پاکستانی گاڑی بنانے کا موقع حکومتی غفلت کے باعث ضایع ہوگیا

punjab-rozgar-feature

امریکا کو حال ہی میں اپنی افواج کو جدید خفیہ طیارے فراہم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلے میں دو اداروں نے طیارے تخلیق کرنے کے معاہدے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ ان میں سے ایک نارتھروپ گرومن اور دوسرا لاک ہیڈ – بوئنگ کنسورشیم تھا۔ نارتھروپ وہی ادارہ ہے جس نے B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بومبر کے نام سے پہلے بھی ایک خفیہ طیارہ بنایا تھا۔لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہوچکی تھی نارتھروپ نہ صرف مالی اعتبار سے کمزور ہوچکا تھا بلکہ اپنے مدمقابل اتحاد کے سامنے تنہا بھی تھا۔ دوسری طرف لاک ہیڈ مارٹن اور بوئینگ کنسورشیئم کا اتحاد امریکی افواج سے لاکھوں ڈالر کے معاہدے کے سر توڑ کوششیں کر رہا تھا۔ اس صورتحال میں اگر پینٹاگون لاک ہیڈ- بوئینگ سے معاہدہ کرتا تو نارتھروپ کا نام و نشان مٹ جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی فضائیہ نے ناتھروپ سے کئی دہائیوں پر مشتمل معاہدہ کر کے لاک ہیڈ – بوئینگ سے اپنی محتاجی کا خاتمہ کردیا۔ ویسے بھی مسابقت کی فضا ہمیشہ فائدہ ہی دیتی ہے چاہے اس میں بظاہر کوئی مفاد وابستہ نظر نہ بھی آتا ہو۔

B-2-Spirit-bomber

دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکیوں نے ایک جاپانی 4×4 پر قبضہ کرلیا اور اسے اپنے ملک لے آئے۔ پھر انہوں نے مقامی کار ساز اداروں کو جمع کیا اور ان کے سامنے امریکی افواج کے لیے گاڑی تیار کرنے موقع رکھا اور ایک نئے ادارے کا جنم ہوا جسے ہم ‘جیپ’ کے نام سے جانتے ہیں۔

آج کے دور میں بھی امریکا کی حکمت عملی ایسی ہی ہے۔ امریکی افواج کے زیر استعمال ہموی (Humvee) کا متبادل تیار کرنے کے لیے لاک ہیڈ مارٹن، اے ایم جنرل اور اوشکوش ڈیفنس کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ ان تینوں اداروں کے تقریباً 22 نمونوں کو سخت جانچ سے گزاراگیا اور پھر اوشکوش جوائنٹ لائیٹ ٹیکٹیکل وہیکل (JLTV) نے یہ 54 ہزار 6سو گاڑاں بنانے کا فوجی معاہدہ جیت لیا جس کی مالیت 30 ارب امریکی ڈالر ہے۔

LAND_M-ATV_and_HMMWV_lg

اس شعبے پر گہری نظر رکھنے والے دوستوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی حکمت عملی قابل تقلید نہیں لیکن نارتھروپ گرومن سے معاہدہ کرنا ان کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

چلیے شہری زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہاں کیسے کام کیا جاتا رہا ہے۔ 660 سی سی (Kei) گاڑیاں جاپان سے پاکستان درآمد کی جاتی تھیں۔ ایک ایسی گاڑی جو نہ آلودگی بڑھائے، نہ زیادہ جگہ گھیرے اور مختصر یعنی 660 سی سی انجن کی حامل ہو۔ اس منفرد گاڑی کے فروغ کے لیے جاپان حکومت نے اسے ٹیکس کی رعایت اور دیگر فوائد دیئے جس سے 660 سی سی انجن والی گاڑی جاپانی مارکیٹ میں مقبول ہونے لگی۔ گزشتہ سال حکومت نے Kei گاڑیوں پر 50 فیصد ٹیکس لگا دیا جس سے اس کی قیمت بھی دوسری گاڑیوں کے برابر آگئی لیکن اس کے باوجود مقبولیت میں کمی واقع نہ ہوئی۔ حکومت اور کار ساز ادارے کہتے ہیں کہ آج کے دور میں جب دنیا سکڑ رہی ہے، آپ کسی مخصوص ملک کے لیے گاڑیاں تخلیق نہیں کرسکتے یہی وجہ ہے کہ Kei گاڑیوں پر ہونے والی تحقیق و ترقی کو فضول تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ان گاڑیوں نے اپنا کام بخوبی دکھایا اور صحیح معنی میں اپنی تخلیق کا حق ادا کردیا ہے۔

