کیا غیر قانونی پارکنگ کے جواب میں وندالیت یا تخریب کاری جائز ہے؟

Untitled-1

چند روز سے پاکستان میں وندالیت یعنی تخریب کاری کی کاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگر آپ سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس مثلاً فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ استعمال کرتے ہیں تو وندالیت کے حالیہ واقعات سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔ لیکن جس امر نے مجھے آج یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا وہ سوشل میڈیا پر ان تخریبی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی ہے۔

اس مدعے پر اپنے تحفاظات اور گزارشات بیان کرنے سے قبل یہ واضح کردوں کہ یہ مضمون موجودہ صورتحال پر میری رائے ہے جس سے قارئین کو اتفاق یا اختلاف کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ آپ کو وندالیت کے بارے میں مختصراً بتاؤں تاکہ وہ لوگ بھی اس تحریر کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں کہ جن کے لیے یہ لفظ اجنبی ہے۔

معروف آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا پر وندالیت کی تعریف کچھ یوں بیان کی گئی ہے: وندالیت (Vandalism) رومی وندالی قبائل کے نام سے ماخوذ لفظ ہے۔ اس سے مراد ایسا رویہ یا سلوک ہے جو کسی بھی خوبصورت، نادر یا غیر محفوظ چیز کی توڑ پھوڑ یا تخریب کا قائل ہو۔ عمومی استعمال میں یہ گرافیٹی، عوامی مقامات پر رکھے فن پاروں یا مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی املاک کو نقصان پہنچانے کے مجرمانہ عمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مختصراً یہ کہ وندالیت ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں کسی کی املاک مثلاً گھر، گاڑی وغیرہ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جائے۔ اب آئیے اس ضمن میں دو مختلف واقعات سے متعلق بات کرتے ہیں۔

پہلا واقعہ:

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نئی ہونڈا سِوک (Honda Civic) کی ایسی تصاویر آپ نے ضرور دیکھی ہوں گی کہ جس کے رنگ کو کسی نوک دار چیز سے کھرچا گیا ہے۔ یہ عمل بھی وندالیت یا تخریب کاری ہی کے زمرے میں آتا ہے۔پاکستان میں 1860 کے فوجداری قوانین 427، 428، 429 اور 435 کے تحت کسی کی ذاتی املاک کو نقصان پہنچانا یا کسی جانور کو قتل کرنا بھی قابل سزا ہے۔

دوسرا واقعہ:

میرے خیال سے اب قارئین پاکستان میں وندالیت سے متعلق قانون سمجھ چکے ہوں گے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی غیر قانونی عمل جیسا کہ گاڑی کی غلط پارکنگ اور دوسروں کو تکلیف کا باعث بننا یا سڑک کو جان بوجھ کر بند کردینے کے جواب میں وندالیت کو جرم تصور کیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دینا مشکل ہے۔
اس حوالے سے جب میں نے ایک ماہر قانون سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی عمل کے جواب میں فی الفور جواب دینے سے شاید آپ کو مرضی کے مطابق نتیجہ اور دلی اطمینان حاصل ہوجائے تاہم قانون ہاتھ میں لینا آپ کو بھاری پڑسکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صورتحال سے آگاہ کریں۔

اس طرح کا ایک واقعہ گزشتہ روز جناح سُپراسٹور کی پارکنگ میں پیش آیا کہ جب ایک ڈرائیور نے پارکنگ سے باہر جانے والے روڈ پر گاڑی کھڑی کی اور خریداری کے لیے چلتا بنا۔ اس سے پارکنگ سے باہر جانے والی تمام گاڑیوں کا راستہ بند ہوگیا اور کئی افراد کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل تھا لیکن مدعا یہ ہے کہ ایسے واقعات کا جواب کیسے دیا جائے؟ اس ضمن میں مشہور ویب سائٹ لائف ہیکر پر درج تین طریقے بہت مناسب اور قابل عمل ہیں:

1) کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے، پرسکون ہوجائیں
سب سے پہلےغصہ تھوکیں اور پرسکون ہوجائیں۔ اطمینان سے تمام تر صورتحال کا جائزہ لیں۔ اگر گاڑی پارک کرنے والے شخص انتہائی غیر ذمہ دار بھی معلوم ہوتا ہے تو بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیوں کہ آپ اس حرکت کے پیچھے موجود عوامل نہیں جانتے۔ ہوسکتا ہے کہ اس عمل کے پیچھے کوئی ایسی بات یا ہنگامی نوعیت کارفرما ہو کہ جس میں گاڑی ایسی کھڑی کرنا مجبوری یا ضروری ہوگیا ہو۔

2) ڈرائیور کو آگاہ کریں، لیکن مناسب طریقے سے
بہت سے لوگ شدید غصہ کی حالت میں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور غلط پارک ہونے والی گاڑی کے اوپر ہی ڈرائیور کے لیے پیغامات اور مغلظات لکھ دیتے ہیں۔ یہ عمل بالکل غلط ہے اور اس سے آپ خود کو پریشانی میں ڈال سکتے ہیں کیوں کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کسی شخص کی ذاتی املاک کو نقصان پہنچانا جرم اور قابل سزا ہے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کی گاڑی پر اسپرے یا مارکر کی مدد سے لکھ دینے سے آپ قانون کی گرفت میں آسکتے ہیں۔

