دائیں اور بائیں سمت ٹریفک روانی میں کیا فرق ہے؟

Left hand drive and right hand drive

دنیا بھر میں گاڑیاں سڑک کے دائیں اور بائیں جانب سفر کرتی ہیں۔ لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ مختلف ممالک میں ان کی سمت تبدیل بھی ہوتی ہے۔ ملکی قوانین اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کی سمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی وہاں گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔ دائیں جانب سے چلائی جانے والی (LHD) گاڑیاں سڑک کے بائیں جانب سفر کرتی ہیں جبکہ بائیں جانب سے چلائی جانے والی (RHD) سڑک کے دائیں طرف سفر کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 65 فیصد آبادی بائیں جانب اسٹیئرنگ والی گاڑیاں جبکہ باقی 35 فیصد دائیں جانب اسٹیئرنگ والی سواریوں چلاتی ہے۔

RHD vs LHD

جن 161 ممالک میں گاڑیاں سڑک کے دائیں جانب سفر کرتی ہیں وہاں کے ٹریفک قوانین کچھ ایسے ہوتے ہیں:
٭ تمام گاڑیاں دائیں جانب سفر کرتی ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے گاڑی کو بائیں جانب لے جانا پڑتا ہے
٭ کسی بھی سڑک پر صرف بائیں جانب ہی سے ٹریفک شامل ہوا جاسکتا ہے
٭ بائیں جانب موڑ کاٹتے ہوئے شاہراہ پر رواں ٹریفک کو تقسیم کرنا پڑتا ہے
٭ چوراہوں پر گاڑیاں گھڑی کی مخالف سمت میں سفر کرتی ہیں

باقی ماندہ 75 ممالک (بشمول پاکستان) میں گاڑیاں سڑک کے بائیں جانب سفر کرتی ہیں۔ وہاں ٹریفک قوانین کچھ ایسے ہوتے ہیں:
٭ تمام گاڑیاں بائیں جانب سفر کرتی ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے گاڑی کو دائیں جانب لے جانا پڑتا ہے
٭ کسی بھی سڑک پر صرف دائیں جانب ہی سے ٹریفک شامل ہوا جاسکتا ہے
٭ دائیں جانب موڑ کاٹتے ہوئے شاہراہ پر رواں ٹریفک کو تقسیم کرنا پڑتا ہے
٭ چوراہوں پر گاڑیاں گھڑی کی سمت میں سفر کرتی ہیں

برطانوی انجینئر جان لیمنگ کی جانب سے 1969 میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق جن ممالک میں سڑک کے بائیں جانب گاڑیاں چلتی ہیں وہاں حادثات کی شرح ان ممالک سے کم ہے کہ جہاں سڑک کے دائیں جانب گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ گو کہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے پاس دونوں طرز کی گاڑیوں سے متعلق یکساں اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ گاڑیوں کے آپس میں تصادم اور حفاظتی سہولیات کا تمام تر دارو مدار ملک میں رائج ٹریفک قوانین اور ان پر عمدرآمدگی پر ہے۔

اگر آپ دو مختلف ممالک میں سفر کرتے ہیں اور وہاں الگ سمت میں گاڑی چلاتے ہیں تو ٹریفک لین کا خیال رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر لین تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو ہر گز نہ بھولیں کہ آپ سڑک کے دائیں جانب سفر کر رہے ہیں یا بائیں جانب۔ ٹریفک لین تبدیلی کے اشارے آپ کو پاک-افغان اور پاک-ایران سرحدوں پر بھی نظر آئیں گے۔

Top