فورڈ نے وَن فورڈ منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد مختلف خطوں کے لیے علیحدہ علیحدہ گاڑیوں کی تیاری و تخلیق کے تصور کو ختم کرنا تھا۔ ہونڈا بھی اضافی اخراجات اور دنیا بھر میں ایک برانڈز کی یکساں گاڑیاں پیش کرنے کے لیے عالمی آرکیٹکچر کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر معروف کار ساز ادارے اسی حکمت عملی پر کاربند ہیں اور اپنے ذیلی پلیٹ فارمز کو حذف کر کے ایسی گاڑیاں تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں یکساں قابل قبول ہوں۔

انڈونیشیا نے ستمبر 2013 میں کم قیمت سبز کار (Low Cost Green Car) کے نام سے تحریک کا آغاز کیا۔ حکومت نے ایک فہرست تیار کی جس میں عوام اور شہری سڑکوں کے اعتبار سے گاڑی تیار کرنے کے لیے تمام اہم ضروریات شامل تھیں۔ باوجودیکہ کہ انڈونیشیا میں گاڑیوں کی فروخت میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن LCGC، جسے انڈونیشیا کار بھی کہا جاتا ہے، کی آمد سے انڈونیشیا میں گاڑیوں کے شعبے میں ترقی کی امید کی جارہی ہے کیوں کہ اس گاڑی کا 85 فیصد حصہ مقامی سطح پر ہی تیار کیا جا رہا ہے۔

نیو یارک سِٹی ٹیکسی کی بھی بات کرتے چلیں۔ نیو یارک کے مقامی حکام نے جب شہر میں چلنے والی ٹیکسیوں کی تیاری کے لیے اپنی ضروریات پیش کیں تو کئی ایک ادارے اپنے ڈیزائنز کے ساتھ مقابلے میں شامل ہوگئے۔ بے شمار ڈیزائنز میں سے متعلقہ ادارے نے نسان NV200 کو منتخب کیا جس نے سال 2013 سے 13 ہزار پیلی ٹیکسیوں کو تبدیل کرنا شروع کردیا۔
اب بات کرتے ہیں میرے اور آپ کے وطن پاکستان کی۔ یہاں عجلت میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمدات پر مراعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں گاڑیوں کا شعبے کتنے نا اہل اور ترقی پذیر ذہنوں کے ہاتھ میں ہے۔ حتی کہ حکومت کی خصوصی مہم کے دوران بدترین حکمت عملی اپنانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔

صدرِ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع وجود ہیں لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم پچھلے 26 سالوں سے سوزوکی مہران فروخت کرنے کے باوجود اس کا صرف 64 فیصد ہی حصہ ہی مقامی سطح پر تیار کرتے ہیں جس میں اصل چیز یعنی انجن شامل ہی نہیں۔

کام نہ کرنے سے زیادہ بڑی غلطی بے مقصد کام کرنا ہوتا ہے اور یہی کچھ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہو رہا ہے۔ افواج، بحریہ، فضائیہ، حکومتی ادارے، ایجنسیز اور بیوروکریسی۔۔۔۔ یہ وہ ستون ہیں جو ملک کے کسی بھی ادارے کو کھڑا اور برباد کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں بلکہ محض خریداری شروع کر کے یا بند کر کے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔

ٹیکسی اسکیم:
پنجاب روزگار اسکیم ایک بہترین موقع تھا کہ حکومت پہلی بار مکمل طور پر پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑی کا خواب شرمندہ تعبیر کرتی لیکن افسوس کہ یہ موقع ضائع کردیا گیا۔ کسی بھی ادارے کو نئی برانڈ متعارف کروانے کے لیے 50 ہزار گاڑیوں کا ابتدائی آرڈر کافی ہوتا ہے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے تھا کہ وہ 50 ہزار ٹین کے ڈبے (سوزوکی بولان اور سوزوکی راوی) خرید کر اسکیم میں بانٹنے کے بجائے پاکستان میں اپنی گاڑی تیار کرنے کی طرف پیش رفت کی جاسکتی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر کار ساز اداروں سے بھی بہتر گاڑی لی جاسکتی تھی یا انہیں پاکستان میں گاڑی کے نئے کارخانے لگانے کا بھی موقع دیا جاسکتا تھا۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی وعدہ خلافی کے باعث آدم ریوو (Adam Revo) کا زوال ہوچکا ہے۔

ٹیکسی اسکیم کی بدولت مالی سال 2015-16 کی پہلی سہہ ماہی میں پاک سوزوکی کے منافع میں 216 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ پاک سوزوکی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2015 کے دوران ادارے کو 1.8196 ارب منافع ہوا جو گذشتہ سال 2014 اسی عرصے میں 575.5 ملین تھا۔