ڈرائیور کو اس غلط حرکت سے متعلق آگاہ کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک صفحے پر اپنا پیغام لکھ دیا جائے اور اسے اگلے شیشے پر موجود وائپر کی مدد سے لگا دیا جائے۔ کیوں کہ اگر آپ نے کسی شخص کی گاڑی پر لکھنے کی کوشش کی اور آپ دھر لیے گئے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ غیر ذمہ دار شخص آپ کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اس طرح دو طرفہ لڑائی جھگڑے کی شروعات ہوگی جس کا خمیازہ دونوں ہی فریقین کو بھگتنا پڑے گا۔ لہٰذا پیغام پہنچانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کریں کہ جس سے کسی کا نقصان بھی نہ ہو اور آپ کی بات بھی اس شخص تک پہنچ جائے۔

3) قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کو خبر کریں
اگر آپ کسی چار دیواری میں بنائی گئی پارکنگ میں موجود ہیں تو ممکن ہے یہ کسی آس پڑوس کے اسٹور یا نجی ادارے کی ملکیت میں ہو۔ وہاں موجود کسی ذمہ دار شخص سے جگہ کے مالکان کا دریافت کریں اور انہیں غیر قانونی حرکات سے متعلق آگاہ کریں۔ اگر ان سے رابطہ کرنے کے لیے نمبر نہ مل سکے تو آپ قانونی نافذ کرنے والے اداروں سے بھی بلاجھجک رابطہ کرسکتے ہیں۔ اگر متعلقہ اداروں کو ان تمام لوگوں کی جانب سے شکایت موصول ہو کہ جنہیں کسی فرد واحد کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو تو ذمہ دار ادارہ مناسب قدم اٹھانے میں زیادہ دیر نہیں کرے گا۔ کیوں کہ ان اداروں کا کام ہی یہی ہے کہ جہاں کہیں قانون کی خلاف ورزی ہو وہاں فی الفور کاروائی کریں۔ لہٰذا بذات خود قانون ہاتھ میں لینے سے بہتر ہے کہ ان لوگوں کو اس سے آگاہ کیا جائے کہ جن کی یہ ذمہ داری بنتی ہے۔

اختتام کلمات

پہلا واقعہ:
کسی بھی شخص کی ذاتی املاک کو محض تفریح کی غرض سے تخریبی کاروائی کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مزمت عمل ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ عمل قانونی اعتبار سے بھی قابل سزا ہے۔ کسی بھی شخص کی نجی گاڑی کو ازراہ مذاق نقصان پہنچانے پر ہمیں اس کی تعریف نہیں کرنی چاہیے اور ایسا کرنے والے تمام افراد کی اجتماعی طور پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

دوسرا واقعہ
گو کہ میں یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ اس واقعے کی شروعات ایک غلط پارک کی جانے والی گاڑی سے ہوئی لیکن اس کا جواب غیر قانونی طریقہ سے دینا بھی مناسب نہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں غصہ پر قابو رکھتے ہوئے اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔ بصورت دیگر ہماری جوابی کاروائی خود اپنے لیے زیادہ بڑی مشکل کھڑی کرسکتی ہے۔ لیکن سب سے بھی زیادہ حیرت مجھے ان لوگوں پر ہے کہ جو ایسی حرکات پر حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر انتہائی غلط ہے۔ ٹریفک کے قوانین پر عملدرآمدگی یقینی بنانا اور اس حوالے سے آگہی فراہم کرنا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ کام انجام دے کر ایسے واقعات کی روک تھام میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اب میں اس سوال کی طرف آنا چاہوں گا کہ آیا غیر قانونی پارکنگ کے جواب میں وندالیت یا تخریب کاری جائز ہے؟ مجھ سے پوچھا جائے تو میں بغیر کوئی وقت ضائع کیے اس کا جواب “ہر گز نہیں” میں ہی دوں گا۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ عام فرد کے لیے کسی بھی قسم کی غیر قانونی حرکت دیکھنے کے بعد جواب میں بھی غیر قانونی قدم اٹھانا سراسر حماقت ہی ہے۔ یہ بہرحال میرا نکتہ نظر ہے جو میں نے تمام تر صورتحال کو سامنے رکھ کر بنایا ہے۔ مجھے امید ہے کہ دو واقعات کا خلاصہ پڑھنے اور میری رائے جاننے کے بعد آپ بھی اس پر موضوع پر ضرور روشنی ڈالیں گے گے۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

  • Shahid Mehmood

    Is say pehle ke is reaction ya takhreeb kaari ke baray mein baat ki jaye, pehle is baat per aatay hein ke aisa hota q hai? log itni la-parwahi kerte hi q hain. Jawab bohat seedha hai, “La Qanooniyat”. Qanoon to mojood hein lakin per amal kerne or kerwanay wala koi nahi. Aksar aisa hota hai ke illegal parking mein park ki hoi gari utha li jati hai (by police) or baad mein challan ki bajaye jaib bharnay per chor di jati hai. Logon ko pata hai ke police ya kisi or qanoon nafiz kerne walay ko bulanay ka matlab dard e sir lena hai is liye woh aisi herkatain kerte hein.

    Jawab mein aisa kero ke banda sharminda ho jaye lakin us ka koi nuqsaan na kero like scratching of paint or what.

Top