پاکستان میں ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس بمقابلہ باقی دنیا میں گرینڈ اسٹاریکس


کیا آپ جانتے ہیں کہ گرینڈ اسٹاریکس کی دوسرے ملکوں میں قیمت کیاہے؟ 

فروری 2019ء پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ہیونڈائی نشاط موٹرز کی آمد کا مہینہ تھا کہ جس نے امپوریم مال، لاہور میں اپنی نوعیت کے پہلے ڈجیٹل شوروم کی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی دو گاڑیاں بھی متعارف کروائیں۔ سانتا فی کے علاوہ آٹو میکر نے 12 نشستوں والی ملٹی پرپز وہیکل (MPV) گرینڈ اسٹاریکس کی رونمائی بھی کی کہ جو لائٹ کمرشل گاڑیوں کے زمرے میں آتی ہے۔ 

ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس عالمی سطح پر پہلی بار 1997ء میں متعارف کرائی گئی تھی اور اب یہ گاڑی اپنی فیس لفٹ کے ساتھ دوسری جنریشن میں داخل ہو چکی ہے۔ جنوبی کوریائی ادارے کی جانب سے دنیا بھر میں گرینڈ اسٹاریکس کے 8 ویرینٹس لانچ کیے گئے۔ پاکستان میں ملٹی پرپز وہیکل تین مختلف ویرینٹس میں پیش کی گئی ہے؛ جس میں ایک مینوئل اور دو آٹومیٹک ورژنز شامل ہیں۔ تو چلیں پاکستان میں لانچ ہونے والی ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس کی خصوصیات اور سہولیات دیکھتے ہیں: 

پاور ٹرین: 

گرینڈ اسٹاریکس کا نیا فیس لفٹ 2.4 لیٹر (2359cc) MPI گیسولین انجن سے لیس ہے جو 6000 RPM پر 175 hp اور 4200 RPM پر 228 Nm کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گرینڈ اسٹاریکس ہیونڈائی کی ہی ایک اور گاڑی سانتا فی جتنی طاقت دیتی ہے ۔ آٹو مینوفیکچرر نے گاڑی کو 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے علاوہ 5-اسپیڈ آٹومیٹک ورژن سے بھی لیس کیا ہے۔ 12 سیٹیں رکھنے والی یہ ریئر ویل ڈرائیو MPV اندر سے بہت کشادہ ہے اور باہر سے دیکھیں تو ایک دَم دار گاڑی نظر آتی ہے۔ گرینڈ اسٹاریکس کے تین ویرینٹس یہ ہیں: 

  • ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس GL (مینوئل ٹرانسمیشن) 
  • ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس GLS (آٹومیٹک ٹرانسمیشن) 
  • ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس GLX (آٹومیٹک ٹرانسمیشن) 

برطانیہ میں یہی گاڑی ہیونڈائی i800 کے نام سے مشہور ہے جو 2.5 لیٹر CRDi ڈیزل انجن اور آٹومیٹک اور مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ آتی ہے اور 3 ٹرِمز میں دستیاب ہے۔ جنوبی کوریائی آٹومیکر فلپائنز میں 8 ویرینٹس رکھتا ہے جو 2.5 لیٹر CRDi انجن اور دونوں اقسام کی ٹرانسمیشن سے لیس ہیں۔ 

یہی گاڑی تھائی لینڈ میں H-1 کے نام سے آتی ہے اور 12 سیٹیں رکھنے والے تین ویرینٹس کے نام سے پیش کی جاتی ہے: 

  • ہیونڈائی H-1 ٹؤرنگ 
  • ہیونڈائی H-1 ایگزیکٹو 
  • ہیونڈائی H-1 ڈیلکس 

اسی نام کے ساتھ انڈونیشیا میں بھی اس MPV کے تین ورژنز پیش کیے جاتے ہیں: 

  • ہیونڈائی GLS
  • ہیونڈائی Elegance
  • ہیونڈائی XG 

ایکسٹیریئر: 

