جاگوار F ٹائپ اور پورشے 911 ٹربو S کا مقابلہ؛ فاتح کون ہوگا؟

Porsche 911 Turbo S vs Jaguar F-Type

جاگوار نے تقریباً چالیس سال بعد اپنے عہد کی مقبول ترین E ٹائپ کی جانشین یعنی F ٹائپ متعارف کروائی ہے۔ سال 2013 میں پیش کی جانے والی F ٹائپ سے جاگوار اور اس کے مداحوں کو بے پناہ توقعات وابستہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اسے مقبول اور پسندیدہ ترین E ٹائپ کی جانشین ہونے کا حق ادا کرنا ہے بلکہ پورشے، کوروے اور دیگر GT R گاڑیوں کے مقابلے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کو منوانا ہے۔

Jaguar F-Type

ریس کے شوقین افراد کے لیے جاگوار (Jaguar) نے ایک بہترین کام یہ کیا کہ F ٹائپ کو اسی برطانوی طرز کی اسپورٹس کار کا روپ دیا کہ جس سے E ٹائپ کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ جاگوار F ٹائپ R بھی اسی کا ایک ماڈل ہے جس میں 5000cc سُپرچارجڈ V8 انجن موجود ہے۔ یہ انجن چاروں پہیوں کی قوت سے چلنے والی گاڑی کو 542 بریک ہارس پاور اور 501 فٹ پاؤنڈ ٹارک فراہم کرتا ہے۔ انجن کے ساتھ 8-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس بھی دیا گیا ہے جبکہ کاربن سے بنے بریکس کا انتخاب کر کے گاڑی کے وزن کو 1730 کلوگرام تک گھٹایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورشے ماکان ٹربو 2017 اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے!

Porsche 911 Turbo S

جاگوار F ٹائپ کی قابلیت سے آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ یہ کوئی عام گاڑی نہیں ہےاور اس کا شمار ڈریگ ریس کی بہترین گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ ڈریگ ریس کا ذکر آیا ہے پورشے (Porsche) کی 911 ٹربو S کا تعارف بھی کرواتے چلیں کہ جسے ڈریگ ریس کی نئی ملکہ کہا جاتا ہے۔ پورشے 911 ٹربو S میں 3800cc انجن موجود ہے جو PDK ڈیول کلچ گیئر باکس کے ساتھ 572 ہارس پاور اور 553 فٹ پاؤنڈ ٹارک فراہم کرتا ہے۔ وزن کے اعتبار سے بھی پورشے 911 ٹربو S کو سبقت حاصل ہے کیوں کہ F ٹائپ کے مقابلے میں اس کا وزن 130 کلوگرام کم یعنی صرف 1600 کلوگرام ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ F ٹائپ قیمت کے اعتبار سے 911 ٹربو سے 70 ہزار پاؤنڈ سستی بھی ہے۔

اب ذرا سوچیئے کہ اگر ان دونوں گاڑیوں کا مقابلہ کروایا جائے تو بھلا کونسی گاڑی پہلے ہدف تک پہنچے گی؟ جواب جاننے کے لیے ذیل میں جاگوار F ٹائپ اور پورشے 911 ٹربو S کے درمیان زبردست محاذ آرائی ملاحظہ کریں:

Adan Ali

Adan is a Tribe Leader at Drive Tribe, who writes to share his passion for cars, culture and gadgetry through words. So far his writings and contributions have been able to make their way to media outlets like PakWheels and Dawn. Reach out to him by tweeting @adanali12

Top