ٹویوٹا پاکستان کی اپنے ہی 3 ڈیلرز کے خلاف کارروائی

toyota-indus-motors

ٹویوٹاانڈس موٹر کمپنی نے اپنے 3 ڈیلرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2 پہ معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی ہے اور تیسری ڈیلر شپ کو بیس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ادارے کی جانب سے نے ٹویوٹاHN  موٹرز اور ٹویوٹا سرگودھا موٹرز  کے خلاف مبینہ طور پر خریداروں سے ’اون‘ وصول کرنے پر یہ سنگین قدم اٹھایا گیا ہے۔

پاک ویلز نے اس خبر کی تصدیق کے لیے ٹویوٹا سرگودھا موٹرز سے رابطے کی کوشش کی تاہم کامیابی نہ مل سکی۔ البتہ ٹویوٹا HN موٹرز نے ہم سے اس بارے میں بات کی اور خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ٹویوٹا انڈس موٹرزکمپنی نے ’اون‘ لینے کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لیے ڈیلر شپ پر پابندی عائد کردی ہے۔

ٹویوٹا HN موٹرز نے مزید بتایا کہ ان کا اجازت نامہ گزشتہ سال نومبر 2017ء میں دو ماہ کے لیے منسوخ کیا گیا تھا تاہم مقررہ عرصہ گزر جانے کے باوجود انہیں گاڑیوں کی بُکنگ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پابندی کے باعث وہ اپنے صارفین کو گاڑیوں کی بروقت فراہمی نہیں کر پا رہے جس کی وجہ سے ان کی کاروباری ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔

’’ہمیں اپنے گاہکوں کی جانب سے گاڑیوں کی بُکنگ کی بہت سی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں لیکن ٹویوٹا نے ہمیں گاڑیوں کی بُکنگ اور فراہمی سے روک رکھا ہے۔‘‘ ٹویوٹا HN موٹرز کا موقف۔

دوسری جانب ٹویوٹا گارڈن موٹرز نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ جرمانے سے متعلق اڑائی جانے والے افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔

اس حوالے سے ہم نے براہ راست ٹویوٹا پاکستان سے بھی بات کی تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جیسے ہی ہمیں کوئی باضابطہ اطلاع موصول ہوگی، ہم اپنے قارئین کو ضرور آگاہ کریں گے۔

گاڑیوں کے شعبے سے ’اون‘ کی بلا کو ختم کرنے اور تمام صارفین کو یکساں خدمات فراہم کرنے کے لیے ٹویوٹا انڈس موٹرز نے گزشتہ سال نومبر میں لگ بھگ 1300 گاڑیوں کی بُکنگ منسوخ کردی گئی۔ علاوہ ازیں گاڑیاں بنانے والے ادارے کی جانب سے منسوخ شدہ گاڑیوں کے مالکان کو 60 کروڑ روپے بھی لوٹا دیے گئے تھے۔ ٹویوٹا پاکستان کی جانب سے منفرد اور قابل تعریف اقدامات کی تاریخ پہلے کبھی نہیں ملتی۔

اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے، پاک ویلز کے ساتھ رہیے!


Top