وہ گاڑیاں جو کئی سالوں تک پاکستان میں تیار و فروخت کی جاتی رہیں

bmyia0

پاکستان میں اب سے تقریباً 25 سال قبل 90 کی دہائی کے اوائل میں گاڑیوں کی تیاری کا آغاز ہوا۔ لیکن اس کے باوجود گاڑیوں اور ان کے ماڈلز کی تعداد وقت کے ساتھ کم ہوتی جاری ہے۔ 80 کی دہائی کا جائزہ لیں تو شاید آپ کو آج کے مقابلے زیادہ گاڑیاں، ان کے متعدد ماڈلز، رنگ اور خصوصیات ملیں گی جن کی کمی آج بھی پاکستانی صارفین شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پرانے وقتوں میں ہر 2-3 سال بعد نیا ماڈل پیش کیے جانے کی روایت بھی اب دم توڑ چکی ہے۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب گاڑیوں کی فروخت میں تیزی دیکھی جارہی ہے اور گاڑیوں کا شعبہ ترقی کی جانب سفر کرتا نظر آرہا ہے ہمارے پاس بہت یہ کم گاڑیوں کا انتخاب موجود ہے۔ اسے ہم بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے لوگ بہتر سے بہتر گاڑی کی تلاش میں ہیں لیکن انہیں مقامی تیار شدہ گاڑیوں کے بجائے بیرون ممالک سے گاڑی درآمد کرنا پڑتی ہے۔پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کا رواج سرے سے نظر ہی نہیں آتا۔ 1980 کی دہائی میں جب گاڑیاں درآمد کی جاتی تھیں تو ایک ماڈل کی زیادہ سے زیادہ عمر 3-5 سال ہوا کرتی تھی اور اس دوران بھی تقریباً ہر 2 سال بعد نئے انداز (facelift) اور نئی خصوصیات کی حامل گاڑیاں دستیاب ہوجاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی کلٹس بمقابلہ FAW V2: کس میں کتنا ہے دم؟

مثال کے طور پر ہونڈا سِوک کی تیسری جنریشن ہی دیکھ لیں۔ اسے 1984 میں پیش کیا گیا جس کے ساتھ 10 مختلف رنگوں کے ساتھ اندرونی حصے کے لیے 4 الگ الگ رنگ بھی منتخب کیے جاسکتے تھے۔ 1986 میں اسے نیا انداز دیا گیا اور پھر 1988 تک ہونڈا سِوک کی چوتھی جنریشن بھی فروخت کے لیے پش کردی گئی اور یوں تیسری جنریشن صرف 4 سال بعد اختتام کو پہنچی۔ اُس وقت پاکستان میں صرف ہونڈا سِوک ہی نہیں بلکہ ٹویوٹا کرولا، مٹسوبشی لانسر، نسان سنی، مزدا 323، ڈائی ہاٹسو شارمنٹ اور ٹویوٹا اسپرنٹر بھی 1300cc سیڈان گاڑیوں کی فہرست میں شامل تھیں۔ یہ تمام ہی گاڑیاں مختلف عرصے کے لیے دستیاب رہیں اور تقریباً ہر 2 سال بعد ان کے نئے انداز متعارف کروائے جانے کے علاوہ 4 سال بعد نیا ماڈل بھی پیش کیا جاتا رہا۔

پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے کار ساز اداروں کے ساتھ ابتدا ء ہی سے مسائل رہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ 80 کی دہائی میں دستیاب گاڑیوں کے مقابلے میں ان کی گاڑیاں غیر معیاری ہیں بلکہ انتخاب بھی محدود ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک ہی ماڈل کو کامیاب قرار دے کر طویل عرصے تک کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ یہ مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ یہاں ہم ان گاڑیوں کی فہرست اپنے قارئین کو پیش کر رہے ہیں جو مقامی سطح پر تیار کی جاتی رہیں ہیں۔ ساتھ ہی ماضی میں دستیاب گاڑیوں سے بھی تقابل کیا گیا ہے تاکہ قارئین تمام تر معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگاسکیں۔

سوزوکی مہران / سوزوکی بولان / سوزوکی راوی (25 سال سے جاری)

