کیلیفورنیا کی آگ میں زندگیاں بچانے والے شخص کے لیے ٹویوٹا کی جانب سے نئے ٹنڈرا کا تحفہ


ٹویوٹا امریکا نے اس شخص کو برانڈ نیو ٹنڈرا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کی زبردست کوششوں نے پیراڈائز ٹاؤن، کیلیفورنیا میں بدترین آگ میں کئی زندگیاں بچائیں۔

ریاست کیلیفورنیا میں بدترین آگ نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے، جو پہلے ہی پیراڈائز ٹاؤن میں 42 افراد کی جانیں لے چکی ہے۔ اس افسوسناک صورت حال میں عام افراد اس بڑی آگ سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہے ہیں۔ لوگ اپنی ان کوششوں کو سوشل میڈیا پر بھی پیش کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے عوام انہیں سراہ رہے ہیں۔

ایسے ہی واقعات میں the_pandra نامی ایک شخص نے انسٹاگرام پر اپنی ادھ جلی ٹویوٹا ٹنڈرا کی تصاویر ڈالیں جس کے باڈی پینلز پگھل گئے تھے۔ یہ پوسٹ ان کی زندگی بچانے والی کوششوں کو ظاہر کر رہی تھی جو انہوں نے اپنی ٹنڈرا استعمال کرتے ہوئے ساتھیوں کی مدد سے ایک ہسپتال سے مریضوں کو بچانے کے لیے کی۔ یہ مکمل طور پر راکھ ہو جانے والے پیراڈائز ٹاؤن کے وسط میں تھا جہاں انہوں نے اپنی ٹنڈرا پر دو چکر لگا کر مریضوں کو باہر نکالا۔ اس شخص کے ناقابلِ یقین کارنامے کو دیکھتے ہوئے ٹویوٹا امریکا نے تصدیق کردی ہے کہ اسے ادھ جلی گاڑی کے بدلے میں بالکل نئی ٹنڈرا دی جائے کی۔ اس موقع پر ایک اور ادارے نے نئی ٹنڈرا کے لیے مفت wrap اور ونڈو ٹنٹ کی پیشکش کر ڈالی۔

کیلیفورنیا کئی سالوں سے متعدد بار جنگل کی خطرناک آگ کی زد میں آ چکا ہے اور اس سال بھی حالات مختلف نہیں تھے۔ شدید درجہ حرارت اور تیز ہواؤں کی وجہ سے خشک جنگلات نے ناقابلِ یقین رفتار سے آگ پکڑی جو جلد ہی قابو سے باہر ہو گئی۔ اس آگ کے شعلے اس تیزی سے پھیلے کہ اس نے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی۔ اس سال کیلیفورنیا میں میں لگنے والی آگ کی کہانی بھی مختلف نہیں تھی کہ جس نے اپنی شدت سے سخت ترین دھاتوں کو بھی پگھلا دیا۔ حکام نے گھروں، سڑکوں اور گاڑیوں سمیت مختلف مقامات پر لاشیں پائیں کہ جو آگ کے سخت شعلوں کی وجہ سے مکمل طور پر جل چکی تھیں۔ پیراڈائز ٹاؤن اس وقت کسی جنگ کے میدان کا نظارہ پیش کر رہا ہے کہ جہاں ان افراد کی لاشیں بھی پڑی ہیں جو زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس آفت سے بچ نہیں پائے۔ مرنے والے 42 افراد کے علاوہ 200 سے زیادہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اب بھی لاپتہ ہیں جو سرچ آپریشن ٹیموں کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گزشتہ 85 سالوں میں ریاست کیلیفورنیا میں لگنے والی بدترین آگ ہے۔

امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جو بچ جانے والے افراد کو مؤثر انداز میں محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ مقامی حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تیز ہواؤں اور گرم درجہ حرارت کی وجہ سے رواں ماہ کے اختتام تک اس آگ پر قابو پانا ممکن نہیں۔

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top