لاہور ہائی کورٹ نے کم عمر افراد ڈرائیورز پر پابندی لگا دی


13 ستمبر 2018ء کو لاہور ہائی کورٹ نے کم عمری میں ڈرائیونگ کے حوالے سے نوٹس جاری کیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مجرموں کے والدین کو جیل بھیجا جائے گا۔

حال ہی میں ایک ذمہ دار شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک تحریری درخواست کے ذریعے یہ معاملہ اٹھایا۔ بدھ 12 ستمبر 2018ء کو معاملے کی سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی اکبر قریشی نے کم عمری میں ڈرائیونگ پر پابندی لگائی اور کہا کہ کسی بھی کم عمر فرد کو گاڑیاں، موٹر سائیکلیں یہاں تک کہ رکشہ چلانے کی بھی اجازت نہیں۔ جسٹس قریشی نے واضح کیا کہ کسی بھی کم عمر فرد کو خلاف ورزی کرتے پایا گیا تو اس کے والدین یا سرپرست کو جیل بھیجا جائے گا اور ٹریفک پولیس کے حکام کو اس حوالے سے فوری طور پر تمام اقدامات اٹھانے کا حکم دیا۔ سٹی ٹریفک پولیس اب کم عمر ڈرائیورز کے خلاف بڑی مہم چلائے گی۔

چیف ٹریفک آفیسر لیاقت علی ملک نے پورے عملے اور ڈیوٹی پر موجود وارڈنز کو اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیا ہے۔ پہلی خلاف ورزی پر والدین کو پولیس اسٹیشن طلب کیا جائے گا اور ایک حلف نامے پر دستخط لیے جائیں گے کہ یہ خلاف ورزی دوبارہ نہیں ہوگی۔ اگر دوسری بار ایسا ہوا تو والدین کو جیل جانا ہوگا۔

دنیا بھر میں لائسنس حاصل کرنے کی مخصوص عمر ہے اور پاکستان میں بھی ایسے ہی قوانین ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس کی کھلے عام خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ہم کم عمر ڈرائیورز اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو روز ہی دیکھتے ہیں جن کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ کم عمری میں ڈرائیونگ کی اس مصیبت کئی حادثات کا نتیجہ بنی ہے جن کے سنجیدہ نتائج نکلتے ہیں اور کبھی کبھار تو اموات بھی ہو جاتی ہیں۔ کم عمر ڈرائیورز نہ صرف عوام بلکہ اپنی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ گاڑیوں کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد ہے جو موٹر سائیکلیں یہاں تک کہ رکشے/چنگ چی بھی چلاتی ہے۔

کسی کو بھی بغیر لائسنس کے کوئی گاڑی نہیں چلانی چاہیے اور 18 سال کی مقررہ عمر تک پہنچنے تک انتظار کرنا چاہیے، جیسا کہ موجودہ قوانین کے مطابق گاڑی چلانا سیکھنے کے لیے اجازت نامہ پانے اور بعد ازاں باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے کی عمر ہے۔ لرنر پرمٹ رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک لائسنس یافتہ ڈرائیور ہونا چاہیے۔ وہ بغیر اصل لائسنس کے اکیلے گاڑی نہیں چلا سکتے۔

امید ہے کہ دیگر صوبوں کی ہائی کورٹس بھی اس فیصلے کو نافذ کریں گی یا کم از کم ٹریفک ادارے پہلے سے موجود قوانین کو سختی سے لاگو کریں گے اور نہ صرف کم عمر ڈرائیورز کو بلکہ بغیر لائسنس کے گھومنے والے تمام ڈرائیورز اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو روکیں گے اور سزا دیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


Fazal Wahab

I am Civil Engineer by Profession and have love for High Rise Towers, Underground construction and Carbon Fiber Composites, automobiles is my first love. Its my passion to know and share about anything new in automobile industry.

Top