ذیل میں موجود خطوط سے آپ پنجاب ٹیکسی اسکیم سے پاک سوزوکی کو ہونے والے غیر معمولی فائدے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

4

پاک سوزوکی نے سب سے زیادہ سوزوکی راوی، بولان اور مہران فروخت کی ہیں جبکہ دیگر تمام برانڈز بشمول ویگن آر بری طرح ناکام نظر آرہی ہے جس کی بنیادی وجہ ادارے کی جدت سے پرہیز ہے۔ ذیل میں موجود اعداد و شمار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پنجاب ٹیکسی اسکیم سے قبل پاک سوزوکی فروخت کے اعتبار سے کس مقام پر تھی۔ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے دیگر دو بڑے ادارے ٹویوٹا اور ہونڈا بھی پنجاب حکوت کی جانبداری کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے۔

1

شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اوپر بیان کیے گئے غیر ملکی منصوبوں اور ہمارے حکومتی و فوجی اداروں میں کیا مماثلت ہے؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں۔

حکومت ایک منصوبے یا کام کے لیے ضروریات کا تعین کرتی ہے۔ ملک میں لاکھوں ذہین افراد ان ضروریات پر تحقیق کرتے ہیں اور ایک ایسا ڈیزائن تیار کرتے ہیں جو حکومتی ضروریات بھی پوری کرتاہے اور پاکستان ہی میں تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو جدید تکنیک سے آراستہ الخالد ٹینک بناسکتا ہے وہ چھوٹی موٹی گاڑیاں کیوں نہیں بنا سکتا؟ جاپان نے جس طرح Kei گاڑیوں کی تیاری کے ذریعے ایک نئے عہد کا آغاز کیا، بالکل ویسے ہی ہم بھی گاڑیوں کے شعبے میں مزید ترقی کرسکتے ہیں۔

دنیا کے تمام ممالک میں حکومت سب سے بڑی خریدار ہوتی ہے۔ عسکری اور شہری ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک نیا پاکستانی ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے جو حکومت کو رعایتی اسکیمز کے لیے بھی مدد فراہم کرسکتا ہے۔ پنجاب ٹیکسی اسکیم کے ذریعے پاک سوزوکی کو حاصل ہونے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پاکستان مختصر اہداف کے بجائے طویل المدتی منصوبوں پر کام کرے تو آئندہ پانچ سالوں کے دوران صورتحال آج سے کہیں زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔

حال ہی میں امریکا نے داعش کے زیر استعمال ٹویوٹا گاڑیوں پر سوال اٹھائے اور پھر کئی ایک کار ساز ادارے ایران کے ساتھ تعلقات پر تنقید کی زد میں آئے۔ ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ کسی بحران کے وقت گاڑیوں کا شعبہ متاثر نہیں ہوگا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم انجن اور چیسز تک خود نہیں بنا رہے۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت کے وقت پینٹاگون کی حکمت عملی کو اپنایا جاسکتا ہے۔ ہر ملک کے اپنے مالی معاملات ہوتے ہیں اور اتنے بڑے منصوبے کے لیے دلچسپی رکھنے والے اداروں سے ڈیزائن بنوانے، ان کی جانچ کرنے اور پھر اس ادارے سے ہی طویل المعیاد معاہدہ کرنا چاہیے کہ جو زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

اس وقت عسکری اداروں کے لیے نسان گندھارا کے سگما موٹرز میں ناقابل بھروسہ لیکن سب سے مہنگی 4×4 SUV لینڈ روور بنائی جا رہی ہے۔ پولیس کے لیے ہم ٹویوٹا ہائی لکس اور راوی خریدتے ہیں۔ سوزوکی راوی اور بولان (وہ گاڑی جس کا نچلا حصہ چند ہزار کلومیٹر کے بعد سکڑنا شروع ہوجاتا ہے) کو ٹیکسی اسکیم میں دینے کے لیے خرید رہے ہیں۔ جب ہمیں اتنی ساری گاڑیوں کی ضرورت ہے کہ تو کیوں نا پاکستانی گاڑی بنانے کا خواب پورا کیا جائے؟ یہ کام ڈھنگ سے کیا جانا چاہیے نا کہ واشنگ مشین میں پہیے لگا کر سازگار رکشا بنانے اور پھر اسے اسٹیئرنگ لگا کر گاڑی قرار دینے جیسے بے وقوفانہ عمل سے بچنا چاہیے۔

Baber K. Khan

An auto enthusiast trying to bring car media mainstream.

  • Farhan

    Thank you for putting the point across :)..

Top