کیا سوزوکی سیاز اپنی قیمت کے قابل ہے؟ یہاں پڑھیں آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے

ciaz-1-1

سوزوکی سیاز کی حالیہ لانچنگ سے پاک سوزوکی نے 1300cc کیٹگری میں ہونڈا سٹی اور کرولا جی ایل آئی سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سیازسٹی اور جی ایل آئی دونوں کی سیل ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ کچھ مختلف نقطہ نظر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاز کی قسمت ویسی ہی ہے جیسی بدقسمت سوزوکی کزاشی پاکستان میں آئی۔ حتمی فیصلہ میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں آئیے ہم سوزوکی سیاز خریدنے کے فوائد اور نقصانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

فوائد:

پاک سوزوکی نے سیاز کے یونٹس تھائی لینڈ سے درآمد کیے ہیں جو اس کی کوالٹی کو مختلف طرح سے غیر معمولی بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ ناقدین بھی سیاز کی کوالٹی کے معترف ہیں۔ مزید یہ کہ سیاز ڈبل ایئر بیگز، اموبلائزر اور کی لیس انٹری سے لیس ہے۔ فیول اکانومی کے بنیادی مسلئہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سوزوکی نے سیاز میں اپنا فیول مائیلیج کے اعتبار سے بہترین 1400cc K سیریز کا انجن نصب کیا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں K سیریز کے انجن کے مثبت اسباب کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو اس منظر نامے میں ہمارے پاس سوزوکی ویگن آر کی مثال موجود ہے۔ تمام تر تنقید کے باوجود ویگن آر کی فیول اکانومی کی ہمیشہ تعریف کی گئی ہے۔ تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ سیاز سٹرک پر موجود سب سے بہترین فیول مائیلیج والی گاڑیوں میں سے ایک ہوگی جوکہ شہر کے اندر 15-16 کلومیٹر اور ہائی وے پر 17-18 کلومیٹر فی لیٹر کی فیول ایوریج دے گی۔ سوزوکی سیاز کا کیبن کافی کشادہ ہے اور اس میں سامنے اور پیچھے دونوں سیٹوں کے مسافروں کے لیے ٹانگیں رکھنے کی کافی جگہ موجود ہے۔ آخری مگر انتہائی اہم بات یہ ہے کہ سوزوکی سیاز میں جنرل ٹائرز کی جگہ بریج سٹون کے ٹائر ہیں جو پاک سوزوکی کی آنی والی ہر گاڑی کا مستقل حصہ ہیں۔

نقصانات:

1

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاک سوزوکی نے تاریخ میں اپنی زیادہ تر گاڑیوں کے بنانے میں کئی غلطیاں کیں اور کزاشی اس غلطیوں کے کلب کا رہنما ہے جو مارکیٹ میں آیا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے کہ سوزوکی سیاز کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔ نئی متعارف کروائی جانے والی سوزوکی سیاز میں نیویگیشن سسٹم کی جگہ ایک سادہ سی ڈی پلیئر اور ایک اینالوگ کلائیمیٹ کنٹرول سسٹم نصب ہے اور نہ جانے کن وجوہات کی بنیاد پر یوایس بی پورٹ کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اور اس سے بدترین چیز یہ ہے کہ یہاں پرانے زمانے کے سی ڈی پلیئر کو جدید نیویگیشن اور انفوٹینمنٹ سسٹم سے بدلنے کے لیے جگہ بھی موجود نہیں ہے۔ یونیورسل انفوٹینمنٹ سسٹم کو ڈیش بورڈ میں نصب کرنے کے لیے خطرناک تبدیلیاں کرنا پڑیں گی جس سے کیبن برا نظر آئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ نیویگیشن اور انفوٹینمنٹ سسٹم نہ ہونےکی وجہ سے پچھلے کیمرے کے لگنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اوریہ زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کہ نئی متعارف کروائی جانے والی سوزوکی سیاز الائے وہیلز کے ساتھ نہیں آتی۔ فی الحال یہ گاڑی تھائی لینڈ سے درآمد کی جارہی ہے تو مناسب قیمت پر اس کے سپیر پارٹس کی دستیابی ایک مسلئہ ہوگی جب تک پاک سوزوکی اس گاڑی کو مقامی سظح پر بنانا شروع نہیں کرتا۔ آخری بات یہ کہ سوزوکی سیاز مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ 1.7 ملین روپے میں آتی ہے جس کی وجہ سے پاک سوزوکی کی ٹیم کو خریدار لانے کے لیے بہت خاص مارکیٹنگ مہارت کی ضرورت ہو گی۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ مقامی خریدار نئی سوزوکی سیاز کو ہونڈا سٹی یا کرولا جی ایل آئی پر ترجیح دیتے ہیں یا یہ پاک سوزوکی کے لیے کزاشی کے بعد دوسری بدقسمتی ثابت ہو گی۔ آپ کرولا جی ایل آئی اور ہونڈا سٹی کے مقابلے میں سوزوکی سیاز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔     

Top