مقامی کار سازوں کو محدود پروڈکشن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا

mehran-corolla-civic-car-sales

پاکستان میں گاڑیوں کی سیل میں اضافہ متوقع ہے اور بہت سے اندازوں کے مطابق اس کی تعداد 50000 تک ہو گی جس کی بڑی وجہ اورنج ٹیکسی سکیم کی منظوری ہو سکتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تینوں مقامی کار ساز اپنی پوری صلاحیت سے بھی زیادہ کام کر رہے ہوں گے، اس صورت حال میں انہیں محدود پروڈکشن صلاحیت کے مسائل کا اندازہ ہوگا جس کا مستقبل قریب میں کوئی توسیعی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

دوسری طرف مقامی مارکیٹ میں تاخیری سرمایہ کاری سے درآمد کردہ گاڑیوں کی سیل میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کی قلت کے خلاء کو پورا کر رہا ہے۔ ہم مثال کے طور پر ہونڈا اٹلس کی بات کر لیتے ہیں جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 50000 گاڑیاں ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ہونڈا اس سال اپنی پروڈکشن صلاحیت کو 100 فیصد استعمال کر کے بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح ٹویوٹا انڈس موٹر کارپوریشن نے اپنی پروڈکشن صلاحیت کو بڑھایا ہے اور اب یہ اپنے ٹویوٹا کرولا سیریز کے لیے سالانہ 65000 یونٹ بنا رہا ہے۔ تاہم ہونڈا اٹلس اور ٹویوٹا کے مقابلہ میں پاک سوزوکی کی پروڈکشن صلاحیت کافی زیادہ ہے اور یہ سالانہ 150000 یونٹ بنا سکتا ہے۔ فی الحال کمپنی 130000 یونٹ سالانہ بنا رہی ہے لیکن اورنج ٹیکسی سکیم کی منظوری سے اس کمپنی کو بھی محدود پروڈکشن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ 50000 ٹیکسی بنانے کا آرڈر اس کی صلاحیت کے مقابلہ میں کافی زیادہ بڑا ہے۔

یہ مسئلہ صرف پروڈکشن صلاحیت تک محدود نہیں ہے، اگر یہی صورتحال مزید بڑھتی ہے تو اور کئی صارفین بھی درآمد کردہ جے ڈی ایم گاڑیوں کی طرف جائیں گے۔ جو لوگ تب مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کو منتخب کریں گے انہیں لمبے انتظار کے وقت اور بہت زیادہ پریمیم سے شدید مایوسی ہوگی۔

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Computer Science Graduate and above all, Citizen of Pakistan.

Top