قراقرم موٹرز کے پیش کردہ قدیم ماڈلز؛ چینی گاڑیوں کی بدنامی کا سبب

Title

پاکستاان کی نئی آٹو پالیسی 2016-2021 نے دلچسپی رکھنے والے اداروں کے لیے پاکستانی مارکیٹ کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ گو کہ نئی آٹو پالیسی نے کچھ لوگوں کو حیران اور کچھ اداروں کو پریشان کردیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس سے نئے کار ساز اداروں کو پاکستانی مارکیٹ تک رسائی میں مدد ملے گی۔ قراقرم موٹرز کا شمار بھی ان اداروں میں ہوتا ہے کہ جو اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ قراقرم موٹرز نے پاکستان میں چینی گاڑیوں کی درآمد اور تیاری کے سلسلے میں اپنا پہلا کارخانہ 2003 میں قائم کیا۔ اب کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق قراقرم موٹرز پاکستان میں چینی گاڑیوں کی درآمد کا سب سے بڑا اور مقبول ترین ادارے ہے جس نے بہت سی نئی گاڑیاں، وین، سنگل اور ڈبل کیبل پک اپس، چھوٹے ٹرکس درآمد کیے۔ اس کے علاوہ قراقرم موٹرز وہ پہلا ادارہ ہے جس نے 800cc چینی گاڑیاں چین سے باہر کسی ملک میں تیار کرکے فروخت کرنا شروع کی تھیں۔ ویب سائٹ پر یہ بھی درج ہے کہ قراقرم موٹرز نے چینی کار ساز ادارے چیری آٹوموبائلز کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے 800cc چیری گاڑیوں کو درآمد کیا اور بہت جلد ان گاڑیوں کی پاکستان میں تیاری کا آغا ز کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی صارفین کے لیے موزوں 7 کم قیمت اور مختصر چینی گاڑیاں

اس کے باوجود قراقرم موٹرز پاکستان میں وہی گاڑیاں پیش کر رہا ہے جو تقریباً ایک دہائی قبل متعارف کروائی گئیں تھیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب چین میں گاڑیوں کا شعبہ دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک چینی گاڑیاں پیش کی جارہی ہیں، قراقرم موٹرز انہیں گاڑیوں کو گھسیٹ رہا ہے کہ جن سے چینی گاڑیوں کی پہلے ہی اچھی خاصی بدنامی ہوچکی ہے۔ قراقرم موٹرز کے نمایاں چینی کار ساز اداروں مثلاً چیری، چانگان، لیفان اور گوناؤ سے معاہدے ہیں۔ آج یہ تمام ہی ادارے جدت سے ہم آہنگ گاڑیاں بنانے میں مصروف ہیں لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قراقرم اب تک پرانے ماڈلز کی ہی فروخت کیوں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ نئی گاڑیاں پاکستان میں زبردست کاروبار کرسکتی ہیں۔یاد رہے کہ قراقرم اور چیری کے درمیان تکنیکی معاونت کا بھی معاہدہ موجود ہے جس کی تحت پاکستان میں جدید گاڑیاں پیش کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہوچکا ہے۔

Chery QQ- sold well during 2005-2007.

Chery QQ- sold well during 2005-2007.

2e5p543

Press Ad of QQ that appeared in 2012

03_04

Press Ad for Chery QQ dealerships

آئیے جائزہ لیتے ہیں چند گاڑیوں کا جنہیں قراقرم موٹرز یہاں فروخت کر رہی ہے۔ سب سے پہلے بات کرلیتے ہیں چیری QQ کی جسے 2005 میں متعارف کروایا گیا۔ ابتدا میں اسے زبردست پزیرائی حاصل ہوئی اور ایک قابل ذکر تعداد میں فروخت بھی ہوئی تاہم اب یہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ سال 2009 کے بعد یہ گاڑی مقابلے سے بالکل باہر ہوگئی جس کے بعد 2011 میں خبریں سامنے آئیں کہ پاکستان میں تیار شدہ چیری QQ3 آیا چاہتی ہے تاہم ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ سال 2008 میں قراقرم موٹرز نے لیفان 520 سیڈان پیش کرنے کا اعلان کیا اور اس کے متعلق اخبارات میں اشتہار بھی نظر آئے۔ بعدا زاں چند لیفان 520 سیڈان کو سڑکوں پر ہی دیکھا گیا جو دراصل ادارے کے ملازمین ہی کے زیر استعمال تھیں۔

dsc01369_BJ9_PakWheels(com)

Lifan 520 press ad which was published in newspapers.

image209_ZU4_PakWheels(com)

