جنیوا موٹر شو 2016: لامبورگنی نے برق رفتار سینتِ نیریو ہائپر کار پیش کردی

lamborghini-centenario-(3)

جنیوا موٹر شو 2016 میں اطالوی کار ساز ادارے لامبورگنی نے 760 بریک ہارس پاور کی حامل سینتِ نیریو (Centenario) ہائپر کار متعارف کروادی ہے۔ یہ ہائپر کار لامبورگنی کے خالق فروشیو لامبورگنی کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر پیش کی گئی۔ خبروں کے مطابق یہ لامبورگنی ایوانتادور (Aventador) ہی کی جدید شکل ہے جس میں متعدد خصوصیات بالخصوص باہری ڈیزائن میں قابل ذکر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

لامبورگنی سینتِ نیریو کے عقب میں V12 انجن لگایا گیا ہے۔ اب تک کی تیز ترین لامبورگنی کا اعزاز 750 بریک ہارس پاور رکھنے والی لامبورگنی ایوانتادور کے پاس ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سینتِ نیریو کی رفتار SV ایونتادور سے 20 بریک ہارس پاور زیادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ 217 میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑنے والی سینتِ نیریو صرف 2.8 سیکنڈ میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی کے صحراؤں میں مدفن بیش قیمت اور نایاب گاڑیاں

نئی ہائپر کار میں لامبورگنی نے کاربن-سیرامک بریکس اور مقناطیسی خصوصیت کےحامل ڈمپر استعمال کیے ہیں تاکہ برق رفتاری کے باوجود گاڑی کو بروقت روکنا آسان بنایا جاسکے۔ تیز رفتاری میں گاڑی کا رخ تبدیل کرنا یعنی اسے موڑنا بھی مشکل ہوسکتا ہے اس لیے سینٹی نیریو میں 4-ویل اسٹیئرنگ کا نظام بھی لگایا گیا ہے۔

گاڑی کا مجموعی انداز کافی جوشیلا ہے اور دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بیرونی انداز میں سطور کو ایسے زاویوں سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ سینتِ نیریو کے سامنے لامبورگنی اوینتادور کچھ خاص معلوم نہیں ہوتی۔ گاڑی کے اگلے حصے میں ہوا کا دباؤ سے بچنے کے لیے بہت بڑے ائیر انٹیک استعمال کیے گئے ہیں جہاں سے داخل ہونے والی ہوا دائیں اور بائیں موجود دروازوں کے عقب سے باہر نکلتی ہے۔ پچھلی جانب ایک بڑا ڈفیوزر (diffuser) لگایا گیا ہے۔

فی الوقت لامبورگنی صرف محدود تعداد میں سینتِ نیریو تیار کرے گا۔ ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف 40 لامبورگنی سینتِ نیریو تیار کی جائیں گے جن میں سے 20 کوپے اور باقی روڈسٹرز ہوں گی۔ جس طرح ماضی میں پیش کی جانے والی منفرد گاڑیاں عوام کے سامنے آنے سے پہلے ہی فروخت ہوجایا کرتی تھیں اسی طرح یہ گاڑیاں بھی پہلے ہی سے خریدی جاچکی ہیں۔ دکھائی جانے والی گاڑی پر کوئی بھی رنگ نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے خریداروں کے من پسند رنگ سے مزین کیا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی قیمت 19 لاکھ ڈالر ہے جو ایونتادور سے چار گنا زیادہ ہے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top