یہ گاڑیاں اس وقت سے تیار کی جارہی ہیں کہ جب پاک سوزوکی نے پہلی بار پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کا آغاز کیا تھا۔ 1991 سے آج تک 25 سال گزر جانے کے باوجود ان میں کوئی بھی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں کی تیاری جس وقت شروع کی گئی تب بھی انہیں دنیا کے دیگر ممالک میں تقریباً 10 سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ مہران 80 کی دہائی کے وسط بلکہ راوی اور بولان 70 کی دہائی کے آخر میں متعارف کروائی گئی تھی۔ سب سے حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ پاک سوزوکی سال 2016 میں بھی اسے بڑے فخر کے ساتھ فروخت کر رہی ہے۔ اس کا تمام تر سہرا ہمارے یہاں تین بڑوں (بگ تھری) کی اجارہ داری کے سر باندھنا چاہیے۔

Suzuki Bolan Suzuki Ravi Suzuki Mehran

سوزوکی کلٹس (16 سال)

پچھلے دنوں ہمیں ایسی خبریں موصول ہوئیں کہ پاک سوزوکی نے سوزوکی کلٹس کی تیاری و فروخت بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسے سال 2000 میں متعارف کروایا گیا تھا اور تب سے اب تک 16 سال گزر جانے کے باوجود ماسوائے انجن کی تبدیلی (جو سال 2007 میں کی گئی تھی) کوئی بھی ایسی بہتری نہیں کی گئی جس کی مثال یہاں دی جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کلٹس حقیقت میں سوزوکی مرگلہ سیڈان ہی کا ہیچ بیک انداز ہے جسے پاک سوزوکی 1991 سے 1998 تک پرانے نام سے فروخت کر رہا تھا۔

Suzuki Cultus

سوزوکی آلٹو (12 سال)

پاکستان میں سوزوکی آلٹو سال 2000 سے 2012 تک پیش کی جاتی رہی۔ جب حکومت نے یورو II معیارات لاگو کرے اور جاپان نے آلٹو کو بہتر بنانے میں معاونت سے معذرت کرلی تو پاک سوزوکی کو چار و ناچار اسے بند ہی کرنا پڑا۔ بھارت سے گاڑیوں کے پرزے درآمد کرنے پر بھی پابندی عائد تھی لہٰذا پاک سوزوکی کے پاس 12 سال بعد آلٹو کی تیاری بند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ محض اگلی اور پچھلی لائٹس میں معمولی تبدیلیوں کے علاوہ اسے تمام عرصے ایک ہی انداز میں فروخت کیا جاتا رہا۔

Pak Suzuki Alto

ڈائی ہاٹسو کورے (12 سال)

سوزوکی آلٹو کی طرح ڈائی ہاٹسو کورے بھی 2000 سے لے کر 2012 تک پیش کی جاتی رہی۔ شروع میں لوگوں کا خیال تھا کہ کورے دراصل سوزوکی مہران کو ٹکر دینے کے لیے میدان میں اتاری گئی ہے۔ تاہم انڈس موٹرز نے اس کی قیمت مہران سے بھی زیادہ رکھی مگر غیر معمولی قیمت ہونے کے باوجود یہ بڑی تعداد میں فروخت ہوئی۔ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ڈائی ہاٹسو کورے کی طلب اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اسے بُک کرنے والے لوگوں کو 11 ماہ بعد دیا جانے لگا۔ اس پر بھی لوگ 1 لاکھ روپے اضافی دے کر فوری حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ اپنے وقت کی واحد آٹو میٹک ٹرانسمیشن کی حامل چھوٹی گاڑی ہونا ہو لیکن پھر بھی اس کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ کورے کے ساتھ بھی آلٹو والا ہی معاملہ ہوا کہ جب حکومت نے یورو II معیارات نافذ کیں تو انڈس موٹرز کو اس کی تیاری 12 سال بعد ہی بند کرنا پڑی۔

Daihatsu Cuore

E100 ٹویوٹا کرولا (9 سال)

