گاڑیوں کی درآمد میں 30 فیصد اضافہ؛ مقامی سرمایہ کاری کے مستقبل پر سوالیہ نشان!

Car Imports

سال 2015 کے دوران گاڑیوں ی درآمد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ جنوری تا دسمبر کُل 41,257 گاڑیاں پاکستان منگوائی گئیں۔ ان میں سے بڑی تعداد 34,765 مسافر گاڑیوں کی رہی جن میں 25 ہزار چھوٹی گاڑیاں، 4,036 ایس یو ویز اور 2,456 ہلکی و کاروباری گاڑیاں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 5 ہزار ہائبرڈ گاڑیاں بھی پاکستان درآمد کی گئیں ۔ یہ مجموعی طور پر سال 2014 میں منگوائی گاڑیوں کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کے پرزے بنانے والے اداروں کی انجمن پاپام کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 4 ہزار ایس یو ویز پاکستان منگوائے گئے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر تیار ہونے والے ٹویوٹا فارچیونر کی فروخت میں شدید کمی واقع ہوئی۔ یاد رہے کہ سال 2015 میں صرف 700 ٹویوٹا فورچیونر فروخت ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی گاڑی خود منگوائیں: جاپان سے گاڑی درآمد کرنے کا مرحلہ وار طریقہ

حکومت کی جانب سے بین الاقوامی کار ساز اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ تاہم آٹو پالیسی پر عدم پیش رفت اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات دیکھتے ہوئے ان اداروں کی جانب سے تحفظات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان تحفظات کو دور کرنے میں نئی آٹو پالیسی اہم ترین کردار ادا کرسسکتی ہے۔

عامر اللہ والا نے مزید کہا کہ

حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ درآمدات میں اضافے سے مستقبل میں ہونے والی سرمایہ کاری کے منصوبوں اور گاڑیوں کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں سے منسلک افراد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اگر پاکستان میں گاڑیاں منگوانے کا سلسلہ اسی شرح سے بڑھتا رہا تو اس سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی فروخت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جنہیں دیکھ کرغیر ملکی کار ساز اداروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا منصوبہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیات کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے اظہار دلچسپی

پاپام کے سابق چیئرمین نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کام کرنے والے کار ساز اداروں نے گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس کو ‘ ناکافی’ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اضافے کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کے مطابق 1 ہزار سی سی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافے سے درآمد کی بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی گاڑیوں جیسے SUVs اور چھوٹی بسوں کے لیے مختص دورانیے کو بھی 5 سال سے کم کر 3 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کی آمد سے شعبے میں کیا اثرات پڑتے ہیں۔ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ نئی آٹو پالیسی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اضافہ مراعات دی جائیں اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو قابو کرنے کے لیے بھی کچھ اقدامات اٹھائے جائیں۔ لیکن موجودہ صورتحال سے ایک بات واضح ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی ضخیم مارکیٹ موجود ہے اسی لیے گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ ہورہا ہے۔ درآمد میں دی گئی آسانیوں سے عام پاکستانی کے لیے اپنی من پسند گاڑی لینا آسان ہوچکا ہے وہیں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے خواہش مند اداروں کو بھی دھچکہ پہنچا ہے۔

Top