A Lifan 520 spotted in Karachi: year 2008

image000_DXG_PakWheels(com)

Gonow Victor and Troy ad in newspaper

kaghan

Kaghan Van- priced at PKR 12.85 was a complete flop

ٹویوٹا پراڈو کی چینی نقل گوناؤ وِکٹر کے نام سے قراقرم موٹرز نے 2006-07 میں پیش کی۔ حسب توقع یہ گاڑی زیادہ لوگوں کو متوجہ نہ کرسکی۔ سال 2011 میں قراقرم نے 11 نشستوں والی کاغان وین پیش کی جس کی قیمت 12.85 لاکھ روپے تھی۔ یہ گاڑی بھی بری طرح ناکام ہوئی۔ پھر اگلے سال یعنی 2012 میں خبریں آئیں کہ قراقرم پاکستان میں چیری فولوِن 2 سیڈان لا رہی ہے اور اسے کراچی کی سڑکوں پر دیکھا بھی گیا تاہم باضابطہ پیش کش آج تک نہیں کی جاسکی۔ اس کے علاوہ جن مسافر بردار وین اور سامان بردار پک اپس کو قراقرم نے یہاں پیش کیا ان میں کالاش، کالام اور گلگت بھی شامل ہیں۔

201211062280

Chery Fulwin2 sedan which was spotted in Karachi: 2012

چیری، چانگان، لیفان اور گوناؤ اس وقت دور جدید کی بہترین گاڑیاں تیار کر رہی ہیں لہذا قراقرم کو چاہیے کہ وہ موجودہ گاڑیوں کے ماڈلز کو ترک کر کے ان اداروں کی جدید گاڑیاں متعارف کروائے۔ آئیے ان اداروں بشمول چیری، چانگان، گوناؤ اور لیفان کی چند ایک گاڑیوں پر نظر ڈالتے ہیں جن سے قراقرم موٹرز کا معاہدہ موجود ہے اور وہ یہاں ان گاڑیوں کو پیش کر کےلوگوں کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی ادارے زوتیے کی گاڑیاں جو پاکستان میں پیش کی جاسکتی ہیں!

چیری فولوِن 2

چینی کارساز ادارے چیری کی تیار کردہ فولوِن 2 کو کراچی میں محو سفر دیکھا گیا تھا۔ یہ چونکہ کافی پرانی بات ہے اس لیے امکان یہی ہے کہ وہ فولوِن2 کا پرانا ماڈل ہوگا۔ سال 2013 میں فولوِن کو نیا انداز (فیس لفٹ) دیا گیا جس کے بعد اس کے مجموعی انداز میں بہت زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ یہ 109 ہارس پاور فراہم کرنے والے 1500cc انجن کے ساتھ منسلک 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ اسے سیڈان اور ہیچ بیک دونوں ہی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ فولوِن 2 نے نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک میں بھی مناسب پزیرائی حاصل کی۔ ہیچ بیک فولوِن 2 کی قیمت 50 ہزار یوآن (تقریباً 7.8 لاکھ روپے) سے شروع ہوتی ہے جبکہ فولوِن سیڈان کی قیمت 55 ہزار یوآن (تقریباً 8.6 لاکھ روپے) سے شروع ہوتی ہے۔ قیمت دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں یہ گاڑی کتنی کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہ بات بالکل سمجھ سے باہر ہے کہ قراقرم موٹرز نے اب تک یہ گاڑی متعارف کیوں نہیں کروائی۔

چیری ٹیگو 3

چین اور دنیا کی دیگر مارکیٹوں میں چیری ٹیگو 3 طویل عرصے سے پیش کی جارہی ہے۔ سال 2005 میں جب چیری نے یہاں QQ پیش کی تو امید تھی کہ جلد ٹیگو3 بھی پیش کی جائے گی۔ اس کی ایک وجہ ان کی ویب سائٹ پر موجود صفحہ پر ‘بہت جلد’ لکھا ہونا بھی تھا۔ یہ 126 ہارس پاور فراہم کرنے والے 1600cc انجن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔چیری ٹیگو 3 ایس یو وی مینوئل اور CVT ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ اس کی قیمت 70 ہزار یوآن سے شروع ہوتی ہے جو تقریباً 11 لاکھ پاکستانی روپے کے مساوی ہیں۔

چانگان بین بین مِنی

چین میں سوزوکی کے ساتھ کام کرنے والے ادارے چانگان نے سوزوکی آلٹو کی ساتویں جنریشن کی مدد سے بین بین مِنی تیار کی۔ اس میں DOHC 1 ہزار سی سی انجن شامل ہے جو 70 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔یہ انجن یورو IV معیارات پر پورا اترتا ہے۔ اسے مینوئل اور Intelligent Manual Transmission کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ بین بین مِنی کی قیمت 36 ہزار 9 سو یوآن (تقریباً 5.7 لاکھ روپے) سے شروع ہوتی ہے۔

