کیا مہران کی ہم شکل چینی گاڑی پاکستان آیا چاہتی ہے؟

urdu-suzuki-mehran-real-fake

اب سے تقریباً دو ماہ قبل ہم نے پاک ویلز کے قارئین کو چین میں تیار ہونے والی ایک ایسی گاڑی سے متعلق بتایا تھا کہ جس کی شکل پاکستان میں دستیاب سوزوکی مہران سے بہت ملتی جلتی ہے۔ چینی کار ساز ادارے زوتیے آٹو موبائل کے ذیلی ادارے کی تیار کردہ یہ گاڑی جیانگ نان TT کے نام سے چین میں فروخت کی جارہی ہے۔ سوزوکی مہران کی ہم شکل جیانگ نان TT چین میں دستیاب سستی ترین گاڑی ہے جس کی قیمت صرف 15,800 یوآن یعنی صرف 2,50,000 لاکھ پاکستانی روپے ہے۔

مزید پڑھیں: جیانگ نان TT: سوزوکی مہران کی ہم شکل اور چین کی سستی ترین گاڑی!

اس دلچسپ خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد سوزوکی مہران کی ہم شکل گاڑی سے متعلق خبروں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جن میں اس گاڑی کی پاکستان آمد کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔ ہمیں ایسی بھی اطلاعات ملیں کہ یکم جولائی 2016 کو ایک نجی ادارہ اسے پاکستان میں متعارف کروانے جا رہا ہے اور اس ضمن میں پیشگی بُکنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ اس گاڑی کی دستیابی سے متعلق پاک ویلز کو بے تحاشہ سوالات موصول ہوئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس لیے ہم نے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالوں کے جوابات کو ایک مضمون کی صورت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہمارے قابل قدر قارئین کسی بھی جعل سازی کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں۔

jiangnan-tt-china-2

کیا ‘نئی سوزوکی مہران’ پاکستان میں متعارف کروادی گئی ہے؟

جی نہیں۔ اس حوالے سے اب تک جتنی بھی خبریں دیکھی گئیں ان میں کسی بھی معتبر ادارے کا نام موجود نہیں لہٰذا ایسی کسی بھی خبر پر یقین کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جس میں نئی سوزوکی مہران یا مہران کا نیا ماڈل متعارف کروانے سے متعلق بیان کیا گیا ہو۔ پاکستان میں نئی مہران متعارف کروانے کا اختیار سوزوکی موٹرز جاپان کے شراکت دار ادارے پاک سوزوکی کو حاصل ہے۔ پاک سوزوکی کے علاوہ کوئی ادارہ نئی سوزوکی مہران (Suzuki Mehran) متعارف نہیں کرواسکتا۔

کیا مستقبل میں ‘ڈھائی لاکھ کی مہران’ پیش کیے جانے کا امکان ہے؟

جی نہیں۔ ہمیں ایسی بھی خبریں موصول ہوئیں کہ جرائم پیشہ افراد کے گروہ لوگوں کو جیانگ نان TT کی مستقبل قریب میں آمد کا بتا کر پیشگی بُکنگ کے نام پر رقم بٹور رہے ہیں۔ یہ بدنیت گروہ ایک انتہائی منظم انداز سے فون کالز اور فیس بک صفحات کے ذریعے جعلی تشہیری مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے متاثر ہو کر کئی سادہ لوح افراد دھوکہ بھی کھا چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں پاک سوزوکی (Suzuki) سمیت کسی بھی ادارے کی جانب سے نئی سوزوکی مہران پیش کیے جانے کا بظاہر کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ پچھلے پچیس سالوں میں جس ادارے نے اپنی گاڑی میں کسی تبدیلی کی زحمت گوارا نہیں کی اس سے ڈھائی لاکھ میں نئے ماڈل کی امید رکھنا فضول ہی سمجھیے۔

کیا جیانگ نان TT کو پاکستان منگوایا جاسکتا ہے؟

گو کہ اس کا جواب ‘ہاں’ میں دیا جاسکتا ہے لیکن ہم جیانگ نان TT کو پاکستان منگوانے کا قطعاً مشورہ نہیں دیں گے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک گاڑی چلانے کے انداز میں بنیادی فرق ہونا بھی شامل ہے۔ چین میں تیار کی جانے والی گاڑیوں میں ڈرائیور کی نشست بائیں جانب ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں چلنے والی گاڑیوں میں ڈرائیور کی نشست دائیں جانب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چین سے گاڑیوں کی درآمد پر نہ صرف چین میں بلکہ پاکستان میں بھی بھاری درآمدی ٹیکس ادا کرنا ہوگا جس سے گاڑی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ چین میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے پرزے بھی پاکستان میں عام دستیاب نہیں لہٰذا اگر آپ اسے منگوانے کا ارادہ رکھتے ہی ہیں تو پھر ان مشکلات اور سر درد سے نمٹنے کے لیے بھی خود کو تیار رکھیں۔

پاک ویلز کے ذریعے اپنی پسندیدہ گاڑی پاکستان منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں

کیا انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی خبریں جھوٹی ہیں؟

جی ہاں۔ جیانگ نان TT کی پاکستان آمد سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ بعض ویب سائٹس ادھوری معلومات پر مبنی غیر مصدقہ خبریں چلانے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ جعلی خبروں پر مشتمل ان ویب سائٹس کا مقصد لوگوں کو بے وقوف بنا کر محض چند کلکس حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کی اس حرکت سے گو کہ انہیں چند پیسوں کا فائدہ ہوجاتا ہے تاہم عوام میں لایعنی باتیں پھیل جاتی ہیں جس کا سراسر نقصان عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

جب کبھی آپ کو گاڑیوں کے شعبے میں کسی بڑی سرگرمی کا علم ہو تو اس کے تصدیق کے لیے پاک ویلز بلاگ پر تشریف لائیں۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم آپ کو ہمیشہ مصدقہ معلومات ہی فراہم کرتے رہیں گے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

  • raza

    ager china s new mehran import krien tu ktna tax dana parhe ga

  • guest

    how FAW V2 is availabe in Pakistan when it is MADE IN CHINA???????????????????

  • khalil kundi

    This is justa game of misguiding the poor mentality of our society. Its a natural reasoning whereever a cheep deal is introduced against an already running trade then obviously greedy humanity is deviated in that direction. It’s never possible in legal way to introduce such a technology with a cheap price than a market price otherwise the running traders can exercise their right to restrain it through anti-dumping laws by filing their complaint in the competition commission. Anti-dumping laws never permit the new traders to dump the market of already running in a particular jurisdiction. So be aware and don’t try to accept any greedy deal.

Top