ٹویوٹا کرولا کی ساتویں جنریشن E100 عام مارکیٹ میں ‘انڈس کرولا’ کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ یہ پاکستان میں تیار کر کے فروخت کی جانے والی پہلی ٹویوٹا کرولا تھی۔دنیا کے دیگر ممالک میں اسے 1991 میں پیش کیا گیا جبکہ پاکستان میں اسے 1993 میں متعارف کروایا گیا۔ بعد ازاں ٹویوٹا کرولا کی آٹھویں جنریشن E110 بھی سامنے آئی تاہم انڈس موٹرز نے اسے خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹویوٹا کرولا کی ساتویں جنریشن ہی کی تیاری اور فروخت 2002 تک جاری رکھی۔ اس کے بعد ٹویوٹا کرولا کی نویں جنریشن E120 متعارف کروائی گئی ۔80 کی دہائی میں ہر تیسرے سال بعد ٹویوٹا کرولا کا نیا ماڈل مارکیٹ میں موجود ہوتا تھا لیکن پاکستان میں ساتویں جنریشن ٹویوٹا کرولا کی تیاری شروع ہونے کے بعد 7 سال تک کوئی بھی نیا ماڈل پیش نہیں کیا گیا۔

Toyota Corolla E100

سوزوکی خیبر (9 سال)

جاپان سے سوزوکی سوفٹ کی درآمد 1988 میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں 1991 میں پاک سوزوکی نے خیبر کے نام سے اسی گاڑی کو پاکستان میں تیار کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ 1 ہزار سی سی انجن کے ساتھ صرف ایک ہی انداز میں دستیاب تھی جبکہ 80 کی دہائی میں اس جیسی درجنوں گاڑیاں ہماری مارکیٹ میں نظر آتی تھیں۔ خیبر کی تیاری و فروخت سال 2000 تک جاری رہی اور پھر اس کی جگہ سوزوکی کلٹس نے لے لی۔ 1991 سے 2000 تک خیبر بالکل ایک ہی جیسی رہی حتی کہ اس میں بنیادی خصوصیات مثلاً سیٹ کے اوپر سراہنے کی جگہ اور دائیں و بائیں موجود سائیڈ مررز کو بند کرنے جیسی سہولت بھی موجود نہیں تھیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ دونوں خصوصیات 80 کی دہائی میں دستیاب درآمد شدہ گاڑیوں میں عام تھیں۔

Suzuki Khyber

سوزوکی لیانا (9 سال)

سوزوکی لیانا ان گاڑیوں میں سے ایک ہے کہ جسے دنیا بھر میں اپنی معیاد پوری کرنے کے بعد پاکستان میں متعارف کروایا گیا۔ سال 2005 میں لیانا کی پیش کش کافی کامیاب رہی تاہم آنے والے وقتوں میں اس نے شدید زوال کا سامنا کیا۔ حتی کہ آخری سال صرف 200 سوزوکی لیانا فروخت ہوسکیں۔ چند نمائشی تبدیلیوں کے علاوہ پاکستان میں گزارے گئے 9 سالوں میں کوئی بھی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی گئی۔ پاک سوزوکی نے سال 2014 میں اس کی تیاری بند کردی تب سے اب تک اس طرز کی سیڈان میں پاک سوزوکی نئی گاڑی متعارف نہیں کرواسکا۔ سوزوکی لیانا ایک اچھے آغاز کے باوجود رسوائی کے ساتھ رخصت ہوئی۔

Suzuki Liana

سوزوکی مرگلہ (7 سال)

سوزوکی مہران، بولان اور راوی کی طرح سوزوکی مرگلہ بھی پاک سوزوکی کے زیر سایہ بننے والی اولین گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ اس نے 1991 میں آمد کے بعد پاکستانیوں پر ایسا رنگ جمایا کہ جلد ہی اس کا شمار مشہور سوزوکی گاڑیوں میں کیا جانے لگا۔ انتہائی غیر معیاری رنگوں کے ساتھ پیش کیے جانے کے باوجود اپنے وقتوں میں یہ سب سے زیادہ مطلوب سیڈان ہوتی تھی۔ بعد ازاں 1997 میں ہونڈا سِٹی کی آمد نے اس کے سحر کا خاتمہ کیا جس سے مرگلہ کی فروخت نصف رہ گئی۔ سوزوکی نے سیڈان گاڑیوں کی مارکیٹ میں چند ماہ ہونڈا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تاہم مسلسل ناکامیوں کے بعد 1998 میں مرگلہ کی تیاری بند کرکے سوزوکی بلینو پیش کردی گئی۔

