کنگ لونگ لاہور میں اسمبلی پلانٹ لگائے گا

King Long

بسیں بنانے والا چینی ادارہ کنگ لونگ، شائن آٹوز کے ساتھ شراکت داری میں، پاکستان میں بسوں، ٹرکوں اور کمرشل گاڑیوں کی پیداوار کے لیے لاہور میں اپنا اسمبلی پلانٹ لگائے گا۔

پاکستان آٹو پالیسی 2016-2021ء، کہ جو پاکستان میں سرمایہ کاروں کو متعدد سہولیات پیش کرتی ہے، کے اعلان کے بعد سے کئی عالمی ادارے پاکستان میں اپنے اسمبلی پلانٹس لگانے کے لیے مقامی مینوفیکچررز کے تعاون کر چکے ہیں۔ رینو (رینالٹ)، نسان گندھارا، کِیا اور ہیونڈے نشاط جیسے دیگر کار مینوفیکچررز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بسیں بنانے والے چینی ادارے نے پاکستان کی آٹوموٹو صنعت میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔ شائن آٹوز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کنگ لونگ کی نظریں اب پاکستان میں بسیں، ٹرک اور کمرشل گاڑیاں بنانے پر مرکوز ہیں۔

کنگ لونگ اور شائن آٹوز کا مشترکہ منصوبہ مختلف صلاحیتیں رکھنے والے منی ٹرکس بھی پیدا کرے گا۔ چینی بس ساز 58 مسافروں کی گنجائش رکھنے والی بسوں کے ساتھ ساتھ 15 نشستوں کی کمرشل گاڑی کی پیداوار پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ کمپنی اپنی گاڑیوں کی پیداوار کے لیے 100 ایکڑ زمین حاصل کرنے کی خاطر متعلقہ حکام سے پہلے ہی رابطے میں ہے۔ پاکستان میں اتھارٹیز زمین کے حصول میں ان کی مدد کریں گی اور ہموار اور فوری آپریشن کو یقینی بنائیں گی۔ یہ مخصوص منصوبہ 200 ملین ڈالرز کی زبردست سرمایہ کاری سے آغاز کرے گا۔

جب معاملہ بسیں اور ٹرک بنانے کا ہو تو پاکستان کی آٹوموٹو صنعت زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ مقامی سطح پر پیداوار میں کمی کی وجہ سے اب تک ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی بڑی تعداد چین اور دیگر ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔ موٹرائزیشن انڈیکس کے مطابق پاکستان عالمی درجہ بندی میں 160 ویں نمبر پر ہے۔ یہ فی 1000 افراد گاڑیوں کی تعداد ہے۔ گاڑیوں میں کاریں، بسیں، وینز اور ٹرکس شامل ہیں۔ پاکستان میں فی 1000 افراد صرف 18 گاڑیاں ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ صنعت میں سرمایہ کاری کی کتنی زبردست گنجائش ہے۔

ایسی ہی خبروں میں چینی آٹومینوفیکچرنگ کمپنی کا ماسٹرز موٹرز کارپوریشن کے تعاون سے پاکستان میں چھوٹی کمرشل گاڑیاں اور کراس اوور SUVs تیار کرنے کی خبر بھی شامل ہے۔ ان کا ہدف ایک مرتبہ کراچی میں پلانٹ کی تعمیر کے مطابق اپنے یونٹس دیگر ممالک کو برآمد کرنے کا بھی ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آٹو انڈسٹری میں کہ جہاں مینوفیکچرنگ کا معیار بین الاقوامی معیارات سے کم رہتا ہے، یہ نئے اداروں کے لیے بلاشبہ زبردست موقع ہے کہ وہ گاڑیوں کی معیاری پیداوار کا راستہ بنائیں۔ مزید برآں، نئی آٹو پالیسی 2016-2021ء پاکستان میں مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے کے لیے آٹو مینوفیکچرنگ کے متعدد بڑے اداروں کا خیرمقدم کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے۔ حکومت کو ہماری معیشت کو مضبوط بنانے اور پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر نئے اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل قدم اٹھانے چاہئیں۔

اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who loves to write content related to the automotive industry and a photographer by passion!

Top