جھل مگسی ریلی کی گاڑیوں کے قافلے کو حادثہ؛ کروڑوں روپے کا مالی نقصان


آج صبح ایک اندوہناک حادثے میں بلوچستان جانے والے گاڑیوں کے قافلے میں شامل کئی گاڑیوں بشول ریلی جیپ اور SUVs کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس قافلے میں متعدد گاڑیاں شامل تھیں جنہیں بلوچستان میں منعقد ہونے والی جھل مگسی ریلی 2016 میں حصہ لینا تھا۔

بلوچستان میں ہر سال منعقد ہونے والی جیپ ریلی کا آغاز 2005 میں ہوا تھا۔ اس سال جھل مگسی جیپ کی بارہویں ریلی منعقد ہوگی جس میں پہلے سے زیادہ مقامی ریسرز حصہ لیں گے۔ اس مرتبہ ریس ٹریک کو بھی 200 کلومیٹر تک وسعت دی گئی ہے۔گو کہ پاکستان میں گاڑیوں کے مقابلے تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں تاہم ایک جگہ سے دوسری جگہ گاڑیاں منتقل کرنے کے مناسب وسائل کی عدم موجودگی کے باعث ان مقابلوں کے انعقاد کا مستقبل خطرے میں نظر آرہا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران گاڑیوں کے تین مختلف قافلوں کو حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث گاڑیوں کے مالکان کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ آل پاکستان کار کیریئر ایسوسی ایشن کے ترجمان نے ان حادثات پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کو لاد کر لے جانے والے تمام ٹرک کے ڈرائیورز تربیت یافتہ ہیں اور ان کی لمبائی بھی بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر سوال پیدا ہوتے ہیں کہ ان حادثات کی وجہ کیا ہے؟ اور اگر ٹرک کی لمبائی وجہ نہیں تو پھر کون غلطی پر ہے اور ان حادثات سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

پاکستان میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مقابلوں کا انعقاد اور ان میں حصہ لینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مقابلے میں شرکت سے قبل گاڑی کو تیار کرنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے تعاون کا نہ ملنا بھی ایک المیہ ہے۔ چولستان جیپ ریلی ہی کی مثال لیں کہ جو حکومتی ادارے خود منعقد کرتے ہیں لیکن اس میں صرف شرکت کے لیے بھی ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے مقابلوں میں شرکت کرنے والوں کو اپنی گاڑی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے بذات خود محنت اور سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔ نیز اپنی گاڑی کو ایک جگہ سے مقابلے کے میدان تک پہنچانے کے اخراجات بھی خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے میں گاڑیوں کے قافلے کو حادثہ ہوجائے تو شرکاءکا مالی نقصان اور حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔


Top