گاڑیاں ‘ہیک’ ہونے کا خطرہ؛ سدباب کے لیے انٹیل کی ہدایات

modern-cars-image

کیا آپ نے انٹیل (intel) کا نام سنا ہے؟ جی ہاں، وہی انٹیل جو پینٹیم کمپیوٹرز کی وجہ سے مشہور ہے اور اب اس کی Core سیریز بھی کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ لیکن شاید آپ کو علم نہ ہو کہ انٹیل صرف کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کے لیے چپس بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سمیت دنیا بھر کی پیش کی جانے والی ٹیکنالوجیز کا حصہ ہے جسے ہم روز مرہ کے استعمال میں لاتے ہیں۔

سفر کو مزید آرامدے بنانے اور حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے گاڑیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جب سے شروع ہوا ہے تب ہی سے بعض حلقوں کی جانب سے اس کے محفوظ ہونے پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اب جیسے جیسے گاڑیوں میں نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ویسے ویسے اس کو ہیک کیے جانے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی حوالے سے گزشتہ دنوں انٹیل نے گاڑیاں بنانے والے اداروں کے لیے چند ہدایات جاری کی ہیں جن پر عمل کر کے وہ گاڑی کے جدید نظام میں کسی کی دخل اندازی یا اسے قابو کر لینے کے خطرے سے بچا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے انٹیل کا کہنا ہے کہ

کمپیوٹر سے گاڑیوں پر ہونے والے حملوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا ہے اس لیے مسافروں، گاڑیاں بنانے والے اداروں اور حفاظتی نظام بنانے والوں کو اس حوالے سے بہت احتیاط برتنی ہوگی۔ مستقبل قریب میں گاڑیوں کا شعبہ ان اداروں کے نام رہے گا جو معیاری اور محفوظ گاڑیاں فراہم کر کے صارفین کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔”

انٹیل کی جانب سے گاڑیاں بنانے والے اداروں کو دی جانے والی ہدایات کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

  • ہارڈویئر کی حفاظت: ارادی یا غیر ارادی طور پر گاڑی کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کو روکنا
  • سافٹوئیر کی حفاظت: گاڑی کے نظام کو نقصان پہنچانے، یا صارفین کی ذاتی اور خفیہ معلومات چوری کرنے سے بچانا
  • کلاؤڈ سیکورٹی: گاڑی سے متعلق بروقت معلومات کا حصول تاکہ اس کے نظام کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھا جائے
  • سپلائی چین مینجمنٹ: صارفین کو گاڑی کے ساتھ درست حفاظتی نظام فراہم کرنا

اس رپورٹ میں گاڑی سے رابطے کا محفوظ اور موثر ذریعہ بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ گاڑی کو موصول ہونے والے سگنلز میں دخل اندازی کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں سپلائی چین کے ذریعے ان حفاظتی معیارات پر عمدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

پروڈکشن کے شعبے میں حفاظتی معیارات کی غیر جانبدارانہ چانچ کی جانے چاہیے اور پھر مرتب شدہ سفارشات پر کام کیا جانا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں تاکہ اس حوالے سے مزید بہترطریقہ کار سامنے آسکے۔ جدید گاڑیوں میں شامل الیکٹرانک کنٹرول یونٹ (ای سی یو) کے حفاظت، سافٹویئر، نیٹ ورک، کلاؤٹ سمیت گاڑی کے مسافروں سے متعلق نجی معلومات کو بھی ہیکنگ کے خطرات سے محفوظ بنانا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اب گاڑی کا اںحصار صرف مکینکی نہیں بلکہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر بھی ہوچکا ہے۔ گاڑیاں اب آپ کی معلومات اکھٹی کرنے اور پھر ان معلومات کو آپ کی سہولت کے لیے استعمال کر سکیں گی جس سے سفر مزید پُر لطف ہوجائے گا۔ لیکن ساتھ ہی ہیکنگ کے خطرات سے بھی نمٹنا پڑے گا جس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنی گاڑی کو جدید ترین نظام پر اپگریڈ کرتے رہیں۔

Top