داؤد ابراہیم کی ہونڈائی ایسنٹ نذر آتش کرنے کا اعلان

featured

جرائم کی دنیا کے پراسرار ترین کردار داؤد ابراہیم کو بھارتی حکومت اپنے سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی عوام میں بھی داؤد ابراہیم کے نام سے نفرت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی نفرت کا برملا اظہار کرنے کے لیے ایک بھارتی شہری نے دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے داؤد ابراہیم کی سبز ہنڈائی ایسنٹ کو سرعام سامنے نذر آتش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے ان کے جرائم پیشہ گروہ کی آخری رسومات کا آغاز قرار دیا ہے۔

مہاراشٹرا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوانے والے داؤد ابرہیم کی ہونڈائی گاڑی بھارتی پولیس نے ایک سال قبل اپنی تحویل میں لی تھی۔ اس گاڑی کو رواں ماہ کے اوائل میں 6 ہزار روپے کے عوض نیلامی کے لیے ممبئی میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ نیلامی سوامی چکرپانی نے 32 ہزار روپے بولی لگا کر جیت لی تھی۔ انتہائی معروف شخص کی انتہائی قیمتی گاڑی کی اتنی کم بولی لگنے کی بنیادی وجہ بھارتی شہریوں میں داؤد ابراہیم اور ان کے خفیہ گروہ کی ہیبت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ ستاروں کی پر تعیش اور مہنگی گاڑیاں

سوامی چکرپانی نے بھارتی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ داؤد ابراہیم کی ہنڈائی ایسنٹ کو ایمبولینس کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے تاہم گاڑی خریدنے پر داؤد ابراہیم کے گروہ کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکیوں کے بعد انہوں نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انتہائی خستہ حالت والی مذکورہ گاڑی کو چند روز قبل ہی ممبئی سے نئی دہلی منتقل کیا گیا ہے جہاں سے اسے غازی آباد لے جا کر 23 دسمبر کی دوپہر نذر آتش کیا جائے گا۔ چکرا پانی نے دھمکی آمیز پیغامات سے متعلق شکایت متعلقہ تھانے میں درج کروا دی ہے البتہ اپنی حفاظت کے لیے ذاتی محافظ لینے سے انکار کیا ہے۔

داؤد ابراہیم کئی دہائیوں سے بھارت کو مطلوب شخصیات کی فہرست میں شامل ہیں۔ سال 2008 میں انٹرپول نے انہیں انتہائی مطلوب جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رکھا ہوا تھا۔ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق داؤد ابراہیم 1993 میں ممبئی شہر میں ہونے والے 12 بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں جن میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 700 کے قریب زخمی ہوئے تھے ۔ یہ دھماکے مبینہ طور پر 1992ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات کی انتقامی کاروائی تھے۔ اس کے علاوہ ان پر دہشت گردی، رقوم کی غیر قانونی نقل و حمل، بھتہ خوری، منشیات فروشی جیسے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top