ICST حکومت کی جانب سے نان-فائلرز پر پابندی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے


اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز (ICST) نے حکومت کی جانب سے نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلہ کو سراہا ہے۔

3 اکتوبر 2018ء کو حکومت نے نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے سے باضابطہ طور پر روک دیا تھا، البتہ نان-فائلرز کو 200cc سے کم کی انجن گنجائش رکھنے والی گاڑیاں یعنی موٹر سائیکلیں اور رکشے خریدنے کی اجازت ہے۔ اس فیصلے پر ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں؛ کچھ نے اسے سراہا جبکہ چند حلقوں نے اس پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کے حالیہ اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ امر یقینی ہے کہ حکومت کوئی دباؤ نہیں لے رہی اور ملک کے لیے نقصان دہ کسی بھی قدم کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کی جانب سے وزیر خزانہ کو بھیجے گئے خط کے بارے میں بات کرتے ہوئے ICST کے پیٹرن شاہد رشید بٹ نے PAMA کی تجویز کو نظر انداز کرنے کا کہا۔

PAMA نے یکم اکتوبر 2018ء کو وزیر خزانہ اسد عمر کو ایک خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ حکومت نان-فائلرز پر پابندی سے فروخت میں آنے والی کمی کی وجہ سے ریونیو میں 50 ارب روپے گنوائے گی۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نان-فائلرز کے خلاف ایکشن پوری طاقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے قدم اٹھانا زبردست ہے اور کالے دھن اور غیر قانونی معیشت کے حجم کو روکے گا۔

واضح رہے کہ صنعتی ذرائع کے مطابق نان-فائلرز کے معاملے کی وجہ سے ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد کمی آئی۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top