1925mm کی اونچائی کے ساتھ گرینڈ اسٹاریکس بالترتیب 5150mm اور 1920mm کی لمبائی اور چوڑائی رکھتی ہے۔ اس MPV کی ویل بیس بھی اچھی ہے یعنی 3200mm ہے جو گاڑی کو باآسانی نقل و حرکت میں مدد دیتی ہے۔ ایڈونچر کی خواہش رکھنے والوں کے لیے کمپنی نے ایسا فیول ٹینک دیا ہے جو 75 لیٹرز تک کی گنجائش رکھتا ہے، یعنی یہ لمبے سفر کو آسان بنائے گا۔ گاڑی کو آگے سے دیکھیں تو یہ آپ کو horizontal-lining pattern میں کروم ریڈی ایٹر گرِل کے ذریعے کچھ جارحانہ شکل کی لگتی ہے۔ البتہ گاڑی کے مینوئل ورژن میں گہرے سرمئی رنگ کی فرنٹ گرِل ہے جس میں چوکور شکل کی ہیلوجن فرنٹ ہیڈلائٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ GLS اور GLX کے آٹومیٹک ورژنز پروجیکشن LED ہیڈلائٹس کے ساتھ آتے ہیں۔ horizontal شکل کے فوگ لیمپس بھی کمپنی کی جانب سے دیے گئے ہیں جو ہیڈلائٹس کے نیچے لگے ہوئے ہیں۔ سائیڈوں سے دیکھیں تو سائیڈ مرر میں ہی ٹرن سگنلز بھی لگائے گئے ہیں البتہ یہ GL ورژن میں نہیں ہیں۔ 

واضح رہے کہ اسٹاریکس کے صرف GLS اور GLX ویرینٹ ہی سائیڈ مررز کی الیکٹریکل ایڈجسٹمنٹ اور ری ٹریکشن کی سہولت رکھتے ہیں۔ 215/70 R16C کے ویل سائز کے ساتھ الائے رِمز بہتر GLS اور GLX ویرینٹ کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں جبکہ GL ورژن اسٹیل ویلز کے ساتھ آتا ہے۔ اگلے دروازوں کو چھوڑ کر پچھلے دروازے سلائیڈ کرتے ہیں جو مسافروں کو باآسانی بیٹھنے اور نکلنے کے لیے کافی جگہ دیتے ہیں۔ اسی طرح پیچھے کی طرف آٹومیٹک گاڑی میں LED اور مینوئل میں ہیلوجن لیمپس لگے ہوئے ہیں۔ ٹیل لائٹس پرانے انداز کے ورٹیکل اسٹائل سے ملتی جلتی ہیں۔ HMSL کے ساتھ ایک اسپائلر بھی لگایا گیا ہے جو گرینڈ اسٹاریکس کے بہترین ماڈل میں ہائی ماؤنٹ بریک لیمپ کے ساتھ ہے۔ اسپائلر کے نیچے ایک ریئر وائپر ہے جو ایکسٹیریئر ڈیزائن کو کافی حد تک مکمل کر دیتا ہے۔ گاڑی میں آگے اور پیچھے مڈگارڈز بھی ہیں جو بنیادی ضرورت ہیں۔ اسٹاریکس کے ایکسٹیریئر کی ڈیزائن لینگوئج خاص طور پر اگلے حصے میں بہت اسٹائلش ہے اور یہ مجموعی طور پر ایک بڑی گاڑی لگتی ہے۔ 

دوسرے ممالک میں مختلف ناموں کے ساتھ متعارف کروائی گئی گرینڈ اسٹاریکس کے دوسرے ماڈلز کے مقابلے میں یہاں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔ دوسری جنریشن کی اس MPV نے 2018ء میں اپنی رونمائی سے پہلے فیس لفٹ ماڈل میں کئی نئی چیزیں پائی تھیں۔ ظاہراً اس میں تمام وہی فیچرز ہیں، چاہے آپ پاکستان میں دستیاب گاڑی دیکھ رہے ہوں یا دنیا میں کہیں بھی۔

انٹیریئر: 

MPV کے اندر کانفرنس سیٹنگ ارینجمنٹ کی وجہ سے ماحول کشادہ نظر آتا ہے۔ بہتر ماڈلز میں ضرورت کے مطابق نشستوں کی سمت بھی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ 

ہیونڈائی نے لائٹ کمرشل گاڑی کی حیثیت سے اسٹاریکس میں آرام کا لیول کہیں بڑھا دیا ہے۔ آئیے پہلے GLS اور GLX کی بات کریں کیونکہ فیچرز کے لحاظ سے GL ورژن کے بارے میں بات کرنے کو زیادہ کچھ ہے نہیں۔ انٹیریئر کی ڈیزائن لینگوئج اتنی جدید نہیں جتنی پسند ہو سکتی ہے، لیکن یادرکھیں یہ ایک MPV ہے، اس لیے اتنی بُری بھی نہیں۔ کیبن کے اندر کشادہ احساس کو بہتر بنانے کے لیے کمپنی نے اسٹاریکس GLX میں ایک ڈوئل سن روف دی ہے جو GLS ورژن کے مقابلے میں ممکنہ طور پر سب سے بڑا فرق ہے۔ 

