اسلام آباد میں جعل سازی کرنے والے پٹرول پمپوں پر 19 لاکھ روپے کے جرمانے

0 270

حال ہی میں اسلام آباد میں جعل سازی کرنے اور صارفین کو کم ایندھن دے کر لوٹنے والے پٹرول پمپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ایک مہینہ طویل اس مہم کا نتیجہ 19 لاکھ روپے کے جرمانوں کی صورت میں نکلا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق مہم کا آغاز چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد کے حکم پر کیا گیا تھا۔ کریک ڈاؤن کے دوران ٹیموں نے پایا کہ 30 سے زیادہ پٹرول پمپوں کے پیمانے ٹھیک نہیں ہیں۔ ٹیم نے اپنے پیمانوں میں ایک لیٹر ایندھن ڈال کر دیکھا تو بیشتر پٹرول پمپ ناپ تول کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔ اس کے علاوہ پٹرول پمپ ملازمین کو کم از کم تنخواہ ادا نہ کرنے، سیفٹی اور سکیورٹی اقدامات کی پیروی نہ کرنے، چائلڈ لیبر کے ارتکاب اور صارفین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کے واقعات بھی دیکھے گئے۔ 

پٹرول پمپوں کی جانچ اگلے مہینے بھی جاری رہے گی اور ایندھن کی مقدار میں ڈنڈی مارنے والے تمام پٹرول پمپوں پر سخت جرمانے کیے جائیں گے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ICT) کی آفیشل ٹوئٹ دیکھیں۔

شہر میں اِن چند پٹرول پمپوں کو جرمانے کیے گئے اور انہیں سیل کر دیا گیا: 

1۔ PSO پٹرول پمپ سیکٹر G-7 

2۔ PSO پٹرول پمپ G-8 

3۔ PSO پٹرول پمپ سیکٹر G-9/4

4۔ PSO پٹرول پمپ سیکٹر I-10

5۔ PSO پٹرول پمپ سیکٹر F-6 

6۔ PSO پٹرول پمپ سیکٹر F-7 

7۔ PSO پٹرول پمپ میلوڈی 

8۔ PSO پٹرول پمپ مہر برادرز

9۔ PSO پٹرول پمپ کشمیر ہائی وے 

10۔ ٹوٹل پٹرول پمپ سیکٹر F-8 

11۔ ٹوٹل پٹرول پمپ سیکٹر F-10 

12۔ ٹوٹل پٹرول پمپ سیکٹر I-9 

13۔ ٹوٹل پٹرول پمپ ایکسپریس ہائی وے 

14۔ ٹوٹل پٹرول پمپ بری امام

15۔ شیل پٹرول پمپ سیکٹر I-8 

16۔ اٹک پٹرول پمپ سیکٹر F-8 

17۔ اٹک پٹرول پمپ سیکٹر H-8 

18۔ اٹک پٹرول پمپ لہتراڑ روڈ 

19۔ اٹک پٹرول پمپ ترامڑی 

20۔ ہیسکول پٹرول پمپ لہتراڑ روڈ 

حکام نے نوزل کی درستگی اور مناسب re-calibration تک اِن پمپوں کو سِیل کرنے کا حکم دیا۔ حکام کی ان چند ٹوئٹس پر نظر ڈالیں کہ جن میں مہم کے دوران پٹرول پمپوں کو جرمانے کرنے کی تصاویر بھی ہیں۔ 

کشمیر ہائی وے پر واقع PSO پٹرول پمپ کو کم از کم تنخواہ کے قانون کی پاسداری نہ کرنے پر 10,000 روپے جرمانہ کیا گیا۔

F-10 مرکز میں واقع ٹوٹل پٹرول پمپ کو نوزل non-calibrate ہونے پر 75,000 روپے کا جرمانہ کیا گیا تھا۔ 

I-8 مرکز میں شیل پٹرول پمپ پر پیمائش سے کم مقدار میں ایندھن فروخت کرنے پر 25,000 جرمانہ کیا گیا تھا۔ 

سیکٹر F-11 مرکز میں اٹک فیول اسٹیشن کو بھی non-calibrated نوزل پر 25,000 روپے جرمانہ کیا گیا۔

بلو ایریا میں واقع PSO فیول اسٹیشن کو بھی اِسی مسئلے پر 25,000 روپے جرمانہ کیا گیا۔ 

اسی طرح کئی دوسرے پٹرول پمپوں کو ناپ تول میں کمی پر سِیل کیا گیا۔ درحقیقت پٹرول پمپوں پر ناقص نوزل کے ذریعے صارفین کو لُوٹنا عام ہے۔ حکومت کو پٹرول پمپوں پر نظر رکھنے کے لیے بارہا ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ آجکل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صارفین کو لوٹُنے کا یہ سلسلہ فوراً رُکنا چاہیے۔ ساتھ ہی ایسے کریک ڈاؤن دیگر شہروں میں بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ہماری طرف سے اتنا ہی۔ مزید خبروں کے لیے پاک ویلز کے ساتھ رہیں۔ نیچے تبصروں میں اپنی رائے بھی پیش کیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.