محفوظ اور باسہولت سفر کے لیے متوازن پہیوں کی اہمیت

wheel-balancing

بہت سے لوگ گاڑیوں کے پہیے متوازن رکھنے، جسے عرف عام میں ویل بیلنسنگ کہا جاتا ہے، کے معاملے میں انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے نئی نئی گاڑی لی ہو کیوں نئی گاڑیوں میں بہتر سسپنشن کی وجہ سے گاڑی چلانے والے کو لرزش (vibrations) محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن پرانی گاڑیوں میں ایسا نہیں ہوپاتا اس لیے بروقت پتہ چل جاتا ہے کہ اب آپ کے پہیوں کا توازن بگڑ رہا ہے اور انہیں ٹھیک کروانے کی ضرورت ہے۔

گاڑی کے چاروں پہیے متوازن رکھنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ اسے نہ صرف ایک مقررہ وقت پر چیک کرواتے رہنا چاہیے بلکہ جب ضرورت محسوس ہو تب بھی اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔ خاص طور پر نئے پہیے یا ٹائر لگوانے کے بعد یا سسپنشن میں کسی قسم کا کام کروانے کے بعد تو اسے ضرور درست کروانا چاہیے۔ اس کا سب سے اہم فائدہ تو گاڑی چلانے میں آسانی ہے۔ اگر گاڑی کے پہیے متوازن ہوں گے تو وہ کسی بھی موسم اور سڑک کی خراب حالت پر بھی بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے۔

گاڑیوں کے ٹائر تبدیل کرتے ہوئے تو عموماً بیلنسنگ چیک کی ہی جاتی ہے لیکن روز مرہ استعال کی وجہ سے اس میں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ ہر 10 سے 15 ہزار کلومیٹر سفر کے بعد ویل بیلنس کروا لیں۔ اس سے آپ کو گاڑی، سیٹ، فلور، اسٹیئرنگ وغیرہ پر کسی قسم کی لرزش نہیں محسوس ہوگی جس سے آپ کی گاڑی پر زیادہ بہتر گرفت رہے گی۔

ذیل میں چند علامات درج ہیں جنہیں محسوس کر کے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کی گاڑی کو ویل بیلنسنگ کی ضرورت ہے۔

الف: عام رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے اسٹیئرنگ میں لرزش
ب: عمومی رفتار سے کچھ تیز گاڑی چلاتے ہوئے سیٹ یا فلور میں لرزش
ج: ٹائر پر موجودہ نشانات کا غیر معمولی شکل اختیار کر جانا

گو کہ گاڑی کی لرزش کے پس پشت اور بھی بہت سے عوامل کا فرما ہوسکتے ہیں لیکن زیادہ تر شکایات پہیوں کا توازن خراب ہونے کی صورت میں ہوتی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب بہترین کمپنی کے ٹائر بھی اسی وقت معیاری کام کرتے ہیں جب انہیں ٹھیک طرح سے لگایا گیا ہو۔ اگر آپ کی گاڑی کے چاروں پہیے متوازن ہوں گے تو آپ کا سفر محفوظ اور باسہولت رہے گا چاہے آپ کسی بھی موسم میں، کسی بھی قسم کی سڑک پر اور جتنی بھی رفتار سے گاڑی چلا رہے ہوں۔

Top