گاڑی کلائمٹ کنٹرول کے ساتھ ایئرکنڈیشنڈ ہے اور چھت پر پیچھے A/C وینٹی لیشن پورے کیبن میں یکساں کُولنگ کو یقینی بناتی ہے۔ کی-لیس انٹری کے ساتھ سینٹرل لاکنگ اور پاور ونڈوز کی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس MPV کا اسٹیئرنگ ویل ہائیڈرولک پاور رکھتا ہے، جس میں ڈرائیور کے ڈرائیونگ اسٹائل کے مطابق مینوئل یا ٹیلی اسکوپک tilt آپشن موجود ہے۔ گرینڈ اسٹاریکس میں روف لیمپ کے ساتھ پرسنل لیمپ بھی ہے۔ آٹومیٹک لائٹ کنٹرول کا آپشن مسافروں کے لیے آسان بناتا ہے کہ انہیں کیبن کے اندر حد سے زیادہ روشنی کا سامنا نہ ہو۔ چمڑے سے بنی ہوئی نشستیں آپ کے سفر کو بہت آرام دہ بناتی ہیں۔ کولڈ گلَو باکس آپ کو چند چیزوں کو رکھنے کی سہولت دیتا ہے۔ 

دوسری جانب گرینڈ اسٹاریکس GL میں سیٹیں کپڑے کی ہیں اور ایئر کنڈیشننگ کا کنٹرول مینوئل ہے۔ سینٹرل ڈور لاکنگ اور اسمارٹ کی-لیس انٹری فیچر کے ساتھ پاور ونڈوز اور ہائیڈرولک پاور اسٹیئرنگ tilt کے ساتھ بھی موجود ہے۔ گو کہ کیبن کے اندر روم لیمپ موجود ہے لیکن سن روف کی عدم موجودگی گاڑی کی بہت بڑی کمی ہے۔ 

انٹیریئر دنیا کے دوسرے حصوں میں دستیاب گاڑی جیسا ہی ہے۔ البتہ کچھ اضافی چیزیں جیسا کہ کپ ہولڈرز وغیرہ غیر ملکی ماڈلز میں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر بہترین ویرینٹ میں تمام لگژری فیچرز موجود ہیں جو پاکستان میں کسی بھی لائٹ کمرشل گاڑی میں ہونا سب پسند کریں گے۔ 

کنیکٹیوٹی: 

ہیونڈائی گرینڈ اسٹاریکس USB، AUX اور BT جیسے بنیادی کنیکٹیوٹی فیچرز کے ساتھ آتی ہے کسی فینسی اینڈرائیڈ آٹو یا ایپل کار پلے کے ساتھ نہیں۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ اسٹاریکس کے مینوئل ورژن میں بلوٹوتھ کنیکٹیوٹی نہیں ہے جو اس جیسی کسی بھی گاڑی کے لیے عجیب سی بات ہے۔ دو بہترین ویرینٹس میں کُل 6 اسپیکر نصب ہیں جبکہ GL ورژن میں یہ کم ہوکر 4 رہ جاتے ہیں۔ اسپیکرز کا معیار البتہ اچھا ہے اور سراؤنڈ ساؤنڈ تجربہ دیتا ہے۔ بدقسمتی سے گاڑی کا انسٹرومنٹ کلسٹر ٹیکنالوجی اور انداز دونوں لحاظ سے اچھا نہیں ہے۔ اسپیڈو میٹر روایتی اسٹائل کا ہے، جس میں RPM میٹر، فیول اور ہیٹ گیج ساتھ ہی ہے۔ 

سیفٹی فیچرز: 

