر بھی زیادہ ہے۔ ذاتی طور پر مجھے اس کی گراؤنڈ کلیئرنس سب سے زیادہ پسند آئی۔ ہماری سڑکوں کی ابتر حالت سے آپ بخوبی واقف ہوں گے ہی۔ جب جب ڈرائیور صاحبان کی گاڑی نیچے سے ٹکراتی ہے تب تب ان کے دل میں ٹیس اٹھتی ہے۔ لیکن ہونڈا وِزل کی اچھی گراؤنڈ کلیئرنس ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوتا اور آپ اطمینان کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔

بہترین انجن + ہائبرڈ ٹیکنالوجی

گاڑی میں انجن کی وہی اہمیت ہے کہ جو کسی انسان کے جسم میں دل کی ہے۔ انجن ہی وہ شے ہے کہ جس پر گاڑی کی تمام تر کارکردگی کا انحصار ہوتا ہے۔ ہونڈا وِزل اس معاملے میں بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ اس میں 1500cc انجن کے ساتھ برقی ہائبرڈ موٹر بھی دی گئی ہے۔ یہ انجن نہ صرف ایندھن کے معاملے میں بہت باکفایت ہے بلکہ اس کی کارکردگی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ میں نے 1800cc گاڑیاں (کرولا آلٹِس اور ہونڈا سِوک) کے بعد 1500cc ہونڈا وِزل خریدنے والوں سے پوچھا تو انہوں نے وِزل کی کارکردگی کو بہترین قرار دیا۔

DSC_0337

قابل تعریف سسپنشن

عام طور پر خیال کیا جاتاہے کہ ہونڈا گاڑیوں کا سسپنشن زیادہ اچھا نہیں ہوتا۔ حتی کہ ہونڈا کی سب سے مقبول سیڈان سِوک کو بھی اس حوالے سے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہونڈا وِزل پر کم از کم سسپنشن کو بنیادی بنا کر ہدف تنقید نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے بہترین سسپنشن کی بدولت مسافروں کو لیکسز (Lexus) اور لینڈ کروزر (Land Cruiser) جیسی گاڑیوں میں سفر کرنے کا احساس ہوتا ہے۔

اپنے حریفوں سے ایک قدم آگے

ہونڈا وِزل کی روایتی اور مضبوط ترین حریف ٹویوٹا پرایوس (Toyota Prius) ہے۔ ٹویوٹا کے مداح برا نہ منائیں تو یہ حقیقت بتانا چاہوں گا کہ پرایوس صاف ستھری شاہراہوں پر بخوبی سفر کرتی ہے تاہم ہمارے یہاں کی سڑکوں اور اسپیڈ بریکرز پر اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ہونڈا وِزل ہر طرح کے رستوں کے لیے موزوں ہے چاہے طویل شاہراہوں پر سفر کریں یا پھر شہر کے گلی کوچوں میں گھومنا چاہیں۔

2010_Toyota_Prius.jpg

بے شمار خصوصیات کی حامل فیملی کار

ہونڈا وِزل میں دلکش انداز، بہترین سسپنشن، طاقتور انجن اور اضافی گنجائش سمیت وہ تمام خصوصیات ہیں کہ جو ایک فیملی کار میں ہونی چاہئیں۔ غرض یہ کہ اگر آپ گھریلو استعمال کے لیے ایک برق رفتار، آرامدے، مفید اور محفوظ گاڑی خریدنا چاہتے ہیں تو پھر ہونڈا وِزل ہی بہترین انتخاب ثابت ہوسکتی ہے۔

honda-hr-v-vs-honda-vezel

پاکستان میں ہونڈا وِزل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب یہاں صرف 8 کلومیٹر وِزل بھی دستیاب ہے۔ نیز اگر آپ چاہیں تو اسے جاپان سے خود بھی منگواسکتے ہیں۔ گو کہ اس میں تھوڑا وقت زیادہ لگے گے تاہم آپ کسی دھوکے یا جعل سازی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ پاکستان میں ہونڈا وِزل لگ بھگ 29 سے 33 لاکھ روپے میں دستیاب ہے جبکہ نئی ہونڈا HR-V یہاں 36 لاکھ روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس دنیا میں کوئی چیز کامل اور خامیوں سے پاک نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے ہونڈا وِزل میں بھی آپ کو چند ایک خامیاں نظر آئیں تاہم پاکستان میں یہ گاڑی فیملی کار کے طور پر خود کو منوا چکی ہے لہٰذا اس کی صلاحیتوں پر شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

Student at a Business school. Passionate about cars.

  • Asim

    No doubt Vezel is a good vehicle but it already starting giving problem to its users. The dual clutch heats up in city driving or in harsh environment of up hill climbing.

Top