پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت میں انٹرنیٹ کا کردار

Car-shopping

دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے کا رجحان ابھی ابتدائی مراحل میں ہے البتہ اس میں وقت کے ساتھ تیزی آ رہی ہے۔ آن لائن خریداری کے مواقع سے جہاں شہر میں رہنے والوں کو فائدہ ہو رہا ہے وہیں دور دراز علاقے کے لوگوں تک بھی وہ مصنوعات پہنچ رہی ہیں کہ جو انہیں مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ حال ہی میں3G اور LTE کی سہولت متعارف کروائے جانے سے آن لائن ویب سائٹ اور ای-کامرس شعبہ میں اور بھی زیادہ دلچسپی لی جانے لگی ہے کیوں کہ اب انٹرنیٹ کی رفتار پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہے اور اس کا استعمال بھی بہت آسان ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بڑے اور نامی گرامی کاروباری ادارے بھی آن لائن خریدو فروخت شروع کرچکے ہیں جن پر صارفین کو مفت گھر بیٹھے مصنوعات فراہم کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح بھی اس بات کا ثبوت ہے۔

internet-users-pc-pakistan

گاڑیوں کا شعبہ اور آن لائن کاروبار

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال اور اس سے آن لائن کاروبار کی ترقی نے پاکستان کے بہت سے شعبوں میں مثبت نتائج چھوڑے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خریداری کرنے والے افراد برقی مصنوعات، کپڑے اور گاڑیوں میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ آن لائن خرید و فروخت کی معروف ویب سائٹ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے صارفین برقی مصنوعات اور لباس کے بعد سب سے زیادہ گاڑیاں اور اس سے متعلق مواد تلاش کرتے ہیں۔

ecom-market-segments

پاکستان جیسے ملک میں آن لائن خریداری کرنا اور وہ بھی گاڑی جیسی مہنگی چیز کی، یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔بہترین سے بہترین گاڑیاں رکھنے والے افراد بھی اس بارے میں انٹرنیٹ پر تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں چاہے وہ محض معلومات کا حصول ہو یا گاڑی کی قیمتیں، اور ان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کی گاڑیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک ثبوت حال ہی میں شروع ہونے والی گاڑیوں کی بے شمار ویب سائٹس ہیں۔

استعمال شدہ گاڑی خریدنا چاہتے ہیں؟ تو یہاں کلک کریں

پاکستان کے ایک معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہاں 80 فیصد نئی گاڑیاں اور 100 فیصد استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت انٹرنیٹ سے شروع ہوتی ہے۔ گاڑیوں کے شعبے میں کام کرنے والے گھاک کاروباری افراد بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب ان کی توجہ روایتی میڈیا سے ہٹ کر آن لائن میڈیا کی طرف ہوتی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے ذخیرے نے ایک عام آدمی کو گاڑی سے متعلق ہر ممکن چیز جاننے کا رستہ دکھا دیا ہے۔ اب وہ وقت نہیں کہ جب گاڑی فروخت کرتے وقت خریدار سے کچھ چھپایا جاسکتا تھا بلکہ اب تو خریدار گاڑی کے مالک سے زیادہ جان سکتا ہے۔ موجودہ دور میں ہر شخص انٹرنیٹ اور بالخصوص سوشل میڈیا کی مدد سے ہر بات معلوم کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف فورمز بھی موجود ہیں کہ جہاں لوگ گاڑیوں سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے قیمتی مشورے سے بھی نوازتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی خریدنے کا خواہش مند باآسانی مختلف ذرائع سے گاڑی کی مناسب قیمت بھی معلوم کرسکتے ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ اب لوگ غیر معیاری گاڑیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اب گاڑی میں دریافت ہونے والا چھوٹا سا مسئلہ بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل سکتا ہے جو بہرحال گاڑی اور اسے بنانے والے ادارے کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اسی لیے کار ساز ادارے بھی اچھی سے اچھی چیز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ای-کامرس شعبے کی وجہ سے پاکستانیوں کی خرید و فروخت کا انداز بدل رہا ہے۔ یہ گاڑیاں فروخت کرنے والے اور خریدار دونوں کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے۔ جہاں اس سے گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کو لامحدود مواقع میسر آچکے ہیں وہیں گاڑی خریدنے والے کے لیے بھی اس سے متعلق ہر چھوٹی بڑی معلومات عیاں ہوچکی ہے جس سے وہ اپنی خریداری سے پہلے اچھی طرح چھان پھٹک کر کے اچھا فیصلہ کر سکتا ہے۔

Junaid holds an MBA Marketing degree from Lahore School of Economics. He has been working for many reputable organizations since 2010. He has a passion for creative and analytical writing.

Top