آرچی 150 اور لیو200 بائیکس کی پاکستان میں لوکل اسیمبلنگ ہونے جارہی ہے

1

چاہے وہ زیمکو کروز ہو یا روڈ پرنس ویگو 150، بہت بڑی تعداد میں بائیک ساز اپنی کمپنی کے لیے ایک پوسٹر بائیک بنانے کی طرف اکٹھا ہو رہے ہیں۔ کچھ موٹر سائیکل مینوفیکچررز نے مارکیٹنگ تکنیک کے لیے اس کا آغاز کیا ہے جبکہ دوسرے 150cc یا اس سے اوپر کی کیٹگری کی بائیک پاکستان میں بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارے ملک میں سوپر پاور ان میں سے ایک موٹر سائیکل مینوفیکچرر ہے۔ اس کمپنی نے پاکستان میں پہلی بار آٹو میٹک سکوٹی متعارف کروائی جس کے فوراً بعد انہوں نے آرچی 150 متعارف کروا دی اور اب یہ کمپنی پشاور زلمی کے ستاروں کی روشنی میں لیو 200cc  متعارف کروانے جا رہی ہے۔ مجھے کمپنی کا وکیل تصور نہ کریں لیکن میری اصلاح کریں اگر میں یہ غلط کہہ رہا ہوں کہ دوسرے لوکل موٹر سائیکل مینوفیکچرر پیرانی گروپ کی شاندار کامیابی سے مارکیٹنگ اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے کئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ بے شک کسی کمپنی کی کامیابی کے متعلق بغیر ٹھوس ثبوت کے بات کا وزن نہیں رہتا۔ تو مقامی آٹو انڈسٹری کا شوقین پیروکار ہونے کے حوالے سے میں نے کچھ کیس وضع کیے ہیں جس سے لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ آخر چل کیا رہا ہے۔

3

1

2

یہ بات کہنا کہ لوگ ان حالات میں ہر 10 میں سے 7 کمزوروں کی تائید کرتے ہیں تو یہ ایک خاموش رہنے والی بات ہو گی۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستانی صارفین نے یاماہا اور حال ہی میں لانچ ہونی والی بینالی کی پاکستان میں مصنوعات متعارف کروانے کی تائید کی۔ جس سے ملک میں جوان اور شوقین موٹر سائیکل سواروں کی تعداد بڑھانے میں مدد ملی۔ میرا سوپر پاور کے بارے میں بھی یہی ماننا ہے کہ کمپنی نے یاماہا اور بینالی کے ٹیسٹ شدہ منصوبہ کو بھانپ لیا ہے اور اس خاص مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے اس نے 150cc اور 200cc کیٹگری میں یکے بعد دیگرے کئی بائیکس متعارف کروائیں۔

ہوشیار طریقہ سب سے بہترین طریقہ ہے:

جیسا پہلے بتایا گیا کہ کمپنیاں درآمد کردہ بائیکس باقاعدگی سے متعارف کروا رہی ہیں جو کہ غیر تسلی بخش پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس سے مالکان کو یہ بائیکس خریدنے کے بعد شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ سی کے ڈی یونٹ درآمد کیا جائے، آپ یہ پارٹس ملک میں درآمد کریں اور پھر انہیں ایک مقامی اسیمبلنگ پلانٹ میں اسیمبل کریں جس سے ٹیکس اور مصنوعات کو نقصان کے خدشہ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف آپ بڑی تعداد میں مال منگوا سکتے ہیں جس سے آپ کو مقامی طور پر انہیں اسیمبل کرنے کے لیے مزید سستے وسائل مل جائیں گے۔ اور کوشش کریں کہ آپ ’اسیمبل ان پاکستان‘ کا ٹیگ استعمال کریں۔ لمبی دوڑ میں بائیک مینوفیکچررز کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ یاماہا نے پہلے یہ کامیابی سے کیا اور اب لگتا ہے کہ سوپر پاور یاماہا کے اسی نقش قدم پر چل رہا ہے جس سے یاماہا نے پاکستان میں واپسی پر کامیابی حاصل کی۔

Posted by Superpower Motorcycle on Friday, 3 March 2017

Posted by Superpower Motorcycle on Friday, 3 March 2017

جی ہاں نئی بائیک ہمیشہ ایک خوش آئند تصور ہے۔ آخر ہم پاکستانی سڑکوں پر جو بائیکس دیکھتے ہیں ان میں سے 95 فیصد ہونڈا سی ڈی 70 اور سی جی 125 کے پرانے ماڈلز ہیں۔ ان کی غالب تاریخ نے ہماری مقامی بائیک مارکیٹ کے خدوخال وضع کرنے میں مدد کی۔ مجھے یہ بات اس طرح سے کہہ لینے دیں کہ اٹلس ہونڈا کی بائیکس یہاں ہی رہیں گی، یہ کہیں نہیں جا رہی۔ مستقبل قریب میں تو کبھی بھی نہیں کیوں کہ کمپنی ہر سال فروخت کا نیا ریکارڈ کامیابی سے حاصل کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سی جی 125 اے کے اے ایک عجیب پریمیم ریٹ پر بیچی جاتی ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ نئے غاصب جیسا کہ یاماہا YBR 125، RP Wego 150, SP Archi 150, Zxmco cruise, مستقبل قریب میں اٹلس ہونڈا کے غالب مارکیٹ شیئر پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ تاہم آہستہ آہستہ یہ بات یقینی ہے کہ لوگوں نے مزید نئی فینسی چیزیں ڈھونڈنا شروع کر دی ہیں جس سے مستقبل کی جدید بائیکس میں اچھی چیزیں آںے کی توقع ہے۔

Abdul Hanan

Hanan is an avid auto enthusiast with a flair for writing and playing games. He loves traveling, deciphering political maneuvering and exploring the realms of coding & graphic designing.

Top