چانگان V3

چانگان V3 کا شمار کم قیمت سیڈان گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ اسے 93 ہارس پاور فراہم کرنے والے 1300 سی سی انجن کے ساتھ منسلک 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت 43,900 یوآن سے شروع ہوتی ہے جو پاکستانی روپے میں تقریباً 6.9 لاکھ بنتے ہیں۔ قراقرم موٹرز پاکستان میں پرانے زمانے کی چانگان ڈبل کیبن گاڑیاں پیش کرنے کے بجائے اس طرح کی کم قیمت گاڑیاں متعارف کروانا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟

چانگان اسٹار 7

اس طرف قراقرم موٹرز ہمیں پرانے زمانے کی وین فروخت کر رہا ہے تو دوسری طرف چانگان اسی طرز کی جدید اسٹار 7 سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ اس گاڑی کو ٹورس (Taurus) کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔1400 سی سی انجن کی حامل اس 7 نشستوں والی گاڑی کی قیمت 46 ہزار یوآن سے شروع ہوتی ہے جو تقریباً 7.2 لاکھ پاکستانی روپے کے برابر ہیں۔ یہ بلاشبہ ان گاڑیوں سے بہتر ہے جو قراقرم موٹرز یہاں دہائیوں سے فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیفان X50 SUV

پچھلے کئی سالوں میں لیفان نے خود کو ‘نقل کرنے میں ماہر ‘ادارہ منوایا ہے اور چین میں سستی مسافر گاڑیاں بنانے والے اداروں پر سبقت لے جاچکا ہے۔ X50 دراصل ایک SUV ہے جسے لیفان سیڈان اور ہیچ بیک گاڑیوں سے زیادہ تعداد میں تیار اور فروخت کرچکا ہے۔ اس میں 93 ہارس پاور فراہم کرنے والا 1300cc یا پھر 102 ہارس پاور فراہم کرنے والا 1500cc انجن لگایا جاتا ہے۔ انجن کے ساتھ CVT یا پھر مینوئل ٹرانسمیشن منسلک ہوتا ہے۔ X50 کی قیمت 59,800 سے شروع ہوتی ہے جو تقریباً 9.5 لاکھ پاکستانی روپے کے مساوی ہے۔

لیفان 820

یہ چینی کار ساز ادارے لیفان کی پرچم بردار گاڑی ہے جو 133 ہارس پاور فراہم کرنے والے 1800cc انجن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ لیفان 820 کو 167 ہارس پاور فراہم کرنے والے 2400cc انجن کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ لیفان 820 میں شامل انجن برطانوی ادارے ریکارڈو سے مل کر بنایا گیا ہے۔ جبکہ 2400cc انجن جاپانی ادارے مٹسوبشی سے لیا گیا ہے۔ اس کی قیمت 81,800 یوآن سے شروع ہوتی ہے جو پاکستانی روپے میں 13 لاکھ روپے کے مساوی رقم بنتی ہے۔

یہ چند گاڑیوں کی مثالیں ہیں جنہیں قراقرم پاکستان میں پیش کر کے اچھا کاروبار کرسکتا ہے۔ آج چانگان، چیری، لیفان اور گوناؤ سب ہی ادارے بہترین گاڑیاں تیار کر رہے ہیں جن میں ہیچ بیک سے لے کر سیڈان اور SUV سے لے کر سیڈان تک ہر زمرے میں بے شمار ماڈلز شامل ہیں۔ ہم ان اداروں کی گاڑیوں پر علیحدہ بھی لکھیں گے تاہم یہ مضمون اپنے قارئین اور قراقرم موٹرز کو اس بابت سوچنے کی طرف راغب کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عام پاکستانی صارفین کی FAW سے وابستہ توقعات

غیر معیار اور پرانی ماڈلز کی گاڑیاں پیش کرنے کی وجہ سے دیگر چینی اداروں بشمول FAW کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بد سے بدنام برا کے مصداق چینی گاڑیوں کو بھی دیگر سستی اور غیر معیاری مصنوعات کی وجہ سے قابل اعتبار تصور نہیں کیا جاتا۔ قراقرم موٹرز کو اس بارے میں ضرور سوچنا ہوگا اور کم قیمت لیکن جدید اور معیاری گاڑیاں پیش کر کے چینی گاڑیوں سے منسوب اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

Top