دیکھیں ہونڈا کی نئی کاروں پر FED کے اثرات!


ہونڈا اٹلس کارز (پاکستان) لمیٹڈ نے یکم جولائی 2019ء سے مالی بجٹ ‏2019-20ء‎ میں گورنمنٹ لیویز لاگو ہوتے ہی اپنی گاڑیوں کی قیمتیں تبدیل کردی ہیں۔ 

حال ہی میں گاڑیوں کی تمام کیٹیگریز پر حکومت نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) لگانے کا اعلان کیا گیا کہ جس نے 1700cc اور اس سے زیادہ کے انجن رکھنے والی گاڑیوں کو فائدہ پہنچایا ہے اور نتیجہ نیچے کی کیٹیگری کی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی صورت میں نکلا۔ مالی بجٹ ‏2019-20ء‎ میں FED کے مندرجہ ذیل تین حصوں کا اعلان کیا گیا ہے: 

1000cc تک کی گاڑیوں پر 2.5 فیصد FED 

1001cc سے 2000cc تک کی گاڑیوں پر 5 فیصد FED

2001cc اور اس سے زیادہ کی گاڑیوں پر 7.5 فیصد FED

اس سے پہلے FED صرف 1700cc اور اس سے زیادہ کی گاڑیوں پر لاگو تھی جس کی شرح گاڑی کی کل مالیت کا 10 فیصد تھی۔ اس لیے نئی پالیسی مختلف کیٹیگریز میں صارفین کے لیے اچھی اور بری خبروں کا ملاپ ہے۔ تب سے متعدد سوالات اٹھے کہ آیا آٹو مینوفیکچرر 1700cc اور اس سے زیادہ کے انجن رکھنے والی گاڑیوں کی قیمتیں کم کریں گے یا نہیں کیونکہ نئی شرح کے بعد قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔ قیمتوں میں کمی یقینی تھی لیکن دوسری جانب اس عرصے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گھٹتی ہوئی قدر نے سب کے ذہنوں میں قابلِ فہم شکوک پیدا کیے۔ البتہ اس افراتفری کا اب خاتمہ ہو چکا ہے کیونکہ ملک میں گاڑیاں بنانے والے بڑے اداروں میں سے ایک ہونڈا اٹلس نے اپنی گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کی فہرست 1700cc سے زیادہ کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ظاہر کرتی ہے جبکہ اس سے نیچے کی کیٹیگری میں گاڑیوں کی قیمت میں بڑا اضافہ دکھاتی ہے۔ تمام ڈیلرشپس کو بھیجے گئے اپنے باضابطہ سرکلر میں ہونڈا اٹلس نے واضح طور پر کہا ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی حکومت کی جانب سے لیویز کے نفاذ/تبدیلی اور کسی حد تک شرحِ تبادلہ میں آنے والی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ آئیے ہونڈا کاروں کی نظرثانی شدہ قیمتیں دیکھتے ہیں اور پاتے ہیں کہ FED کا نفاذ کس طرح ان قیمتوں پر اثر انداز ہوا ہے: 

واضح رہے کہ یہ تمام قیمتیں ایکس-فیکٹری ہیں اور ہونڈا کے تمام CKD ویرینٹس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 5 فیصد FED شامل ہے۔ ہم 1.5L ٹربو SR کے سوا ہونڈا سوِک کے تمام ویرینٹس کی قیمتوں میں FED کی وجہ سے کمی دیکھتے ہیں جو 10 سے 5 فیصد کم ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ہونڈا کی دیگر تمام کاریں، جن میں سٹی اور BR-V کے ویرینٹس شامل ہیں 1000cc سے 1699cc کی کیٹگری کے درمیان آتے ہیں جو اس سے پہلے FED سے مستثنیٰ تھے۔ اب 5 فیصد FED ان تمام گاڑیوں پر بھی لاگو ہے جس سے اس نظرثانی میں ان کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ BR-V کا بہترین ویرینٹ اب 30,99,000 روپے کا ہے۔ دوبارہ لانچ کی گئی سوِک 1.5L ٹربو RS کی قیمت میں 2 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جو اب 43,99,000 روپے میں دستیاب ہوگا۔ 

گو کہ چند ماڈلز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آٹو مینوفیکچررز پر بہت دباؤ ڈال رہی ہے۔ نتیجتاً موجودہ اقتصادی حالات کے لحاظ سے مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ ہی ہوگا، جو صارفین کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔ ایک صارف کی حیثیت سے صورت حال مزید خراب ہی ہو رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی قوتِ خرید گھٹ رہی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ اس میں اضافے کی شرح صارفین کو پریشان کر رہی ہے۔ 

اس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ ہمیں تبصروں میں ضرور بتائیں اور پاکستان میں آٹوموبائل انڈسٹری کی تازہ ترین خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Top