برقی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس میں رعایت سے متعلق تفصیلات

Honda Vezel

پاکستان میں منقبض قدرتی گیس یعنی سی این جی (CNG) سستی لیکن کمیاب ہے۔ تبھی آئے روز گیس کی عدم فراہی کے باعث سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان مختلف اقدامات اٹھاتی نظر آ رہی ہے۔ حکومتِ جاپان کی دیکھا دیکھی ماضی میں متبادل توانائی پر چلنے والی برقی گاڑیاں درآمد کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے ان گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں رعایت دینے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد استعمال شدہ جاپانی ہائبرڈ گاڑیوں کو پاکستانی منگوانے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا۔

کچھ ہفتوں قبل حکومتِ جاپان نے پاکستان کو ٹویوٹا پرایوس کا تحفہ دیا ہے۔ یہ تمام ٹویوٹا پرایوس ہائبرڈ گاڑیاں ہیں اور مختلف حکومتی وزارتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کی جائیں گی۔

مالی سال 2012-13 کے لیے حکومت نے برقی گاڑیوں پر لاگو ٹیکس میں 25 فیصد کمی کی تھی۔ بعد ازاں 2013 میں تجویز سامنے آئی کہ سی این جی گاڑیوں کے مالکان کو برقی گاڑیاں خریدنے کی طرف راغب کیا جائے۔ مجوزہ طریقہ کار میں 1800 سی سی یا اس سے کم طاقتور انجن کی حامل برقی گاڑیاں منگوانے پر ٹیکس کی مد میں کوئی رقم نہ لیے جانے اور 1800 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں پر ڈیوٹی برقرار رکھنا شامل تھا۔ موجودہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ سے قبل ایسی خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ وفاقی حکومت برقی گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو ٹیکس میں مزید رعایت دے گی تاہم یہ بات درست ثابت نہ ہوئی۔

سال 2013 سے گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو ٹیکس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

1200 سی سی یا اس سے کم انجن والی برقی / ہائبرڈ گاڑی: ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنی ہیں
1201 سی سی تا 1800 سی سی انجن والی برقی / ہائبرڈ گاڑی: ٹیکس اور ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی رعایت
1801 سی سی تا 2500 سی سی انجن والی برقی / ہائبرڈ گاڑی: ٹیکس اور ڈیوٹی میں 25 فیصد کمی رعایت
2501 سی سی یا زائد انجن والی برقی / ہائبرڈ گاڑی: ٹیکس اور ڈیوٹی پر کوئی تخفیف نہیں

پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں نے مناسب پزیرائی حاصل کی ہے۔ استعمال شدہ جاپانی گاڑیوں میں ٹویوٹا پرایوس نے طویل عرصے تک راج کیا ہے اور اب یہ رجحان ہونڈا وِیزل کی طرف منتقل ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ہونڈا ویزل متعدد انداز اور رنگوں میں 30 سے 35 لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔

Top