پاکستان میں کاواساکی موٹر سائیکل کا زوال کیوں اور کیسے ہوا؟

Kawasaki-GT-100

سال 1982 میں لاہور اسٹاک ایکسچینج میں ایک نئے ادارے کا اندراج کروایا گیا۔ اس ادارے کا نام سیف ندیم کاواساکی موٹرز لمیٹڈ (SNK) تھا۔ ممکن ہے بہت سے لوگ SNK GTO موٹر سائیکلوں کے بارے میں بخوبی جانتے ہوں لیکن ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو کاواساکی (Kawasaki) موٹر سائیکلوں کے سے متعلق بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ اور انہی لوگوں کے لیے آج میں نے پاکستان میں کاواساکی کا تاریخی جائزہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیف ندیم کاواساکی نے 1977 میں مردان کے علاقے سخاکوٹ میں اپنا پہلا کارخانہ لگایا۔ بعد ازاں اس کارخانے کو ہری پور منتقل کردیا گیا۔ پھر 1983 میں کاواساکی موٹر سائیکلوں کے پرزوں کی پاکستان میں تیاری کا آغاز ہوا۔ صرف چار سال کے قلیل عرصے میں ادارے نے زبردست پیش رفت کا مظاہرہ کیا اور 1987 تک مجموعی طور پر 86 فیصد موٹر سائیکل کے پرزے مقامی سطح پر تیار کیے جانے لگے۔ سیف ندیم کاواساکی موٹرز لمیٹڈ نے اپنے زمانہ عروج میں متعدد مشہور موٹر سائیکلیں پیش کیں جن میں GTO 100، 110، 125 اور ان سب سے منفرد کاواساکی 100 اسپورٹ بھی شامل تھی۔

یہ ویڈیو دیکھیں: کاواساکی H2 سُپر بائیک پر کراچی کی سیر!

سیف ندیم کاواساکی موٹرز لمیٹڈ کی جانب سے 1993-94 تک موٹر سائیکل تیار کی گئیں۔ اس بات کو گزرے دو دہائی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے لیکن مجھ جیسے بہت سے لوگ کاواساکی موٹر سائیکلوں کو یاد کرتے ہیں۔ چند خوش قسمت افراد ایسے بھی ہیں کہ جو گزرے زمانے کی ان مشہور و معروف موٹر سائیکلوں کو آج بھی اپنے پاس رکھتے ہیں اور بہت فخر سے چلاتے ہیں۔ اب سے چند سال قبل مجھے بھی کاواساکی GTO 125 چلانے کا موقع ملا۔ بظاہر یہ موٹر سائیکل بہت پرانی اور زنگ آلود معلوم ہوتی تھی لیکن رفتار اور سفری تجربے کے معاملے میں یہ حیرت انگیز طور پر شاندار رہی۔اس میں ایک خاص بات جو مجھے نظر آئی وہ خود کار کِک اسٹینڈ تھا۔ یہاں آپ نے موٹر سائیکل کا کلچ دبایا اور وہاں کِک اسٹینڈ اوپر کی جانب تہ ہوجاتا ہے۔ اس سہولت سے کِک اسٹینڈ نیچے رہ جانے کے باعث ہونے والے حادثات کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔

کاواساکی موٹر سائیکلوں کا شوقین ہونے کی وجہ سے میں اکثر اس کے اچانک منظر عام سے غائب ہوجانے کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ ابتدا میں کاواساکی موٹر سائیکلوں کے بارے میں ایسی افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ان کی رفتار بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک پولیس کے لیے مشکلات پیدا ہورہی تھیں لہذا ان پر پابندی لگادی گئی۔ لیکن آپ خود سوچئے کہ 2-اسٹروک 125cc انجن کی حامل موٹر سائیکل کی زیادہ سے زیادہ رفتار کیا ہوسکتی ہے؟ اور اگر اس میں من پسند تبدیلیاں کر بھی لی جائیں مثلاً سیکشن پلیٹ اور انجن کو پیٹرول کی فراہمی بڑھا بھی دی جائے تو بھی یہ ناقابل یقین رفتار نہیں پکڑ سکتی۔

جب میں نے سیف ندیم کاواساکی موٹرز لمیٹڈ (SNK) کے بارے میں مزید چھان بین کی تو علم ہوا کہ 2/6/2014 کو کراچی اسٹاک ایکسچینج (KSE) نے سیف ندیم کاواساکی موٹرز لمیٹڈ کا نام حذف کردیا گیا۔ اس کے بعد لاہور اسٹاک ایکسچینج (LSE) کی جانب سے بھی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969 کے تحت یہی عمل دہرایا گیا۔ کراچی اور پھر لاہور اسٹاک ایکسچینج سے ایک ادارے کو اچانک نکال باہر کیے جانے سے مجھے مزید تجسس ہوا کہ آخر ایسی کیا وجہ ہوئی کہ ملک کے دو بازار حصص سے نکالنا پڑا۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی تو علم ہوا کہ درحقیقت یہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج میشن آف پاکستان (SECP) کے کہنے ہر کیا گیا ہے۔

درحقیقت اس ادارے کے خلاف سال 2003 میں دائر ہونے والے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ نے دفعہ 305 اور 309 کے تحت بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں 15 فروری 2000 میں ادارے کے دو اعلی عہدیداران کو بھی قومی احتساب بیورو (NAB) نے قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 31A کے تحت کر بینک سے دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا۔ بعد ازاں بینک کو ادارے کا کارخانہ نیلام کرنے کا اختیار دے دیا گیا تاہم تین بار کوششوں کے باوجود قابل ذکر بولی نہیں حاصل کی جاسکی۔

سیف ندیم کاواساکی کے ماضی سے متعلق معلومات حاصل کرنے سے قبل مجھے قطعاً اس ادارے کے اتنے برے انجام کی توقع نہ تھی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بینک سے دھوکہ دہی کرنے والوں اور ٹیکس نادہندگان کی حوصلہ افزائی کسی صورت ممکن نہیں تاہم میں اب بھی سوچتا ہو کہ کیا کاواساکی کا نام پاکستان میں ایک بار پھر نمودار ہوسکے گا۔ یاماہا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جو پاکستان سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چلی گئی لیکن پچھلے سالوں کے دوران نہ صرف اس جاپانی ادارے نے پاکستان واپسی کی کوشش کی بلکہ YBR125 پیش کر کے اپنے مداحوں کے دل ایک بار پھر جیت لیے۔ اس مثال کو سامنے رکھیں تو امید نظر آتی ہے کہ آج نہیں تو کل نئی اور جدید کاواساکی موٹر سائیکلیں پاکستان میں دستیاب ہو ہی جائیں گی۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

Top