اس MPV میں سفر کرنا بہت محفوظ ہے کیونکہ اس میں مینوفیکچرر کی جانب سے تمام بنیادی سیفٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ اسٹاریکس کے آٹومیٹک ویرینٹس میں دو SRS ایئربیگز ہیں؛ ایک ڈرائیور کے لیے اور دوسرا مسافر کے لیے جبکہ گاڑی کے مینوئل ورژن میں صرف ایک ایئر بیگ دیا گیا ہے۔ بہترین بریکنگ تجربے کو یقینی بنانے کے لیے اسٹاریکس کو اگلے اور پچھلے ٹائروں میں ڈسک بریکس سے لیس کیا گیا ہے۔ پھر سیفٹی فیچر کے طور پر عام بریکنگ کے بجائے اینٹی-لاک بریکنگ سسٹم بھی موجود ہے۔ ایک برگلر الارم بھی نصب ہے تاکہ گاڑی کی چوری مشکل بنائی جا سکے اور گاڑی میں کسی کے گھسنے پر فوری ردعمل دکھایا جا سکے۔ بیک ویو کیمرا بھی لگا ہوا ہے جو گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈالتے ہی کام شروع کرد یتا ہے۔ پارکنگ سینسرز بھی MPV میں موجود ہیں تاکہ محفوظ پارکنگ کو یقینی بنایا جائے۔ 

گرینڈ اسٹاریکس کے باقی دنیا میں متعارف کروائے گئے ورژنز بشمول تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور فلپائنز میں بھی آٹومیکر کی جانب سے ایسے ہی فیچرز پیش کیے گئے ہیں۔ 

نیا کیا ہے؟ 

بات یہیں مکمل نہیں ہوتی۔ ہیونڈائی GL ویرینٹ خریدنے والے اپنے صارفین کو اور بھی بہت کچھ پیش کرتا ہے۔ آپ کچھ اضافی قیمت ادا کرکے اپنے بیس ویرینٹ کو مندرجہ ذیل اضافی فیچرز سے لیس کر سکتے ہیں: 

  • ریئر اسپائلر، ہائی ماؤنٹ اسٹاپ لیمپ کے ساتھ 
  • 16 انچ الائے رِمز 
  • جینوئن چمڑے کی سیٹیں
  • بیک وارننگ کیمرا
  • فل آٹو A/C + ریئر (مینوئل)، روف سائیڈ وینٹ کے ساتھ 

قیمت: 

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ ہیونڈائی نشاط موٹرز (پرائیوٹ) لمیٹڈ نے گرینڈ اسٹاریکس تین مختلف ویرینٹس میں لانچ کی ہے؛ جن میں سے ہر کسی کی قیمت کچھ یوں ہے: 

  • ہیونڈائی اسٹاریکس GL: 39,99,000 روپے 
  • ہیونڈائی اسٹاریکس GLS: 49,99,000 روپے 
  • ہیونڈائی اسٹاریکس GLX: 51,99,000روپے 

دوسری جانب اسٹاریکس فلپائنز میں 8 مختلف ویرینٹس رکھتی ہیں کہ جن کی قیمتیں 37 لاکھ سے 59 لاکھ روپے کے درمیان ہیں۔ برطانیہ میں گرینڈ اسٹاریکس جو i800 کے نام سے جانی جاتی ہے، 47 لاکھ سے 51 لاکھ پاکستانی روپے میں ملتی ہے۔ تو اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ کیا گرینڈ اسٹاریکس کی قیمت جائز ہے تو جواب ہے جی ہاں! بالکل۔ سانتا فی کے مقابلے میں یہ MPV ایک واقعی موزوں انتخاب ہے۔ آخر کار 12 سیٹوں کی یہ گاڑی پاکستان کے تمام بڑے خاندانوں کے لیے ایک مکمل حل پیش کرتی ہے کہ جو ایک ہی بار میں خاندان کے سب افراد کو سفر پر لے جانے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ گرینڈ اسٹاریکس ایک زبردست ٹورنگ آپشن رکھتی ہے کیونکہ اس کی سیٹیں سامان کی جگہ بڑھانے کے لیے ایڈجسٹ کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ اس قیمت میں ایک MPV خریدنا چاہتے ہیں تو آپ کو گرینڈ اسٹاریکس یا کِیا گرینڈ کارنیوَل پر غور کر سکتے ہیں۔ گرینڈ کارنیوَل کے دو ویرینٹس میں ہے جن کی قیمتیں 46 لاکھ سے 55 لاکھ روپے ہیں۔ واضح رہے کہ اس تحریر میں دی گئی تمام قیمتیں ایکس-شوروم ہیں جن میں گاڑی کو سڑک پر لانے کے چارجز شامل نہیں۔ 

گرینڈ اسٹاریکس کا ایک مختصر تعارف یہاں دیکھیں:

گاڑیوں سے سب تمام تازہ خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ گرینڈ اسٹاریکس کے بارے میں اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ 


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top