بدترین ٹریفک جام لاہور کے شہریوں کے لیے عذاب بن گیا

Mall Road

ایسا محسوس ہوتا ہے لاہور کے باسیوں نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اپنے ہی جیسے عام شہریوں کو مصیبت میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ پہلے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (BZU) کے طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شہر کی مصروف ترین شاہراہ کو بند کردیا کیوں کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ان کی اسناد تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ چند روز بعد ان کی دیکھا دیکھی پنجاب یونیورسٹی (PU) کے طلبا نے بھی کینال روڈ بند کردی اور یوں شہر میں دو بدترین ٹریفک جام کے واقعات رقم ہوگئے۔

گزشتہ روز بھی مال روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر سفر کرنے والے ہزاروں افراد کو اس وقت شدید کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب نوجوان طبیبوں کی انجمن (YDA) کی جانب سے ساتھی ڈاکٹروں کی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔ ان مثالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہم شاہراہوں کو بند کر نے کا رجحان کس قدر تیزی سے پنپ رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی پریشان کن ہونی چاہیے۔

پچھلے دو روز سے میو اسپتال کے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر عملہ مال روڈ پر براجمان ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہورہی ہے۔ موٹر سائیکل اور گاڑیوں میں مال روڈ کا رخ کرنے والے حضرات کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاجی مظاہرے کے باعث مال روڈ سے منسلک ہونے والی دیگر شاہراہیں بشمول ڈیوس روڈ، سندر داس روڈ اور 7th کلب روڈ پر بھی ٹریفک روانی میں متاثر ہے۔ اہم شاہراہوں پر جاری احتجاج سے دکاندار، کاروباری افراد اور دیگر شعبے ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عام افراد کی جانب سے اہم شاہراہوں کو بند کیے جانے کے باوجود شہر کی ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کا حرکت میں نہ آنا انتہائی افسوس اور تشویش کی بات ہے۔ عام لوگوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کو اس پریشانی سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس ضمن میں متبادل راستوں کا بندوبست نہ کرنے اور عوام کو آگہی فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔

انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق ٹریفک پولیس ترجمان نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس کے سربراہ طیب حفیظ چیمہ کی ہدایت پر SP اور تین DSP کے ہمراہ 14 افسران تعینات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو بحال کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مال روڈ پر 9 متبادل رستے بنائے گئے ہیں اور وہاں مسافروں کی رہنمائی کے لیے ٹریفک اہلکار بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں کینال روڈ، ریگل چوک، اور جنرل پوسٹ آفس کے نزدیک ٹریفک میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کے لیے تین لفٹرز بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ عام اہلکاروں کے ساتھ DSP کو بھی ٹریفک کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

Top