اسلام آباد پولیس بذریعہ موبائل فون چالان وصول کرے گی

isb-traffic-police-1

اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اور ٹریفک پولیس نے نظام میں بہتری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گاڑیوں کی ملکیت تبدیلی کے لیے سادہ کاغذ کی جگہ ٹرانسفر لیٹر کی شرط اور کتاب کے بجائے گاڑیوں کی رجسٹریشن پر اسمارٹ کارڈ کے اجرا جیسے قابل تعریف اقدامات اٹھائے جانے کے بعد اب اسلام آباد پولیس نے چالان وصولی کے طریقے میں بھی جدت کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے چالان جاری کیے جانے اور رقم وصول کرنے کے طریقے کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بذریعہ موبائل چالان بھیجے اور وصول کیے جاسکیں گے۔ فی الوقت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مجرم کا ڈرائیونگ لائسنس تحویل میں لے کر اسے کاغذی چالان جاری کیا جاتا ہے۔ اس کاغذی چالان میں درج رقم بینک میں جمع کروا کر اس کی نقل ٹریفک پولیس کے دفتر میں پیش کرنا ہوتی ہے جس کے بعد اپنے کاغذات واپس لیے جاسکتے ہیں۔ نئے نظام کی آمد سے ان محنت طلب مراحل کو مختصر کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف پر جرمانے میں 400 فیصد اضافہ ضروری ہے

اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ ادارے نے یوفون (uFone) اور نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) سے رابطہ کیا ہے جو چالان کی وصولی و ادائیگی کے لیے موبائل ایپ کی تیاری میں مدد کریں گے۔ مجوزہ طریقہ کار کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرکتب فرد کو پولیس افسر ایک پیغام بھیجے گا جس میں جائے وقوعہ، وقت اور خلاف ورزی کی نوعیت کے ساتھ جرمانے کی رقم بھی درج ہوگی۔ اس پیغام کی ایک نقل یوفون اور NBP کے پاس بھی محفوظ ہوجائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد بینک میں رقم جمع کروا کر اپنے کاغذات واپس لے سکتے ہیں۔

متعلقہ ادارے کی جانب سے موصول ہونے والی تفصیلات میں یہ بات نہیں بتائی گئی کہ رقم وصول ہونے پر رسید جاری کی جائے گی یا نہیں۔ آیا یہ رسید بذریعہ ایس ایم ایس ہی بھیجی جائے گی جس میں درج معلومات فراہم کر کے ٹریفک پولیس دفتر سے کاغذات لیے جاسکتے ہیں؟ یا پھر یہ موجودہ نظام کی طرح کاغذی صورت میں ہی ہوگی جیسا کہ ایزی پیسہ (easypaisa) یا کسی بینک میں پیسے جمع کروانے پر رسید دی جاتی ہے؟ اس حوالے سے معلومات آنا ابھی باقی ہیں۔

ایک اور پہلو جو بیان نہیں کیا گیا وہ ٹریفک قوانین کی بارہا خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے اضافی جرمانے سے متعلق ہے۔ نظام کو جدت سے ہم آہنگ کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی کی عادت رکھنے والوں کو سخت سزا دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ برطانیہ میں ٹریفک قوانی کی خلاف ورزیوں کو جانچنے کے لیے پوائنٹس سسٹم رائج ہے۔ اس کے تحت 12 پوائنٹس والے مجرمان کے ڈرائیونگ لائسنس حذف کیے جاسکتے ہیں اور اگر خلاف ورزی سنگین نوعیت کی ہو تو گاڑی چلانے پر مکمل پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ دبئی میں بھی ایسا ہی نظام موجود ہے جس کے تحت 24 پوائنٹس مکمل ہونے پر بھاری جرمانہ عائد کیے جانے کے ساتھ گاڑی بھی ضبط کی جاسکتی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ نئے نظام کو لاگو کرتے ہوئے پوائنٹس سسٹم کو بھی شامل کرے۔ یہ بات درست ہے کہ اس سے دیگر شہروں کے ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والوں پر یہ نظام لاگو نہیں کیا جاسکے گا لیکن دارالحکومت میں اس نظام کی کامیابی دیگر شہروں اور صوبائی انتظامیہ کو اس جانب ضرور راغب کرے گی۔

Top