Suzuki Margalla

ہونڈا سِٹی – پانچویں جنریشن (7 سال سے جاری)

عالمی سطح پر جاپانی کار ساز ادارے ہونڈا نے سِٹی کی پانچویں جنریشن 2007 میں متعارف کروائی جبکہ پاکستان میں اس کی تیاری کا آغآز سال 2009 میں ہوا۔ دیگر ممالک میں پانچویں جنریشن کا اختتام 2013 میں ہوا لیکن پاکستان میں یہ 8 سال گزر جانے کے باوجود جوں کی توں موجود ہے۔ اس سے قبل ہونڈا کی روایت رہی ہے کہ پاکستان میں ہر تیسرے سال نیا انداز یا نیا ماڈل متعارف کروایا جاتا تھا لیکن یہ روایت بھی 80 کی دہائی کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہوگیا۔طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی ہونڈا سِٹی کی نئی جنریشن سے متعلق کوئی بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یاد رہے کہ ہونڈا سِٹی کی چھٹی جنریشن دیگر ممالک میں اب سے تین سال قبل پیش کی جاچکی ہے۔

Honda City 5th gen

سوزوکی سوِفٹ (6 سال سے جاری)

اس وقت ہماری مارکیٹ میں وجود سوزوکی سوفٹ عالمی سطح پر 2004 میں پیش کی گئی تھی۔ سال 2010 میں جب دنیا نئی سوفٹ کا استقبال کر رہی تھی تو اسی سال پاک سوزوکی یہاں 2004 والی سوک کی نقب کشائی میں مصروف تھی۔ اسے پرانے ہی انداز میں پیش کیا گیا اور اب تک اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی گئی۔ 6 سال گزر جانے کے باوجود نئی سوزوکی سوفٹ سے متعلق بھی کوئی خیر خبر نہیں۔

Suzuki Swift

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس فہرست میں شامل تمام ہی گاڑیاں بالخصوص 1991 سے پیش کی جانے والی ‘سوزوکیاں’ اپنی معیاد پوری کرچکی ہیں۔ اس کے مقابلے میں 80 کی دہائی کہیں زیادہ رنگین اور دلچسپ تھی کہ جس میں نئی گاڑیوں کی آمد کا سلسلہ ترتیب وار جاری رہتا تھا۔ بات صرف نئی گاڑیوں کی محدود تک رہتی تو پھر بھی شاید ہم شکایت نہ کرتے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں دیگر ممالک میں پیش کی جانے والی گاڑیوں سے معیار، حفاظتی سہولیات اور بنیادی خصوصیات میں کم تر ہونے کے باوجود بہت قیمت میں بہت زیادہ ہیں۔اگر پاکستان میں کام کرنے والے کار ساز اداروں کا رویہ ایسا ہی رہا تو یقین جانئے گاڑیوں کے شعبے کا مستقبل تاریک تر ہوتا چلا جائے گا۔

تبدیلی درحقیقت ترقی اور آگے کی جانب پیش قدمی کو ظاہر کرتی ہے۔ بغیر تبدیلی کے ہم ترقی کرسکتے ہیں نہ جدت سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔ اگر موجودہ روش سے ہی دہائیوں پرانی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ جاری رہا تھا تو ہم گاڑیوں کی فروخت کے جتنے ریکارڈ بنا لیں، اس سے شعبے ترقی نہیں کرسکے گا۔

ایک ایسی مارکیٹ میں کہ جہاں صرف تین ہی کار ساز اداروں کی اجارہ داری ہے اور مسابقت کی فضا بھی موجود نہیں، صارفین کے پاس پرانی گاڑیوں میں سے انتخاب کرنے یا پھر جاپان سے گاڑی درآمد کر کے قسمت آزمانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔ حکومت وقت کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنا کردار نبھائے اور نئے کارساز اداروں کو پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح پاکستان میں گاڑیوں کا شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

Top