تیل کی قیمتوں میں اضافہ؛ اوگرا کو نوٹس جاری

crude-oil-price-up-urdu

عام شہریوں اور کاروباری حلقے کی جانب سے شدید ترین تنقید اور احتجاج کے باوجود گزشتہ ایک سال سے حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق تیل کی قیمت میں اضافہ کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔ اس ضمن میں آئل اینڈ گیس ریگویلیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ہر درخواست کو قبول کرتے ہوئے ہر ماہ پیٹرول کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے من مانا اضافہ کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے عدالت نے اوگرا سمیت متعلقہ وزارتوں کو قانونی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف رواں سال حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پہلا اضافہ سال کے آغاز پر کیا گیا جبکہ دوسرے ماہ یعنی فروری 2018ء کی شروعات بھی پیٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر کی گئی۔ یوں، مسلسل دو ماہ ایندھن مہنگا کیے جانے کے بعد ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر منفی اثرات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اس لیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ سراسر نا انصافی پر مبنی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو جواب دہی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ مقامی خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو سات یوم میں جواب داخل کروانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور اگر وہ مقررہ مدت میں جواب دینے میں ناکام رہے تو پھر مقدمے کا فیصلہ ان کا جواب سنے بغیر کر دیا جائے گا۔ مقدمے کی مزید کارروائی کو 12 فروری تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے اقدام کو ہر طبقہ فکر کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ملک بھر کے ایوانان صنعت و تجارت کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی حکومتی اقدام کو ظالمانہ فیصلے سے تعبیر کر رہی ہیں۔

مزید برآں، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بھی کرائے میں اضافہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کی انجمن کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کرائے میں 14 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس اطلاق فی الفور کیا جا رہا ہے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top